BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 July, 2006, 13:36 GMT 18:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ماؤ رہنما ہلاک، کشیدگی عروج پر

ماؤ باغی
مادھو کی ہلاکت کا واقعہ نلا ملا جنگل میں پیش آیا
آندھراپردیش میں پولیس کے ہاتھوں ممنوعہ تنظیم سی پی آئی ماؤسٹ کے ریاستی سربراہ بُرّا چنیاگور عرف مادھو اور ان کے سات محافظوں کی ہلاکت نے ریاست میں حکومت اور بائیں بازو کے انتہا پسندوں کے درمیان موجود کشیدگی کو نقطۂ عروج پر پہنچایا دیا ہے۔

ایک طرف پولیس خوش ہے کہ اس نے ماؤسٹوں کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی کامیابی حاصل کی ہے اور ان کے سب سے بڑے رہنما کو نشانہ بنایا ہے تو دوسری طرف ماؤ باغیوں نے قسم کھائی ہے کہ وہ اس قتل کا بدلہ ضرور لیں گے۔

ماؤ باغیوں کے ہمدردوں اور شہری حقوق کے کارکنوں نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ یہ ہلاکتیں کسی جھڑپ میں نہیں ہوئیں بلکہ ان افراد کو پکڑنے کے بعد مارا گیا۔ سچائی جو بھی ہو آج آندھراپردیش میں صورتحال اتنی ہی سنسنی خیز ہے جتنی کہ 1999ء میں تھی۔

 مادھو نے کئی بڑے حملوں میں منصوبہ ساز کا کردار ادا کیا جن میں محبوب نگر ضلع کے پولیس سربراہ پردیسی نائیڈو، حیدرآباد میں ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس اومیش چندرا، نلگنڈہ میں سینیئر وزیر مادھو ریڈی اور محبوب نگر میں کانگریس کے رکن اسمبلی سی نرسی ریڈی کا قتل بھی شامل ہے۔ مادھو کے سر پر 10 لاکھ روپے کا انعام بھی مقرر تھا۔

اس وقت بھی پولیس نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے سی پی آئی ماؤسٹ کی مرکزی کمیٹی کے تین ارکان نلا آدی ریڈی، سیلم نریش، اور سنتوش ریڈی کو مشکوک حالات میں گولی ماردی تھی۔ ان افراد کے قتل کا بدلہ لینے کے لیئے انتہا پسندوں نے سنہ 2000 ء میں سینیئر ریاستی وزیر اے مادھو ریڈی کو بارودی سرنگ کے دھماکے میں ہلاک کر دیا تھا اور 2003 ء میں وزیرِاعلٰی چندرا بابو نائیڈو کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔

مادھو کی ہلاکت کئی معنوں میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔ آندھرا پردیش میں بائیں بازو کی مسلح جدوجہد کی چالیس سالہ تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ اس تنظیم کے ریاستی سربراہ کو پولیس نے ہلاک کیا ہو۔ یہ پہلو بھی اہم ہے کہ یہ واقعہ نلا ملا جنگل میں پیش آیا جو حالیہ عرصہ تک انتہا پسندوں کا سب سے محفوظ قلعہ سمجھا جاتا تھا- لیکن حالیہ ہفتوں میں اس علاقے میں پولیس نے کئی بڑے ماؤسٹ رہنماؤں کو مارا ہے جن میں مرکزی کمیٹی کے رکن ایم روی کمار اور نلا ملا اسکواڈ کمانڈر سریش بھی شامل ہیں۔

ماؤ باغیوں سےبرآمد کیئے جانے والے ہتھیار

مادھو اور ان کے ساتھیوں کو کافی ڈرامائی حالات میں نشانہ بنایا گیا۔ اس منظم کارروائی میں سات سو کے قریب گرے ہاؤنڈ کمانڈوز اور دوسرے پولیس والوں نے حصہ لیا۔ ریاست کے پولیس سربراہ سورن جیت سین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ان خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی کہ اس علاقے میں ریاستی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔ اس اجلاس میں مادھو کے علاوہ کئی دوسرے بڑے رہنما اور کئی ضلعوں کے سیکرٹری بھی شریک ہونے والے تھے۔ سین کا کہنا ہے کہ باقی لوگ فرار ہونے میں کامیاب رہے جبکہ ماؤسٹ حلقوں کو شبہ ہے کہ ان میں سے بھی کئی لوگوں کو پولیس نے پکڑلیا ہے اور انہیں بھی بعد میں کسی فرضی جھڑپ میں مارا جا سکتا ہے۔

