انڈیا:ضمنی انتخاب جیتنےکی دوڑ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آندھراپردیش کے کریم نگر لوک سبھا حلقہ میں رائے دہی کے لئے صرف چند دن باقی رہ گئے ہیں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان مقابلہ آرائی نقطہ عروج پر پہنچ گئی ہے۔ تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے صدر کے چندر شیکھر راو جن کے استعفے کے نتیجے میں یہ نشست خالی ہوئی تھی۔ مگرایک بار پھر وہ یہ کہتے ہوئے عوام کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ ان کی جیت ہی تلنگانہ ریاست کی تشکیل کی ضامن ہے- اسی طرح برسر اقتدار کانگریس پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی بھی تلنگانہ کے عوام کو اپنے خلوص کا یقین دلانے کی کوشش کررہی ہیں جبکہ تلگودیشم کا کہنا ہے کہ ریاست کی تقسیم اور تلنگانہ ریاست کا قیام کسی کے مفاد میں نہیں ہے- اس لیے عوام انہیں کو ووٹ دیں تاکہ وہ ریاست کی یکجہتی کی حفاظت کرسکیں- اس کشمکش اور لڑائی نے پچھلے دنوں ایک ڈرامائی موڑاختیار کرلیا جب تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے ورکروں نے حیدرآباد سے کریم نگر جانے والی ایک ایسی وین کوراستے میں روک لیا جس میں پانچ سو کرکٹ کٹس لدے ہوئے تھے۔ ٹی آر ایس کا کہنا تھا کہ یہ کٹس کانگریس پارٹی ووٹروں کو لبھانے کے لیے کریم نگر کے نوجوانوں میں تقسیم کرنے والی تھی- کانگریس کا کہنا ہے کہ انکا کرکٹ کٹس یا اس وین سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے- بیڑی مزدور سیاسی پارٹیوں کے خلاف صف آرا بیڑی جسے تمباکو نوش سگریٹ کی جگہ استعمال کرتے ہیں، کریم نگر کے ضمنی الیکشن میں ایک مرکزی موضوع بن کر ابھری ہے کیونکہ اس حلقہ میں کوئی ڈھائی لاکھ افراد ایسے ہیں جو بیڑی سازی کی صنعت سے وابستہ ہیں اور اس وقت بے حد برہم ہیں-
مرکزی حکومت کے اس فیصلہ نے ان بیڑی مزدوروں کو بے حد پریشان کردیا ہے کہ بیڑی کے ہر بنڈل پر خطرہ کا نشان یعنی انسانی کھوپڑی اور دو ہڈیاں چھاپی جائیں تاکہ ان پڑھ لوگ بھی یہ سمجھ سکیں کہ بیڑی پینا صحت کے لئے مضر ہے- بیڑی مزدور اس کی مخالفت کررہے ہیں کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ اس سے ان کا روزگار خطرے میں پڑ جائے گا- بیڑی مزدوروں کا نشانہ کانگریس پارٹی بن رہی ہے کیونکہ یہ حکم نامہ مرکزی وزارت محنت نے جاری کیا ہے لیکن کانگریس پارٹی اپنی حریف تلنگانہ راشٹرا سمیتی کو اس کے لئے مورد الزام ٹھہرا رہی ہے کیونکہ اس کے صدر کے چندر شیکھر راو اب تک وزیر محنت تھے- حیدرآباد پر سیاسی تشدد کے سائے حیدرآباد کے مسلم اکثریتی پرانے شہر میں سیاسی برتری کے لیے مجلس اتحاد المسلمین اور کمیونسٹ جماعتوں کے درمیان جاری رسہ کشی دن بہ دن شدت اختیار کرتی جارہی ہے اور اب اس میں تشدد کا عنصر بھی شامل ہوگیا ہے- گزشتہ چھ دہائیوں سے حیدرآباد کی سیاست پر مجلس کا غلبہ رہا ہے اور اس وقت حیدرآباد کی پانچ اسمبلی نشستوں پر اس جماعت کا قبضہ ہے- حیدرآباد کی لوک سبھا نشست میں بھی گزشتہ بائیس برسوں سے یہی جماعت جیتی چلی آئی ہے۔ عام طور پر سبھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ حیدرآباد کا پرانا شہر مجلس ایک ایسا قلعہ ہے جس میں شگاف ڈالنا کسی سیاسی جماعت کے بس میں نہیں ہے لیکن اب سی پی آئی اور سی پی آئی ایم اس نظریہ کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں- ان دنوں ایک طرف کمیونسٹ جماعتیں اور دوسری طرف مجلس کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات کا زبردست تبادلہ چل رہا ہے- کمیونسٹوں کا کہنا ہے کہ مجلس نے مسلمانوں کی سماجی اور معاشی ترقی کے لئے اب تک کچھ نہیں کیا اور مجلس کی سیاسی طاقت سے صرف اویسی خاندان کو ہی فائدہ پہنچا ہے- دوسری طرف مجلس کا کہنا ہے کہ کمیونٹس جماعتیں مسلم اور اسلام دشمن ہیں اور انہوں نے اپنی زیر قیادت ریاست مغربی بنگال میں مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے کچھ نہیں کیا- اس ساری کشمکش کا تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اب اس میں تشدد کے استعمال کی دھمکیاں شروع ہوگئی ہیں- پرانے شہر میں سی پی آئی ایم کے ایک کارکن پر حملے کے بعد سی پی آئی ایم نے دھمکی دی ہے کہ وہ بھی اس کے خلاف جوابی کارروائی کرے گی- مقامی لوگوں کو خدشہ ہے کہ اگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو آگے پتہ نہیں حالات کیا رخ اختیار کریں- اس ساری لڑائی کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ حیدرآباد کے دو سرکردہ اردو روزنامے ’سیاست‘ اور ’منصف‘ مجلس کا مکمل بائیکاٹ کررہے ہیں اور بائیں بازو کی جماعتوں کی تائید کررہے ہیں- جبکہ مجلس عوام تک اپنی بات پہنچانے کے لئے مکمل طور پر اپنے روزنامے ’اعتماد‘ پر انحصار کررہی ہے- فوکس ویگن ریاست سے رخصت جرمنی کی کار ساز کمپنی فوکس ویگن نے اپنا پلانٹ آندھراپردیش کے بجائے مہاراشٹرا میں قائم کرنے کا فیصلہ کرکے آندھراپردیش کی حکومت کو ایک بڑی خفت میں ڈال دیا ہے- ریاست کی کانگریسی حکومت جو مسلسل اس اعتماد کا اظہار کررہی تھی کہ یہ پروجکٹ کہیں نہیں جائے گا اور آندھراپردیش میں ہی قائم ہوگا اب نظریں چرارہی ہے جبکہ حزب اختلاف کی جماعت تلگودیشم نے اس پراجکٹ سے محرومی کے لئے کانگریس پارٹی کے نکمے پن اور کرپشن کو مورد الزام ٹھہرایا ہے- پہلے تو ریاست کے وزیر اعلی راج شیکھر ریڈی نے فوکس ویگن کے خلاف وعدہ خلافی کے لئے قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا لیکن اب انہوں نے اپنا موقف بدلتے ہوئے یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ اس پروجکٹ کے چلے جانے سےریاست کا کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا ہے کیونکہ کمپنی اس پروجکٹ میں صرف ایک ہزار تین سو پچاس کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرنے والی تھی جبکہ ریاستی حکومت نے اسے لگ بھگ اٹھارہ سو کروڑ روپے کی رعائتوں کی اور ٹیکس میں چھوٹ کی پیشکش کی تھی- | اسی بارے میں ہندوستانی مسلمان، پسماندگی کا بھنور25 November, 2006 | انڈیا اروناچل پردیش پر چینی دعویٰ مسترد24 November, 2006 | انڈیا خواتین کے ختنے پر بحث23 November, 2006 | انڈیا چینی صدر کی ممبئی آمدپر احتجاج23 November, 2006 | انڈیا بچہ مزدوری کی'پوسٹرگرل'خودمزدور 22 November, 2006 | انڈیا ’امن کے لیے مدد کو تیار ہیں‘22 November, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||