اللہ بھوکا اٹھاتا ہے، بھوکا سلاتا نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بزرگوں سے سنا تھا کہ اللہ بھوکا اٹھاتا ہے لیکن بھوکا نہیں سلاتا ۔بھارتی ریاست مہاراشٹر کے شہر ممبئی میں کہاوت ہے کہ یہاں کوئی بھوکا نہیں سوتا۔ مطلب یہ کہ اگر آپ محنت کش ہیں تو دن بھر محنت کے بعد اتنی رقم ضرور مل جاتی ہے کہ آپ اپنا اور افراد خانہ کا پیٹ بھر سکیں لیکن اگر آپ محنت کرنا نہیں چاہتے اور تن آسانی آپ کا شیوہ ہے تو آپ کہیں بھی کھڑے ہو کر بھیک مانگیے یہاں خیرات دینے والوں کی کمی نہیں ہے۔ ممبئی کا ایک فقیر روزانہ اوسطاً سو روپیہ سے زیادہ کما لیتا ہے لیکن یہ شاید چونکانے والی بات نہیں ہے حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ یہاں فقیروں کو کھانے کے بدلے کوپن ملتے ہیں جس کے بدلے میں وہ رقم حاصل کر لیتے ہیں اور دوسرے یہاں فقیروں کے بیٹھنے کی جگہ بھی فروخت ہوتی ہے۔ ممبئی میں بزرگان دین اور اولیائے کرام کے مزارات ہیں جن کے باہر کھڑے فقیروں (بھکاریوں ) کو لوگ خیرات دیتے ہیں اور انہیں کھانا تقسیم کیا جاتا ہے لیکن ممبئی کے ہی ایک علاقہ ماہم میں حضرت مخدوم مہائمی کا مزار مبارک ہے۔ یہاں بھی زائرین کا میلہ سا لگا رہتا ہے ۔ ہر درگاہ کی طرح یہاں بھی بھکاریوں کی بھیڑ رہتی ہے اور مزار میں آنے والے انہیں خیرات دیتے ہیں لیکن یہاں کی ایک بات دیگر مقامات سے مختلف ہے درگاہ کے اطراف میں سات ہوٹل ہیں اور ان ہوٹلوں کے باہر بھکاری بیٹھے رہتے ہیں۔ لوگ ہوٹل پر جا کر ہوٹل کے مینجر کو رقم دیتے ہیں۔ جتنے فقیروں کو کھانا کھلانا ہے اتنی رقم کے کوپن ہوٹل سے خیرات کرنے والے کو دیے جاتے ہیں اور وہ اسے بھکاریوں میں تقسیم کر دیتے ہیں۔ کوپن لے کر بھکاری ہوٹل میں جاتا ہے اور اسے اتنی رقم کے بدلے کھانا مل جاتا ہے۔
دن میں ایک ایک فقیر کو کئی کوپن ملتے ہیں اور وہ کھانا صرف تین مرتبہ ہی کھا سکتا ہے اس لیے زائرین سے کوپن لینے کے بعد وہ کوپن واپس ہوٹل کے مینجر کو دے دیتا ہے اور اس کے بدلے ہوٹل سے اسے رقم کا تین فیصد حصہ مل جاتا ہے۔ کوپن متوازی کرنسی ہے اس لیے غیر قانونی ہے۔ پولیس نے کئی مرتبہ ہوٹلوں پر چھاپہ مارا اور کوپن تقسیم کرنے سے منع کیا لیکن پھر وہ بھی سختی نہیں برتتی کیونکہ پولیس کی عقیدت حضرت مخدوم مہائمی سے بہت پرانی ہے۔ آج بھی ہر جمعرات کو مقامی پولیس سٹیشن کا دستہ مزار پر سلامی دیتا ہے اور ہر عرس پر پہلی چادر پولیس کے محکمے کی جانب سے ہی چڑھائی جاتی ہے۔
