چینی صدر کی ممبئی آمدپر احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین کے صدر ہو جنتاؤ نے ہندوستان چین کے درمیان تجارتی تعلقات کو مستحکم کرنے اور باہمی رشتوں کو استوار کرنے کے لیے پانچ نکاتی پروگرام پیش کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے سرحدی تجارت کی ضرورتوں پر بھی زور دیا۔ دوسری طرف ممبئی میں چینی صدر کی آمد کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ایک تبتی باشندے نے خود سوزی کی کوشش کی ہے۔ صدر نے باہمی رشتوں کو استوار اور مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کے لیے دونوں ممالک میں آزادانہ تجارت کی پالیسی کو اپنایا جائے۔ انہوں نے تجارت میں وسعت کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو ان کے علاوہ بھی دیگر شعبوں کی نشاندہی کر کے اپنے تعلقات کو بہتر بنانا چاہیئے۔ صدر ہوجنتاؤ فیڈریشن آف انڈین چیمبرس آف کامرس اینڈ انڈسٹری ، کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری اور ایسوسیٹیڈ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری آف انڈیا کے نمائندوں کی ایک میٹنگ سے خطاب کر رہے تھے۔ صدر نے ایسے کیے تجارتی زمروں کی نشاندہی کی جس میں دونوں ممالک مشترکہ تجارت کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ موجودہ تجارتی روابط سے مطمئن نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آبادی اور رقبہ کے لحاظ سے یہ دونوں دنیا کے بڑے ممالک ہیں اور اس لیے انہیں مزید ترقی کرنے کی ضرورت ہے۔
صدر نے کہا کہ دونوں ممالک میں تجارت اور تیکنیکی تعلقات میں وسعت کا بہت امکان ہے اور اسے مزید مستحکم کیا جا سکتا ہے۔ دریں اثناء چین کے صدر ہو جنتاؤ کی ممبئی آمد پر ان کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں ایک تبتی نوجوان نے تاج ہوٹل کے سامنے خود سوزی کی کوشش کی۔ صدر ہو جنتاؤ بدھ کی شام ممبئی پہنچے تھے اور ان کا قیام ہوٹل تاج میں ہے۔ پولیس کے زبردست پہرے کے باوجود تبتی یوتھ کانگریس کے کئی رضاکار ہوٹل تاج کے سامنے جمعرات کی صبح سے ہی احتجاج کر رہے تھے۔ان میں سے چند نے ہوٹل میں گھسنے کی ناکام کوشش بھی کی۔ وہ ’آزاد تبت‘ کے لیے چینی صدر کے خلاف نعرے لگا رہے تھے کہ اسی دوران لکھپا سیرنگ ( Lhakpa Tsering )نے خود پر کیروسین ڈال لیا اور آگ لگا لی۔ پولیس نے فورا آگ بجھانے کی کوشش کی اور جھلسے ہوئے نوجوان کو سرکاری ہسپتال میں لے جایا گیا۔ اس کے بعد پولیس نے وہاں سے تمام مظاہرین کو جبری طور پر ہٹا دیا۔ صدر ہو جنتاؤ کی آمد پر تبتی یوتھ کانگریس کے کئی سو رضاکار جمعرات کو آزاد میدان میں یک روزہ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔تبت یوتھ کانگریس کے رابطہ افسر سیرنگ دھن دوپ کا کہنا تھا کہ صدر ہو جنتاؤ ایک ڈکٹیٹر ہیں اور چین نے تبت پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||