BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 March, 2007, 09:06 GMT 14:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’غریب خاندانوں کی فہرست میں گڑ بڑ‘

فائل فوٹو
’بہار میں تین کروڑ افراد خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں‘
ریاست بہار میں غریب خاندانوں کی فہرست میں مبینہ گڑ بڑ کی شکایات کے بعد غریب خاندان احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔

خط ِغربت سے نیچے زندگی گزارنے والے یا بِلو پاورٹی لائن (بی پی ایل) خاندانوں کو ریاستی حکومت رعایتی قیمت پر اناج اور کراسن تیل فراہم کرنے کے لیے کوپن تقسیم کر رہی ہے۔ کوپن لینے کے لیے جمع ہونے والے لوگ جب ’بی پی ایل‘ کی فہرست میں اپنا نام درج نہیں پاتے ہیں تو وہ مظاہرے شروع کر دیتے ہیں۔

اس مقصد کے لیے مرکزی حکومت کی مرتب کردہ ’بی پی ایل‘ فہرست میں کسی خاندان کو شامل کرنے کے لیے بعض شرائط متعین کی گئی ہیں۔ مثال کے طورپر روزانہ کی آمدنی، مکان اور گھریلو سامان وغیرہ۔ ان شرائط کی بنیاد پر ہر خاندان کو دیے جانے والے مخصوص نمبر جمع کیے جاتے ہیں۔ ان نمبروں کی بنیاد پر یہ طے کیا جاتا ہے کہ کون سا خاندان خطِ غربت کے نیچے زندگی گزار رہا ہے اور کون سا اس سے اوپر ہے۔

ریاست بہار کی سابق وزیراعلیٰ رابڑی دیوی سمیت حزبِ اختلاف کی جماعتیں’بی پی ایل‘ کی فہرست میں حکومتی بد عنوانی کی شکایت کر رہی ہیں۔ بی پی ایل کی اس فہرست میں گڑبڑ کی شکایت صرف سیاسی الزام تراشیوں تک محدود نہیں بلکہ بڑے پیمانے پر اس فہرست کو تیار کرنے میں بھی دھاندلی برتے جانے کی شکایات مل رہی ہیں۔

جمعرات کو بیگو سرائے میں ایسے ہی ایک مظاہرے کے دوران مظاہرین پر کی جانی والی فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ جمعہ کو سہرسہ میں مشتعل ہجوم نے ٹرینیں روک لیں اور سیوان میں مظاہرے کے دوران متعدد خواتین زخمی ہو گئیں۔ مختلف علاقوں سے انتظامیہ کے افسران کو یرغمال بنائے جانے کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔

خطِ غربت
 فہرست میں کسی خاندان کو شامل کرنے کے لیے بعض شرائط متعین کی گئی ہیں۔ مثال کے طورپر روزانہ کی آمدنی، مکان اور گھریلو سامان وغیرہ۔ ان شرائط کی بنیاد پر ہر خاندان کو دیے جانے والے مخصوص نمبر جمع کیے جاتے ہیں۔ ان نمبروں کی بنیاد پر یہ طے کیا جاتا ہے کہ کون سا خاندان خطِ غربت کے نیچے زندگی گزار رہا ہے اور کون سا اس سے اوپر ہے

لوگوں کو شکایت ہے کہ اس فہرست میں اصلی غرباء کے نام چھوڑ کر بڑے پیمانے پر ان لوگوں کے نام شامل کیے گئے ہیں جو کھاتے پیتے گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

اس فہرست میں گڑبڑ کا اعتراف ریاست کے دیہی ترقی کے وزیر ویدیہ ناتھ پرساد مہتو بھی کر چکے ہیں جن کا نام بھی اس فہرست میں شامل کر دیا گیا تھا۔

وزیراعلیٰ نتیش کمار کے مطابق ’ بی پی ایل‘ خاندانوں کے لیے رعایتی اشیاء مرکز کی معاونت سے ملتی ہیں اور خاندانوں کو اس فہرست میں شامل کرنے کا پیمانہ بھی مرکزی حکومت نے ہی مقرر کیا ہے۔ اس پیمانے کے مطابق تقریباً پینسٹھ لاکھ خاندان ’بی پی ایل‘ کی فہرست میں ہیں جبکہ وزیراعلیٰ نتیش کمار کے مطابق یہ تعداد ایک کروڑ ہونی چاہیے۔

اپنے دفاع میں نتیش کمار کہتے ہیں کہ یہ فہرست رابڑی دیوی کے زمانے میں تیار کی گئی تھی اور ان کی حکومت میں اس میں صرف ضروری ترمیم کی گئی ہے۔

ریزرو بینک آف انڈیا کے اعداد و شمار کے مطابق بہار کی آٹھ کروڑ سے زائد آبادی میں تین کروڑ سے زائد افراد خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

’ترقی اور غربت‘
سنہ 2040 تک غربت پر قابو پانے کا بھارتی دعویٰ
غریب بچہانڈیا کی انفرادیت
جتنی تیز تر ترقی اتنی زیادہ غربت
اسی بارے میں
سب سےبڑی غربت مٹاؤ سکیم
02 February, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد