BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ریزرویشن کا مقدمہ بڑے بنچ کے حوالے

آندھراپردیش ( فائل فوٹو)
آندھراپردیش ہائی کورٹ میں پہلی مرتبہ سات رکنی بنایا جا رہا ہے
آندھراپردیش میں مسلمانوں کے پسماندہ گروپوں کو سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں تحفظ دینے کے فیصلے کے خلاف درخواستوں کی سماعت ایک بڑے بنچ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

فیصلے کے تحت چودہ پسماندہ گروپوں کو چار فیصد کوٹہ دیے جانے کے فیصلے کے خلاف داخل کی گئی درخواستوں کی جو سماعت تقریبا تین ماہ تک ایک پانچ رکنی بنچ کے حوالے تھی اب ایک سات رکنی بنچ کرے گا۔

اب تک جو پانچ رکنی بنچ اس معاملے کی سماعت کر رہا تھا اس میں جسٹس ٹی مینا کماری، جسٹس بی پرکاش راؤ، جسٹس ڈی ایس آر ورما، جسٹس اے گوپال ریڈی اور جسٹس وی ایشوریا شامل تھے۔

بنچ کے فیصلے کے بعد چیف جسٹس اے آر داوے کو ایک نیا سات رکنی بنچ تشکیل دینا پڑے گا اور شاید یہ نیا بنچ اس مقدمہ کی ازسر نو سماعت شروع کرے گا۔

یہ آندھراپردیش ہائی کورٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ کسی مقدمہ کی سماعت کے لیے سات رکنی بنچ تشکیل دیا گیا ہے۔

مقدمہ کو بڑے بنچ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے جسٹس ٹی مینا کماری نے فریقوں سے ان کی رائے طلب کی۔ مسلمانوں کو تحفظات دینے کی مخالفت کرنے والے تمام وکیلوں نے سات رکنی بنچ کی تجویز کی مخالفت کی، جبکہ ریاستی حکومت کی نمائندگی کرنے والے ایڈوکیٹ جنرل بی وی موہن ریڈی نے اس تجویز پر غیر جانبدارانہ موقف اختیار کیا۔

عدالت کا کہنا تھا چونکہ اس معاملے پر پانچ رکنی بنچ میں اختلافات پائے جاتے ہیں اور کئی قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس لیے ایک جامع فیصلے کے لیے سات رکنی بنچ کی تشکیل ضروری ہے۔

فائل فوٹو
بعض طلبا نے بھی مسلم گروپوں کو ریزرویشن دینے کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست داخل کی تھی

مسلمانوں کے چودہ پسماندہ طبقات کوچار فیصد ریزرویشن دینے کا فیصلہ ریاستی حکومت نے گزشتہ برس جولائی میں کیا تھا۔ یہ فیصلہ جسٹس ڈی سبرامنیم کی زیر قیادت ریاستی ’پسماندہ طبقات کمیشن‘ کی رپورٹ کی بنیاد پر کیا گیا جس میں پیشوں کی بنیاد پر مسلمانوں کے چودہ گروپوں کی پسماندہ طبقات کی حیثیت سے نشاندہی کی گئی تھی۔

وشواہندو پریشد، بی جے پی اور پسماندہ طبقات کے کچھ اور لیڈروں کے علاوہ کچھ طلبا نے بھی مسلم گروپوں کو ریزرویشن دینے کی قانونی اور دستوری حیثیت کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں درخواست داخل کی تھی لیکن اس وقت تک اکثر میڈیکل اور انجینیرنگ کالجوں جیسے پیشہ ورانہ تعلیم کے اداروں میں داخلوں کا عمل پورا ہوچکا تھا اور ان کی چار فیصد سیٹیں ریزرویشن کی بنیاد پر مسلم طلبا اور طالبات کو دے دی گئی تھیں۔ اس وقت صرف بی ایڈ اور بی فارمیسی کی 213 نشستوں پر مسلم امیدواروں کے داخلہ باقی تھے کہ عدالت نے اس کے خلاف حکم التوا جاری کردیا۔

یہ مقدمہ کافی طوالت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے اس لیے جمیعت العلماء کے وکیل مسعود سید نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ ان داخلوں کو پورا کرنے کی اجازت دے۔

یہ بات اہم ہے کہ اب تک اس سماعت کے دوران ریزرویشن کے مخالف وکیلوں کو بار بار ججوں کے ان سوالوں کا سامنا کرنا پڑا کہ آخر وہ مسلم پسماندہ گروپوں کو ریزرویشن دینے کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں جبکہ مسلمانوں نے کبھی ہندو پسماندہ گروپوں کو ریزرویشن دینے کی مخالفت نہیں کی۔

ججوں نے مخالف وکیلوں سے یہ بھی پوچھا کہ وہ کسی کو ریزرویشن دینے یا نہ دینے کے حکومتی اختیار کو کس طرح چیلنج کرسکتے ہیں جبکہ پسماندہ طبقات کمیشن نے ان گروپوں کو پسماندہ قرار دیا ہو۔ مقدمے کی اگلی سماعت سات رکنی بنچ کی تشکیل کے بعد ہی شروع ہوگی۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ریاست میں کانگریسی حکومت نے 12 جولائی سنہ دو ہزار چار کو اور 17 جون سنہ دو ہزار پانچ کو دو مرتبہ مسلم اقلیت کو پانچ فیصد تحفظات دینے کے فیصلے کیے تھے لیکن دونوں ہی بار ریاستی ہائی کورٹ نے اسے غیر دستوری قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا تھا۔

چندر بابو نائیڈوبِہار کے بعد آندھرا
نچلی ذاتیں اپنی اہمیت محسوس کر رہی ہیں
ہندوستانی مسلمانہندوستانی مسلمان
ریزرویشن کے معاملے پرمل کر کام کریں گے
دلت خواتینریزرویشن بِل
نچلی ذاتوں کے مخصوص کوٹے کی منظوری
ریزرویشن کی بحث
’ہندوستان میں 70 فیصد مسلمان پسماندہ‘
دلتکوٹے کی سیاست
پسماندہ افراد کے لیئے کوٹہ پر تنازعہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد