BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 November, 2006, 11:06 GMT 16:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اروناچل پردیش، چینی دعویٰ مسترد

چین، ہندوستان سرحد
ہندوستان اور چین سرحدی تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں
کانگریس کی حکومت نے حزب اختلاف کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے کہ اروناچل پردیش پر ہندوستان کی حاکمیت اعلیٰ باور کرانے کے لیے ایک متفقہ قرارداد پیش کی جانی چاہیے۔

حکومت کا موقف تھا کہ ارونا چل پردیش ہندوستان کا اٹوٹ انگ ہے اور ماضی میں اس حوالے سے قراردادیں پاس کی جا چکی ہیں ۔

چین کے صدر ہوجنتاؤ کے حالیہ دورہِ ہندوستان سے پہلے ہندوستان میں چین کے سفیر نے ایک انٹرویو کے دوران بیان دیا تھا کہ ان کا ملک اروناچل پردیش کو ہندوستان کا حصہ تسلیم نہیں کرتا ۔

لوک سبھا یعنی پارلیمان کے ایوان زیریں میں حزب اختلاف کے رہنما ایل کے اڈوانی نے زور دے کر کہا کہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا چینی سفیر کے بیان پر باضابطہ طور پر کوئی اعتراض کیا گیا ہے؟ اور اگر کیا گیا ہے تو جواب کیا ملا؟

مسٹر اڈوانی نے یہ بھی سوال کیاکہ کیا وزیر اعظم نے چینی صدر سے ملاقات کے دوران اس مسئلے پر کوئی بات کی؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پارلیمان میں متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی جائے جس میں یہ واضح کیا جائے کہ اورناچل پردیش ہندوستان کا اٹوٹ انگ ہے۔

وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے حکومت کی طرف سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ چینی سفیر کا بیان سامنے آنے کے بعد وہ واشگاف الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ اورناچل پردیش ہندوستان کا اٹوٹ انگ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس موقف کو

چینی شہری اور ویزا
 اروناچل پردیش کے سپیکر کو ويزا دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ چینی شہریوں کو چین آنے کے لیے ویزا کی ضرورت نہیں
پارلیمان میں بارہا دہرایا جا چکا ہے اور اس کے لیے اب کسی نئی قرارداد کی ضرورت نہیں۔

بعض ارکان پارلیمان کا کہنا تھا کہ یہ پہلا موقعہ نہیں ہے جب چین نے اروناچل پردیش کو ہندوستان کا حصہ ماننے سے انکار کیا ہے ۔ اس سے پہلے ایک بار ’ایشیاڈ گیمز‘ کی افتتاحی تقریب میں اروناچل کی ثقافتی ’جھانکی‘ (نمائشی فلوٹ) شامل کیے جانے پر چین نے نے اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا ’ہندوستان ہمارے حصے کو اپنے علاقہ دکھا رہا ہے‘۔

ایک اور موقعہ پر چین نے اروناچل پردیش کی اسمبلی کے سپیکر کو بیجنگ میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے ويزا دینے سے انکار کر دیا تھا۔ چین کی وزارت خارجہ نے اس وقت کہا تھا کہ چین کے شہریوں کو چین آنے کے لیے ویزا لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

کئی ارکان نے حکومت کو مشورہ دیا کہ چین کو اروناچل پردیش پر ہندوستانی موقف واضح طور بتا دینا چاہیے۔لیکن وزیر خارجہ پرنب مکھرجی کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں مسلسل بہتری آرہی ہے اور سرحدی تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد