حیدرآباد میں امریکی قونصلیٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ انڈیا کے شہر حیدرآباد میں اپنا قونصل خانہ کھول رہا ہے۔ امریکہ کے صدر جارج بش سے ملاقات کے بعد آندھرا پردیش کے وزیرِاعلٰی وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ حیدرآباد میں قونصل خانہ کھلنے سے ان ہزاروں افراد کو فائدہ پہنچے گا جنہیں ویزے کے لئے چننئی جانا پڑتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ’ حکومت ہند اور امریکہ نے حیدرآباد میں قونصل خانہ کھولنے سے اتفاق کر لیا ہے۔‘ کولکتہ ،ممبئی اورچننئی کے بعد ملک میں یہ چوتھا قونصل خانہ ہوگا۔ قونصل خانہ جلد شروع کرنے کے لئے ریاستی حکومت نے اپنا دلکشا گیسٹ ہاؤس عارضی طور پر امریکی سفارتخانے کو دینے کی پیشکش کی ہے- جبکہ قونصل خانے کی تعمیر کے لیئے ہائی ٹیک مادھاپور علاقے میں دس ایکڑ اراضی الاٹ کی گئی ہے۔ دلکشا گیسٹ ہاؤس گورنرہاؤس کے نزدیک واقع ہے جو انتہائی پہرے والا علاقہ ہے۔ حالیہ برسوں میں حیدراباد انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ایک بڑے مرکز کے طور پر ابھرا ہے۔یہاں سو سے زیادہ امریکی کمپنیاں واقع ہیں اور امریکہ میں کام کرنے والے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ایک چوتھائی ماہرین حیدرآباد سے جاتے ہیں۔ اس سے قبل صدر بش آج دن بھر کے دورے پر حیدرآباد پہنچے۔ایک بزنس اسکول میں طلبہ ،بزنس مین اور دیگر ماہرین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ جوہری معاہدے سے دونوں ملکوں نے ماضی کی سیاسی تلخیاں پیچھے چھوڑ دی ہیں اور وہ اب قریبی اشتراک کے پارٹنر کے طور پر آگے بڑھ رہے ہیں۔’پچھلے عشروں میں ہندوستان عدم توسیع کے سلسلے میں ایک بہترین پارٹنر رہا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ امریکی عوام کو بتائیں گے کہ’ یہ ایک اہم معاہدہ ہے اور اس سے جوہری عدم توسیع میں مدد ملے گی۔‘ | اسی بارے میں انڈیا،امریکہ ’تاریخی‘ معاہدہ02 March, 2006 | انڈیا ہندوستان کی جوہری تنہائی کاخاتمہ02 March, 2006 | انڈیا انڈیا،امریکہ کی جوہری شراکت03 March, 2006 | انڈیا انڈیا: اقتصادی ترقی کے نئے تقاضے 27 February, 2006 | انڈیا حیدرآباد دکن میں بش مخالف لہر 01 March, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||