بھارت میں سستی دواؤں کا دور ختم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں لوک سبھا نے ایک متنازعہ مسودۂ قانون منظور کرلیا ہے جو مقامی دوا ساز کمپنیوں کو اس بات سے روک سکتا ہے کہ پیٹنٹ دواؤں کے اجزا سے عام لیکن سستی دوائیں بنالیں۔ بل کے خلاف مہم چلانے والے گروپ حکومت پر زور دے رہے تھے کہ ایسا نہ کیا جائے ورنہ لاکھوں غریب بیمار دواؤں سے محروم ہو جائیں گے۔ دنیا بھر میں ایچ آئ وی کے مریضوں میں سے آدھے بھارت سے درآمد شدہ سستی دواؤں پر انحصار کرتے ہیں۔ موجودہ مخلوط حکومت نے یہ قانون تجارت کی عالمی تنظیم کی ہدایت پر عمل کے لیے تیار کیا ہے۔ لوک سبھا میں حزب اختلاف بی جے پی یہ کہتی ہوئی واک آؤٹ کرگئی کہ حکومت بین الاقوامی دوا ساز کمپنیوں کے ہاتھوں بک گئی ہے۔ کئی بین الاقوامی امدادی ایجنسیوں نے بھی اس بل کے بارے میں عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ نیا قانون پیٹنٹ کے قوانین کو بدل دے گا جس کے تحت یہ اجازت تھی کہ پیٹنٹ دوا کی نقل تیار کی جاسکتی ہے بشرطیکہ اس کے بنانے کا طریقہ دوسرا اختیار کیا جائے اور اس آسانی کی وجہ سے بھارت کوئی تیس سال سے دوا سازی کی صنعت میں آگے آگے رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||