آندھرا پردیش: نکسلی کتنے موثر؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جہاں چھتیس گڑھ اور جھارکھنڈ جیسی ریاستوں میں انتہا پسند تشدد اور غارت گری کا بازار گرم کیئے ہوئے ہیں اور صورتحال پر حکومت کی گرفت کمزور ہوتی جارہی ہے وہیں آندھرا پردیش میں ممنوعہ تنظیم سی پی آئی ماؤوسٹ پر پولیس کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے جس کے نتیجے میں ان انتہا پسندوں کی پرتشدد کارروائیوں کا دائرہ سکڑ کر رہ گیا ہے۔ حال ہی میں نہ صرف تشدد کی سطح کم ہوئی ہے بلکہ پولیس کو انتہا پسندوں کے خلاف کئی اہم کامیابیاں بھی حاصل ہوئی ہیں۔ صرف اسی ہفتے دو علیحدہ واقعات میں پولیس نے سی پی آئی ماؤوسٹ کے دو بڑے چوٹی کے رہنماؤں کو ہلاک کیا ہے۔ پہلے واقعہ میں پرکاشم ضلع کے نلہ ملہ جنگل میں ہوئی ایک جھڑپ میں تنظیم کی مرکزی کمیٹی اور مرکزی ملٹری کمیشن کے رکن ایم روی کمار کو پولیس نے گولی ماردی۔ یہ واقعہ اس لیۓ اہم ہے کہ اب تک
روی کمارکی اہمیت کی اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ اس کے سر پر 15 لاکھ روپے کا انعام تھا۔ عثمانیہ یونیورسٹی سےگریجویشن کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر نکل جانے والا یہ نوجوان گزشتہ 23 سال سے انتہا پسندانہ سرگرمیوں میں ملوث تھا- اسے بیک وقت تنظیم میں ایک فوجی حکمت عملی تیار کرنے والے ماہر نظریہ ساز اور دانشور کی حیثیت حاصل تھی۔ دوسرے واقعے میں گنٹور ضلع میں پولیس نے ایک اور بڑے ماؤوسٹ لیڈر سریش کو اس وقت گولی ماردی جبکہ وہ پولیس کے بقول دوسرے شخص کے ساتھھ موٹر سائیکل پر جارہا تھا۔پولیس کا کہنا تھا کہ جب اسے روکنے کی کوشش کی گئی تو اس نے پولیس پر گولی چلادی اور پولیس کی جوابی فائرنگ میں وہ موقع پر مارا گیا۔ روی کی طرح سریش بھی تنظیم میں بڑی اہم پوزیشن کا حامل تھا وہ نلہ ملہ پلاٹون کا کمانڈر اور پرکاشم اور گنٹور ضلعوں میں تنظیم کی کارروائیوں کا ذمہ دار تھا۔ گنٹور کے ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ شیودھر ریڈی نے بی بی سی سے کہا کہ اس کی ہلاکت پولیس کے لیئے ایک بہت بڑی کامیابی ہے کیونکہ وہ چالیس افراد کے قتل کا ذمہ دار تھا اور گزشتہ پانچ برسوں میں اس کے ہاتھوں تیس پولیس والے مارے گۓ تھے۔ وہ بارودی سرنگیں بنانے اور انہیں بچھانے کا ماہر تھا اور کئی پولیس سٹیشنوں پر حملوں کی اس نے قیادت کی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان واقعات کے بعد ان دو ضلعوں میں سی پی آئی ماؤوسٹ کمزر پڑجائے گی۔ 2004 ء میں بات چیت کی ناکامی کے بعد سے پولیس انتہا پسندوں پر مسلسل دباؤ ڈالے ہوئے ہے اس کے نتیجے میں وہ اپنے اصلی مرکز علاقہ تلنگانہ سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگۓ ۔ اس کے بعد انہوں نے نلہ ملہ کے اس جنگل کواپنا گڑھ بنایا جو کئی سو مربع کیلومیٹر کے علاقے پر پانچ اضلاع میں پھیلا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ انتہا پسندوں نے پڑوسی ریاستوں چھتیس گڑھ اور اڑیسہ سے لگے آندھرا پردیش کے سرحدی علاقوں میں بھی اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے۔لیکن تازہ واقعات سے ایسا لگتا ہے کہ وہاں بھی وہ بھاگنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ نکسلائیٹوں پر پولیس کی برتری کے کئی اور اشارے بھی ملے ہیں۔مثال کے طور پر اس برس پہلے چھ مہینوں میں تشدد کی صرف نوے وارداتیں ہوئی ہیں جب کہ گزشتہ سال یہ تعداد 576 تھی۔
اس برس نکسلائیٹوں نے انیس افراد کو ہلاک کیا ہے جن میں پانچ پولیس والے شامل ہیں۔ جب کہ گزشتہ سال یہ تعداد 211 تھی جن میں 25 پولیس والے تھے۔- دوسری طرف پولیس نے اس برس اب تک 67 نکسلائیٹوں کو ہلاک کیا ہے۔جب کہ یہ تعداد گزشتہ سال 163 تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ انہیں نکسلائیٹوں کے خلاف یہ کامیابی دورخی حکمت عملی کے نتیجے میں حاصل ہوئی ہے ۔ اس میں ایک طرف تو پولیس تشدد کی روک تھام کررہی ہے اور دوسری طرف انتہا پسندی سے متاثرہ علاقوں میں معاشی اور سماجی ترقی کے لیۓ اقدمات بھی کیئے جارہے ہیں- اس کے علاوہ نکسلائیٹوں کے ہاتھوں بے قصور لوگوں کی ہلاکتیں اور مقبول سیاستدانوں پر حملوں نے بھی انہیں کافی کمزور کردیا ہے۔ گزشتہ سال پندرہ اگست کو انتہا پسندوں نے کانگریس کے رکن اسمبلی سی نرسی ریڈی کو دیگر دس افراد کے ساتھھ گولی ماردی تھی اور اس کے بعد ہی ریاستی حکومت نے سی پی آئی ماؤوسٹ پر پابندی عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف سخت اقدامات شروع کردیے تھے۔ آندھرا پردیش کی یہ دورخی حکمت عملی دوسری ریاستوں کی توجہ بھی حاصل کررہی ہے۔ریاست میں سرگرم نکسلائیٹ کمانڈو فورس گرے ہاؤنڈس کی کامیابی سے متاثر ہو کر جھارکھنڈ اور چھتیس گڑھ جیسی ریاستیں آندھرا پردیش سے تعاون طلب کررہی ہیں۔ جہاں تک ریاست میں نکسلائیٹوں کی طاقت کا سوال ہے ریاستی پولیس کے سربراہ سورنجیت سین کا کہنا ہے کہ مسلح انتہا پسندوں کی تعداد ایک ہزار کے آس پاس اور ان کے ہمدردوں کی تعداد تقریبا تین ہزار ہے اور یہ تعداد ریاست میں تشدد پھیلانے کے لیۓ کافی ہے لیکن آندھرا پردیش جیسی ایک بڑی ریاست پر اپنا کنٹرول قائم کرنے کیلۓ قطعی کافی نہیں ہے۔ | اسی بارے میں جھارکھنڈ: پولیس کے بارہ اہلکار ہلاک01 June, 2006 | انڈیا آندھرا میں ’نو ماؤ نواز ہلاک‘28 April, 2006 | انڈیا نئے منصوبے، آبی ذخائر کو خطرہ18 March, 2006 | انڈیا حیدرآباداور بنگلور رقابت میں شدت11 March, 2006 | انڈیا حیدرآباد میں امریکی قونصلیٹ03 March, 2006 | انڈیا بھارت: 50 ہزار برقعہ پوشوں کا اجتماع12 February, 2006 | انڈیا ہارڈویئر سینٹر کے قیام کی منظوری10 February, 2006 | انڈیا حیدرآباداردوسمینار، کمپیوٹر لِٹریسی 05 February, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||