BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 24 April, 2007, 12:01 GMT 17:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ریزرویشن: آئندہ سماعت آٹھ مئی کو
سپریم کورٹ نے اس معاملے کی سماعت اگست میں رکھی تھی
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے پسماندہ ذاتوں (اوبی سی) کے لیے اعلیٰ تعلمی اداروں میں ریزرویشن کے متعلق مرکزی حکومت کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے اس معاملے کی اگلی سماعت آٹھ مئی کو طے کی ہے۔

مرکزی حکومت نے منگل کے دن سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے درخواست کی تھی کہ ’او بی سی‘ ریزرویشن کی سماعت جلدی کی جائے۔ پیر کے روز سپریم کورٹ کی ایک بینچ نے پسماندہ طبقوں کے لیے ریزرویشن کے متعلق آئندہ سماعت اس سال اگست میں رکھی تھی۔

اٹارنی جنرل ملن کے بنرجی نے چیف جسٹس کے جی بالا کرشنن کی سربراہی میں قائم ایک بینچ کے سامنے پیش ہوئے اور کہا: ’یہ معاملہ مفاد عامہ کا ہے اور اگر اس معاملے کی سماعت جلدی نہيں کی گئی تو بڑی تعداد میں طلبہ اس سال داخلے سے محروم ہو جائیں گے۔‘

حکومت نے یہ درخواست تب دی ہے جب اریجیت پسایت اور ایل ایس پٹنہ کی ایک بینچ نے پیر کے روز پسماندہ ذاتوں کے لیے اعلی تعلمی اداروں میں نشستیں مخصوص کرنے والے بِل پر پابندی کو جاری رکھنے کا حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ رواں تعلیمی سال پسماندہ ذاتوں کو ریزرویشن سے فائدہ نہيں مل سکتا ہے۔

ریزرویشن پر عدالت کا موقف
 عدالت کا کہنا تھا کہ پسماندہ ذاتوں کے لیے قابل اعتبار جائزے کی عدم موجودگی میں ریزرویشن نافذ نہیں کیا جاسکتا ہے، حکومت نے پسماندہ ذاتوں کے لیے سیٹیں مخصوص کرنے کا جو پیمانہ متعین کیا ہے اس کی بنیاد 1931 کی مردم شماری ہے جوغیرمستند ہے۔
عدالت نے حکومت سے کہا تھا: ’ آپ لوگوں نے چھپّن سال تک ریزرویشن کے لیے انتظار کیا ہے تو ایک سال اور کیوں نہیں انتظار کر سکتے ہیں، اتنی جلدی بازی کیوں ہے؟‘

خیال رہے کہ انتیس مارچ کو سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے اعلی تعلیمی اداروں میں پسماندہ طبقوں کے لیے ستائیس فیصد نشستیں مخصوص کرنے کے حکومتی فیصلے پر حکم امنتاعی جاری کر دیا تھا۔

عدالت کے اس فیصلہ کے بعد مرکزی حکومت نے گزشتہ روز سپریم کورٹ میں درخواست داخل کر کے اعلی تعلمی اداروں میں پسماندہ طبقوں کے لیے ریزرویشرن پر پابندی ختم کرنے کی گزارش کی تھی۔ تاہم عدالت نے اسے مسترد کر دیا تھا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ پسماندہ ذاتوں کے لیے قابل اعتبار جائزے کی عدم موجودگی میں ریزرویشن نافذ نہیں کیا جاسکتا ہے، حکومت نے پسماندہ ذاتوں کے لیے سیٹیں مخصوص کرنے کا جو پیمانہ متعین کیا ہے اس کی بنیاد 1931 کی مردم شماری ہے جوغیرمستند ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ حکومت پہلے پسماندہ ذاتوں کے اعداد و شمار کا صحیح تعین کرے تاکہ پسماندہ ذاتوں کے زمرے میں آنے والی تمام ذاتوں کے بارے میں پوری اور مکمل معلومات حاصل کی جا سکے۔

پسماندہ طبقے کا کوٹے سپریم کورٹ کی تائید
’کوٹہ کے مطابق ترقیوں کی آئینی ترمیم صحیح‘
دلتکوٹے کی سیاست
پسماندہ افراد کے لیئے کوٹہ پر تنازعہ
بہار میں مظاہرے
’غریب خاندانوں کی فہرست میں گڑ بڑ‘
نتیش کی مشکل
کوٹہ پر بہار کے وزیراعلیٰ کی مشکل
دلت خواتینریزرویشن بِل
نچلی ذاتوں کے مخصوص کوٹے کی منظوری
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد