’ دہشت گردی برداشت نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے سبھی براداریوں کے رہنماؤں سے اپیل کی ہے کہ ملک میں موجود دہشت گرد عناصر کو پہچانيں اور انھیں الگ تھلگ کریں۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ شدت پسندی ملک کے لیے ایک بڑی پریشانی ہے اور اس کے خلاف لڑنے میں حکومت کی سلامتی پالیسیوں سمیت عام شہری کا تعاون بہت اہمیت رکھتا ہے۔ دارالحکومت دلی میں قومی یوم قانون کے موقع پر وزير اعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ بعض افراد کی دہشت گردانہ کاروائیوں کے لیے کسی ایک برادری یا مذہب کو ذمے دار قرار دینا غلط ہے۔ مسٹر سنگھ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شدت پسندی اور انتہاپسندی کے خلاف ایک صاف اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ منموہن سنگھ کے مطابق کوئی بھی جمہوریت معصوم لوگوں کی ہلاکت برداشت نہیں کرسکتی۔ اور حکومت ان تمام گروپوں سے بات کرنے کو تیار ہے جو حکومت سے ناخوش ہیں اور تشدد کو چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کسی بھی صورت میں دہشت گردی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا ’ہر برادری اور مذہب کے لوگ امن اور عزت کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ یہ سب جانتے ہیں کہ ملک کی ترقی اور ہندوستانیوں کی خوشحالی، امن کا قیام، اتحاد سے ہی ممکن ہے‘۔ مسٹر سنگھ نے مزید کہا کہ’ شدت پسندی پر قابو پانے کے لیے باضابطہ پولیس کارروائی کے علاوہ عام شہری کی شرکت بھی اہمیت رکھتی ہے‘۔ منموہن سنگھ نے شدت پسندوں کو صرف شدت پسند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے کسی ایک مذہب اور برادری سے جوڑنا غلط ہے کیونکہ شدت پسند کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ہے۔ | اسی بارے میں ہندوستانی مسلمان، پسماندگی کا بھنور25 November, 2006 | انڈیا پاک، بھارت وزرائے خارجہ کی ملاقات 25 November, 2006 | انڈیا کشمیر: زمین کی نیلامی پر ہڑتال25 November, 2006 | انڈیا انڈیا:ضمنی انتخاب جیتنےکی دوڑ25 November, 2006 | انڈیا یونیسف کا پوسٹر تنازعے کا شکار24 November, 2006 | انڈیا کشمیر: زمین کی نیلامی پرنظرثانی 23 November, 2006 | انڈیا چینی صدر کی ممبئی آمدپر احتجاج23 November, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||