ان بھکاریوں میں ہر مذہب کے لوگ ہوتے ہیں۔ ان میں بعض محنت کش مزدور بھی ہوتے ہیں جو اپنے گاؤں سے ممبئی کمانے کی خاطر آتے ہیں اور دن کے دونوں وقت ہوٹل کے باہر بیٹھ جاتے ہیں۔ کھانا ملتے ہی کام پر واپس چلے جاتے ہیں اور کھانے پینے پر خرچ ہونے والی رقم بچ جاتی ہے جسے وہ اپنے وطن بھیج دیتے ہیں اور وہاں کسی کو پتہ نہیں چلتا کہ ممبئی میں ان کا اپنا کس طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ ہوٹل کے باہر بھکاری عورتوں کی بھیڑ الگ رہتی ہے ان میں ایسی عورتیں بھی ہیں جولوگوں کے گھروں میں برتن مانجھنے اور کپڑا دھونے کا کام کرتی ہیں اور پھر کھانا یہاں آ کر کھاتی ہیں ان میں اکثر ایسی بھی ہیں جو کام کرنا نہیں چاہتی ہیں خود بھی اور اپنے بچوں سے بھی بھیک منگواتی ہیں ۔پھر بچے بھیک مانگ کر جیتے ہیں اور پیسے لے کر سگریٹ پیتے ہیں یا پھر فلمیں دیکھتے ہیں۔
وجے تانا جی پوار رتناگیری کے رہنے والے ہیں ۔وہاں ان کے بال بچے ہیں ۔کمانے کے لیے ممبئی آئے۔ یہاں شادیوں میں ویٹر بن کر کام کرتے ہیں۔ ایک شادی میں کام کرنے کا سو روپیہ مل جاتا ہے وہ اسے گاؤں بال بچوں کے پاس بھیج دیتے ہیں لیکن دونوں وقت کھانا کھانے کے لیے یہاں ہوٹل کے باہر بھکاریوں کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں۔ ان کے گھر والوں کو پتہ نہیں کہ وہ خیرات کا کھانا کھا کر جی رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ’ کیا کروں مہنگائی کا زمانہ ہے ۔گھر میں جوان بیٹی شادی کے لئے بیٹھی ہے، جہیز جمع کرنا ہے،گاؤں میں بیوی کے ساتھ ماں بھی ہے، کوئی ہنر نہیں آتا تھا اس لئے ممبئی آ گیا تاکہ کچھ کما سکوں‘۔ ان کے مطابق کچھ لوگوں نے انہیں ان کیٹررز سے ملایا جن کا کھانا شادیوں میں جاتا ہے۔ اس لیے جب آرڈر ملتا ہے تو ہماری ٹولی ویٹر بن کر جاتی ہے اس رات وہیں کھانا مل جاتا ہے لیکن ہر دوپہر یا پھر جب شادیوں کا سیزن نہیں ہوتا تو وہ یہاں آجاتا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہاں میرے مذہب کا کوئی فرد مجھے نہیں دیکھ سکتا اور کسی کو معلوم نہیں لیکن اگر کسی نے دیکھ لیا تو وہ میرے لیے موت کا دن ہو گا۔ محمد عارف پٹے باز الہ آباد کے رہنے والے ہیں ۔ماں باپ کھیتی باڑی کر کے گزارہ کرتے ہیں ۔ سات سال کی عمر میں ایک ٹرک کے نیچے آنے کی وجہ سے بایاں پیر کٹ گیا ۔غریب گھرانہ اور اس پر چھ بھائی بہن۔ کسی نے کہا کہ ممبئی چلے جاؤ وہاں معذوروں کو بھیک مل جاتی ہے ۔آٹھ سال پہلے ممبئی آئے اور تب سے یہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ’معذوری کی وجہ سے کام نہیں کر پاتا تھا اس لیے بھائیوں پر بوجھ بن گیا تھا۔ آٹھ سال قبل ممبئی چلا آیا ۔تب سے بھیک مانگ رہا ہوں۔معذور ہوں اس لیے بھیک اچھی مل جاتی ہے اور کھانا یہاں ہوٹل میں کھاتا ہوں ۔اب تو گھر بھی رقم بھیجنے کی حیثیت ہو گئی ہے‘۔
