آندھرا پردیش بھی بہار کی راہ پر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریاست آندھراپردیش کی سیاست رفتہ رفتہ شمالی ہند کی ریاستوں اترپردیش اور بہار کے نقش قدم پر جا رہی ہے۔ جس طرح بہار اور اترپردیش میں پسماندہ طبقات اور دوسری کمزور ذاتوں نے اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے اسی طرح آندھراپردیش میں بھی پسماندہ ذاتیں اپنی انتخابی اہمیت کو محسوس کرنے لگی ہیں۔ لیکن ایک فرق یہ ہے کہ اترپردیش اور بہار میں تو کمزور ذاتوں کی اپنی پارٹیاں برسر اقتدار آئیں ہیں لیکن آندھراپردیش میں موجودہ پارٹیاں ہی پسماندہ ذاتوں کو رجھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس کی تازہ مثال تلگودیشم پارٹی کی وہ زبردست ’بی سی گرجنا ‘ ریلی ہے جو ورنگل میں منعقد ہوئی اور جس میں کم و بیش پانچ لاکھ سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی۔ حالانکہ تلگودیشم کے قائد چندرابابو نائیڈو اونچی ذات سے تعلق رکھتے ہیں لیکن انہوں نے محسوس کرلیا ہے کہ اگر تلگودیشم اقتدار میں واپس آسکتی ہے تو ایسا صرف پسماندہ ذاتوں کی تائید سے ہو سکتا ہے کیونکہ پسماندہ ذاتیں آندھراپردیش کی آٹھ کروڑ کی آبادی میں باون فیصد حصہ رکھتی ہیں۔ چنانچہ پسماندہ ذاتوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے نائیڈو نے ہر طرح کے وعدے کیے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ٹی ڈی پی اسمبلی اور پارلیمنٹ کے انتخابات میں اپنے تینتیس فیصد ٹکٹ لازمی طور پر پسماندہ ذاتوں کو دے گی اور بعد میں اسمبلی اور پارلیمنٹ کی تینتیس فیصد نشستیں پسماندہ ذاتوں کے لیے محفوظ کرنے کے سلسلہ میں قانون بنائے گی۔
اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اقتدار پر آنے پر وہ تمام پسماندہ خاندانوں کو مفت زمین اور گھر دے گی اور گھروں کی تعمیر کے لیے پہلے سے جو قرض لیے گئے ہیں انہیں معاف کردے گی اور پسماندہ ذاتوں کے لیے اگلے بجٹ میں دو ہزار کروڑ روپے کا پیکیج فراہم کرے گی۔ قومی سطح پر بھی پسماندہ ذاتوں پر اثر انداز ہونے کے لیے انہوں نے کہا کہ وہ پورے ملک میں مردم شماری کے ذریعہ پسماندہ ذاتوں کی صحیح آبادی کا تعین کرنے کا بھی مطالبہ کریں گے تاکہ اسی بنیاد پر انہیں سیاسی اقتدار اور بجٹ میں جائز حصہ مل سکے۔ مبصرین کے مطابق کئی وجوہات کی بنا پر نائیڈو کو پسماندہ ذاتوں پر مرکوز حکمت عملی اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ ایک طرف خود پسماندہ ذاتوں کے اندر اس بات پر بے چینی بڑھتی جا رہی ہے کہ انہیں اکثریت میں ہونے کے باوجود سیاسی اقتدار میں ان کا حصہ نہیں ملا ہے، دوسری طرف تلگودیشم پارٹی کے اندر دیویندر گوڑ جیسے پسماندہ طبقات کے سینئر رہنما ہیں جو پارٹی سے نکلنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ تیسری بات یہ ہے کہ علیحدہ تلنگانہ کے مطالبہ سے جو صورتحال پیدا ہو رہی ہے اس کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی نائیڈو کو ایک نئے ہتھیار کی ضرورت ہے کیونکہ ان کی پارٹی ریاست کی تقسیم کے خلاف ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر پسماندہ ذاتوں کو اپنا ہمنوا بنالیا جائے تو تلنگانہ کے عنصر کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔
اس معاملہ میں تلگودیشم تنہا نہیں ہے۔ حکمران کانگریس پارٹی بھی پسماندہ ذاتوں کو خوش کرنے کے لیے وقفہ وقفہ سے نئی سکیموں کا اعلان کر رہی ہے جبکہ تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے صدر کے چندر شیکھر راؤ نے وعدہ کیا ہے کہ اگر تلنگانہ ریاست تشکیل پا جاتی ہے تو وہ پسماندہ ذاتوں کو پیانتالیس فیصد ریزرویشن دیں گے۔ بہرحال پسماندہ ذاتوں میں بڑھتی ہوئی سیاسی بیداری ان تمام سیاسی پارٹیوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن گئی ہے جو اب تک ریاست پر حکومت کرتی رہی ہیں لیکن پسماندہ ذاتوں کو ان کا حصہ دینے سے کتراتی رہی ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کانگریس پارٹی میں اعلی ذات ریڈی کا زور ہے جن کا ریاست کی آبادی میں حصہ پانچ اعشاریہ نو فیصد ہے جبکہ تلگودیشم پر کما ذات کا قبضہ ہے جس کی آبادی صرف تین عشاریہ چھ فیصد ہے اور گزشتہ 60 سال کے دوران ریاست پر زیادہ تر یہی دو ذاتیں حکومت کرتی رہی ہیں۔ |
اسی بارے میں مسافر ساٹھ برسوں کے، ابھی تک ۔۔۔03 September, 2007 | انڈیا دھماکوں کے بعد حیدر آباد میں ہڑتال27 August, 2007 | انڈیا حیدرآباد دھماکے، پورا خاندان چل بسا27 August, 2007 | انڈیا حیدرآباد دھماکوں کی تحقیقات جاری26 August, 2007 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||