آندھرا پردیش: پانچ ماؤنواز باغی ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریاست آندھراپردیش میں ممنوعہ تنظیم سی پی آئی (ماؤِسٹ) کو ایک بڑا دھچکا اس وقت پہنچا جب جمعہ کو پولیس نے ایک تصادم میں پانچ مسلح باغیوں کو ہلاک کردیا- یہ واقعہ ضلع ورنگل کے تاڑوائی جنگل میں جمعہ کی صبح پیش آیاہے- ہلاک ہونے والوں میں تین خواتین بھی شامل ہیں جن کی ابھی شناخت نہیں ہوسکی ہے جبکہ باقی دو کے بارے میں یہ شبہ کیا جارہا ہے کہ وہ پارٹی کے سینیئر رہنما ہیں- ورنگل ضلع کے سپرنٹنڈنٹ پولیس اسٹیفن رویندرا نے بتایا ہے کہ ان دونوں کی شناخت کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ماؤنواز باغی اس علاقہ میں پارٹی کی ایک تین روزہ خفیہ میٹنگ میں شرکت کے بعد اپنے ٹھکانوں پر واپس جارہے تھے۔
حالیہ ہفتوں میں پولیس نے مختلف واقعات میں سی پی آئی ماؤوِسٹ کے ریاستی سربراہ کے بشمول کئی بڑے لیڈروں کو ہلاک کیا ہے- گزشتہ ہفتے ہی پوری ریاست میں اس وقت زبردست سنسنی پھیل گئی تھی جب پولیس نے ماؤوِسٹوں کو راکٹ اور راکٹ لانچرز فراہم کرنے والے ایک نیٹ ورک کو بے نقاب کیا تھا- پولیس نے مختلف مقامات سے ایک ہزار سے زیادہ راکٹ اور کئی راکٹ لانچر ضبط کیے تھے۔ آندھراپردیش میں پولیس کے سربراہ سورن جیت سین کا کہنا ہے کہ یہ ہتھیار گزشتہ ایک سال کے دوران پڑوسی ریاست تامل ناڈو سے آندھراپردیش کے مختلف مقامات پر پہنچائے گئے تھے۔ سین کے مطابق یہ راکٹ اور دوسرا سازو سامان محبوب نگر، پرکاشم، نیلور اور وجے واڑہ پہنچائے گئے۔ پولیس کو خدشہ ہے کہ ابھی بھی 300 سے 600 راکٹ ماؤوِسٹوں کے ہاتھ میں ہیں جو پولیس کے لیے مسائل پیدا کرسکتے ہیں- یہ ہتھیار کہاں سے آئے اور انہیں کہاں تیار کیا گیا اس کا پتہ لگانے کے لیے آندھراپردیش اور تامل ناڈو کی پولیس نے بڑے پیمانے پر تحقیقات شروع کردی ہے- | اسی بارے میں کانگریسی رہنما، 9 دیگر ہلاک15 August, 2005 | انڈیا آندھرا میں دھماکہ، بیس زخمی09 August, 2005 | انڈیا آندھرا میں ’نو ماؤ نواز ہلاک‘28 April, 2006 | انڈیا آندھرا پردیش: نکسلی کتنے موثر؟20 June, 2006 | انڈیا ٹرینوں پرمنڈلاتا نکسلی خطرہ28 April, 2006 | انڈیا جھارکھنڈ: پولیس کے بارہ اہلکار ہلاک01 June, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||