BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 March, 2007, 07:26 GMT 12:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پسماندہ ذات، ریزرویشن پر روک
سپریم کورٹ کا فیصلہ عبوری ہے
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے اعلی تعلیمی اداروں میں پسماندہ ذاتوں کے لیے 27 فیصد نشستیں مخصوص کرنے کے حکومتی فیصلہ پر روک لگا دی ہے۔

عدالت کا کہنا ہےکہ پسماندہ ذاتوں کے لیے قابل اعتبار جائزے کی عدم موجودگی میں ریزرویشن نافذ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ عدالت نے پسماندہ ذات کے لیے ریزرویشن پر رواں تعلیمی سال کے لیے ہی روک لگائی ہے۔

ریزرویشن کے اس فیصلے کو متعدد افراد نے اس بنیاد پر چیلنج کیا تھا کہ حکومت نے پسماندہ ذاتوں کے لیے سیٹیں مخصوص کرنے کا جو پیمانہ متعین کیا ہے اس کی بنیاد 1931 کی مردم شماری ہے جوغیرمستند ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ حکومت پہلے پسماندہ ذاتوں کے اعداد و شمار کا صحیح تعین کرے تاکہ پسماندہ ذاتوں کے زمرے میں آنے والی تمام ذاتوں کے بارے میں پوری اور مکمل جانکاری حاصل کی جا سکے۔ بعض عرضی گزاروں نے پسماندہ ذاتوں کو رزرویشن دینے کے آئینی جواز کو چیلنج کیا تھا۔

اس معاملے کی آئندہ سماعت اگست میں ہوگی۔

پارلیمان کا ریزرویشن بِل
 گزشتہ برس ہندوستان کی پارلیمان نے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پسماندہ ذاتوں کے لیے 27 فیصد نشستیں مخصوص کرنے کا بِل منظور کیا تھا۔ اس کے تحت انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ جیسے باوقار اداروں سمیت تمام مرکزی تحقیقی تعلیمی اداروں میں مسلمانوں سمیت تمام مذاہب کے پسماندہ طلباء کے لیے 27 فیصد سیٹیں مختص کی جانی تھی۔
خیال رہے کہ گزشتہ برس ہندوستان کی پارلیمان نے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پسماندہ ذاتوں کے لیے 27 فیصد نشستیں مخصوص کرنے کا بِل منظور کیا تھا۔ اس کے تحت انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ جیسے باوقار اداروں سمیت تمام مرکزی تحقیقی تعلیمی اداروں میں مسلمانوں سمیت تمام مذاہب کے پسماندہ طلباء کے لیے 27 فیصد سیٹیں مختص کی جانی تھی۔

مختلف جائزوں کے مطابق ہندوستانی آبادی میں دلت اور قبائلی ساڑھے 22 فیصد ہیں جبکہ پسماندہ ذاتوں کا تناسب پچاس فیصد سے زیادہ ہے۔

ملک میں اعلی ذات کے ہندوؤں کی تعداد پچیس فیصد سے کم ہے لیکن تعلیمی اداروں اور ملازمتوں میں روایتی طور پر ان اعلی ذات کے ہندوؤں کا غلبہ رہا ہے۔
تعلیمی اداروں میں پسماندہ ذاتوں کے طلبہ کی نمائندگی بہتر کرنے کے لیے ہی حکومت نے ریزرویشن دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اگرچہ عبوری ہے لیکن آئندہ تعلیمی سال سے ریزرویشن کے نفاذ پر روک لگنے سے ریزروشن کے حامیوں کو زبردست دھچکا پہنچا ہے۔

دلتکوٹے کی سیاست
پسماندہ افراد کے لیئے کوٹہ پر تنازعہ
ریزرویشن کی بحث
’ہندوستان میں 70 فیصد مسلمان پسماندہ‘
دلت خواتینریزرویشن بِل
نچلی ذاتوں کے مخصوص کوٹے کی منظوری
سیاست اور سماج
بہار پنچایتی انتخابات: ایک خاموش انقلاب
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد