ماؤنواز اور شہریوں کو مسلح کرنے کی پالیسی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں اڑیسہ، بہار، جھارکھنڈ، آندھرا پردیش، مہاراشٹر اور چھتیس گڑھ میں نکسلی تحریک کافی عرصے سے سرگرم ہے اور حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ حکومت نے اس مسئلہ کے حل کے لیے ریاست چھتیس گڑھ ميں سلواجڈم نامی ایک تحریک کی شروعات کی جس کے تحت ماؤنواز باغیوں سے لڑنے کے لیے مقامی باشندوں کو ہتھیار فراہم کیے گئے اور انہيں خصوصی تربیت دینے کے بعد اسپیشل پولیس افسر یعنی ایس پی اوز بنایا گیا۔ سال 2005 میں ریاست چھتیس گڑھ کے جنوبی ضلع دنتے واڑہ ميں سلوا جوڈم تحریک شروع کی گئی۔ اس تحریک کی شروعات سے ہی وہاں موجود امدادی کیمپوں اور سلوا جڈم کے کمیپوں میں عورتوں کے خلاف تشدد کے واقعات اکثر خبروں ميں سامنے آتے رہے۔ ان واقعات کے سامنے آنے کے بعد گزشتہ برس ’کمیٹی اگینسٹ وائلنس آؤن وومن‘ "نامی ایک گروپ نے سلوا جڈم اور امدادی کمیپوں کا دورہ کیا۔ دورے کے بعد کمیٹی نے پایا کہ کہ سلوا جڈم کیمپوں اور امدادی کیمپوں میں رہنے والے ہزاروں افراد اپنے گھر اور کھیتوں کو چھوڑ کریہاں آئے ہيں۔ ان کے پاس ملازمت کا کوئی بھی ذریعہ نہيں ہے۔ اس کے علاوہ ان کیمپوں میں نہ تو مناسب خوراک موجود ہے اور نہ ہی سکیورٹی کے انتظامات۔ کمیٹی کی ایک ممبر الینہ سین وہاں کے حالات بتاتے ہوئے کہتی ہیں: ’کیمپوں میں موجود لڑکیوں کے ساتھ عصمت دری کے واقعات پیش آتے ہيں ۔ ایک عورت کے بیان کے مطابق اس کے بیٹے کو اس کے آنکھوں کے سامنے گولی مار دی گئی۔‘
روپ کی کنوینر شوما سین کا کہنا ہے کہ مقامی باشندوں کے حالات انہیں ان کیمپوں کی جانب رخ کرنے پر مجبور کرتے ہيں۔ ’سلوا جڈم کے اسپیشل پولیس افسر یعنی ایس پی او کو ڈیڑھ ہزار روپئے مہینہ دیا جا تا ہے لیکن اصلیت یہ ہے کہ انہيں سلوا جڈم میں ڈرا کر ہی شامل کیا گیا ہے، وہ خود اپنی مرضی سے نہيں آئے ہیں۔‘ کمیٹی نے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ امدادی کیمپوں میں رہنے والوں کو ریاستی حکومت جلد سے جلد ان کے اصل گھروں ميں منتقل کریں اور ان کے لیے ملازمت کے نئے ذرائع فراہم کرے۔ اس کے علاوہ سفارشات میں یہ بھی شامل ہے کہ خواتین کے ساتھ ہونے والے ظلم و ستم خواہ وہ پولیس کی جانب سے کیے گئے ہوں یا پھر نیم فوجی دستوں کی جانب سے، ان سبھی معاملات کی آزادانہ ایجنسی سے تفتیش کروانی چاہیے اور قصوروار کو سزا ملنی چاہيے۔ اس گروپ نے اپنی رپورٹ خواتین کے قومی کمیشن کو سونپ دی ہے۔ اس رپورٹ پر خواتین کے قومی کمیشن کی ممبر مالینی بھٹا چاریہ کا کہنا تھا: ’چھتیس گڑھ ميں سلوا جڈم کی تحریک شروع ہونے کے بعد تشدد میں کمی آنے کے بجائے اضافہ ہوا ہے۔ فی الوقت قبائلیوں کو ایسی سہولیات فراہم کی جانی چاہیے جس سے ان کی ترقی ممکن ہو اور اس کے حالات بہتر ہو سکیں۔‘ اس موقع پر سرکردہ سماجی کارکن ارندھتی رائے بھی موجود تھیں۔ محترمہ رائے نے جلد سے جلد سلوا جدم تحریک کو بند کرنے کا مطالبہ کیاہے۔ انکا کہنا ہے: ’حکومت ایک سماج میں اس سے زیادہ خطرناک قدم نہیں اٹھا سکتی ہے جس میں ایک ایسے گروپ کو وجود میں لایا جاتا ہے جو سول وار کا خاکہ تیار کر رہا ہے۔‘ ہندوستان میں آندھرا پردیش، اڑیسہ، جھارکھنڈ، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور بہار جیسی ریاستوں میں ماؤنواز تحریک کافی شدت اختیار کر رہی ہے۔ ہندوستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں دس ہزار مسلح ماؤنواز باغی سرگرم ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ماؤنواز باغی ایک عرصے سے ان ریاستوں میں "کمیونسٹ ریاست" کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں ماؤ رہنما ہلاک، کشیدگی عروج پر24 July, 2006 | انڈیا باغیوں کا حملہ: تین پولیس اہلکار ہلاک19 August, 2006 | انڈیا آندھرا پردیش: چار ماؤ باغی ہلاک19 October, 2006 | انڈیا انڈیا: ماؤ نواز رہنما کی ہلاکت28 December, 2006 | انڈیا نکسلی تشدد اور بھارتی الیکشن19 April, 2004 | انڈیا ٹرینوں پرمنڈلاتا نکسلی خطرہ28 April, 2006 | انڈیا جھارکھنڈ: پولیس کے بارہ اہلکار ہلاک01 June, 2006 | انڈیا آندھرا پردیش: پانچ ماؤنواز باغی ہلاک15 September, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||