موہن منیشور بہار میں سیوڑی گاؤں کا رہنے والا ہے۔ بچپن میں پولیو ہو گیا تھا۔ باپ کوئلے کی کان میں ملازم ہے موہن کو بھیک مانگنا پسند نہیں تھا اس لیے ممبئی آنے سے قبل وہ لکھنؤ میں زیورات میں نگینے جڑنے کا کام کرتا تھا اور ہر ماہ ڈیڑھ ہزار کے قریب کما لیتا تھا لیکن وہ کام بند ہو گیا اور وہ بے روزگار ہو گیا ۔مجبوری اسے ممبئی لے آئی اور آج وہ ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ صرف معذور اور بے سہارا اور مجبور ہی یہاں بھیک مانگتے ہیں۔ سرخ رنگ کی شرٹ اور گلے میں چین پہنے عبدالمتین سترہ سال کا ہے۔ ممبئی کے ہی علاقہ دھاراوی میں رہتا ہے ۔یہ ایشیاء کی سب سے بڑی جھونپڑ پٹی کہلاتی ہے۔ باپ نہیں ہے اور ماں گھریلو کام کاج کرتی ہے ۔دن بھر آوارہ لڑکوں کے ساتھ گھومنا پھرنا اس کا شیوہ بن چکا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پڑھائی میں دل نہیں لگا اور کام کرنا نہیں چاہتا ہوں۔ ہیرو بننا تھا لیکن اب معلوم ہوا کہ اس کے لیے بھی پڑھائی ضروری ہے ۔لیکن کیا کروں اب بھیک مانگتا ہوں۔ شرم نہیں آتی، پیٹ بھرنا ہے کوپن کے پیسوں سے دوستوں کے ساتھ موج مستی کر لیتا ہوں‘۔ محمد سلیم بنگال سے ممبئی آئے۔ یہ لوگ خاندانی بھکاری ہیں یعنی ان کی نسل در نسل بھیک مانگتی ہے اور اس کے علاوہ یہ کوئی کام نہیں کرتے ۔چار سال پہلے سلیم ممبئی آئے کیونکہ بنگال میں بھیک زیادہ نہیں ملتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ وہاں اب بھی لوگ دس اور بیس پیسہ بھیک میں دیتے ہیں جبکہ ممبئی میں ایک روپیہ سے کم بھیک نہیں ملتی اور کھانا کپڑا مفت مل جاتا ہے ۔یہاں سخی ،فیاض لوگ بہت ہیں‘۔
ممبئی میں باہر سے آنے والا ہر دوسرا شخص حضرت حاجی علی بابا کی درگاہ پر حاضری دینے ضرور جاتا ہے۔ سمندر کے بیچوں بیچ ہونے کی وجہ سے بھی درگاہ لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کراتی ہے۔ وہ راستہ جو درگاہ کی طرف جاتا ہے ایک کلومیٹر لمبا ہے اور اس پر بیٹھنے کے لیے جگہ فروخت ہوتی ہے۔ یہاں آنے والے عقیدتمندوں کا تانتا لگا رہتا ہے اس لیے بھی خیرات بہت ملتی ہے۔ ایک مقامی دکاندار کا کہنا ہے کہ وہ فقیر جو درگاہ کے قریب بیٹھتے ہیں ، جمعرات اور جمعہ کو چار سو سے پانچ سو روپیہ روزانہ کما لیتے ہیں اس لیے قریب بیٹھنے کے لیے ان میں جھگڑے ہوا کرتے ہیں اور کچھ مقامی شرپسند جگہ کا پیسہ وصول کرتے ہیں۔ مختار احمد کو یہ جگہ چھ ماہ پہلے ہی ملی ہے۔ پہلے اس کی جگہ’بابو‘ بیٹھتا تھا۔اسے اپنے گاؤں جانا تھا اس لیے مختار نے اسے جگہ دینے کے ایک ہزار روپے دیے ہیں اور چھ ماہ بعد جب بابو واپس آئے گا تو اسے یہ جگہ دینی ہوگی لیکن اس دوران مختار ہزاروں روپیہ کما چکا ہو گا۔
منی لال ایک سال پہلے یہاں آیا تھا ۔وہ یہاں آ کر بہت خوش ہے کیونکہ بغیر محنت کے وہ اتنا کما لیتا ہے کہ کھولی (مکان ) کا کرایہ دے سکے ، دن میں کھانا کھائے اور رات میں دیسی شراب پی کر فلم دیکھنے جا سکے اور یہ سب اس لیے کہ ممبئی میں خیرات کرنے والوں کی کمی نہیں ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح خیرات کر کے انہوں نے بہت ثواب کمایا ہے ۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||