مادھو کی اپنی کہانی بڑی دلچسپ ہے۔ اسکول کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر وہ 1982 ء میں نکسلی تحریک میں شامل ہوئے تھے اور ابتداء میں انہوں نے بے زمین زرعی مزدوروں کے لیئے جدوجہد کی۔ اس وقت سے وہ مسلسل روپوش رہے۔ دوران روپوشی ہی انہوں نے گریجویشن کی تعلیم مکمل کی۔

 یہ بات واضح ہے کہ آندھراپردیش میں ایک طرف ریاست کے کئی علاقوں سے سی پی آئی ماؤسٹ کے قدم اکھڑ گئے ہیں اور دوسری طرف وہ اندرونی اختلافات کا بھی شکار ہوگئی ہے۔ ادھر پولیس کے حوصلے بلند ہیں اور وہ نلا ملا کے جنگل میں شاکھا موری اپا راؤ جیسے دوسرے بڑے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا منصوبہ تیار کر رہی ہے۔

کریم نگر ضلع کے ایک غریب خاندان سے تعلق رکھنے والا یہ شخص گزشتہ دو دہائیوں میں پولیس کو سب سے زیادہ مطلوب انتہا پسند بن گیا۔ پولیس کے ریکارڈ کے مطابق مادھو نے کئی بڑے حملوں میں منصوبہ ساز کا کردار ادا کیا جن میں محبوب نگر ضلع کے پولیس سربراہ پردیسی نائیڈو، حیدرآباد میں ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس اومیش چندرا، نلگنڈہ میں سینیئر وزیر مادھو ریڈی اور محبوب نگر میں کانگریس کے رکن اسمبلی سی نرسی ریڈی کا قتل بھی شامل ہے۔ مادھو کے سر پر 10 لاکھ روپے کا انعام بھی مقرر تھا۔

تنظیم کے اندر مادھو کی ترقی کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی تھا کہ وہ پسماندہ طبقہ سے تعلق کے باوجود اتنی اوپر تک پہنچے جبکہ عام طور پر تنظیم میں اونچی ذات کے لوگوں کو ہی برتری حاصل تھی۔ کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں جب راما کرشنا کو ہٹا کر مادھو کو ریاستی کمیٹی کا سکریٹری بنایا گیا تو تنظیم کے اندر شدید اختلافات پیدا ہوگئے اور اسی کشمکش کے نتیجے میں پولیس کو ماؤسٹ رہنماؤں کے بارے میں اندر سے اطلاعات ملنی شروع ہوگئیں۔

یہ پولیس کی ماؤسٹوں کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی کامیابی ہے

مادھو کی ہلاکت ایک ایسے وقت ہوئی جبکہ مرکزی کمیٹی نے اسے اس عہدہ سے ہٹا دینے اور راما کرشنا کو دوبارہ سیکرٹری بنانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ راما کرشنا نے 2004ء میں ریاستی حکومت سے براہِ راست امن بات چیت میں تنظیم کی نمائندگی کی تھی۔

یہ بات واضح ہے کہ آندھراپردیش میں ایک طرف ریاست کے کئی علاقوں سے سی پی آئی ماؤسٹ کے قدم اکھڑ گئے ہیں اور دوسری طرف وہ اندرونی اختلافات کا بھی شکار ہوگئی ہے۔ ادھر پولیس کے حوصلے بلند ہیں اور وہ نلا ملا کے جنگل میں شاکھا موری اپا راؤ جیسے دوسرے بڑے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا منصوبہ تیار کر رہی ہے۔

مادھو کے ساتھ جو سات دوسرے لوگ مارے گئے ہیں ان میں شیاملا بھی شامل ہیں جو محبوب نگر ضلع کمیٹی کے سیکرٹری سامبا شیوڈو کی بیوی تھیں۔ سامبا شیوڈو نے اپنے ایک بیان میں دھمکی دی ہے کہ مادھو اور دیگر افراد کی موت کے لیئے وزیراعلی راج شیکھر ریڈی، وزیر داخلہ جانا ریڈی اور ریاستی پولیس کے سربراہ کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔

مادھو کی موت سے آندھراپردیش میں سی پی آئی ماؤسٹ کمزور ضرور ہوگی لیکن اس کے اندر دوبارہ منظم ہونے اور واپس لوٹنے کی صلاحیت برقرار ہے کیونکہ تنظیم کی مرکزی قیادت ابھی چھتیس گڑھ اور جھارکھنڈ کے جنگلوں میں محفوظ ہے اور اس میں بھی آندھراپردیش کے کئی لیڈر شامل ہیں۔سی پی آئی ماؤسٹ کے مرکزی سربراہ موپالا لکشمن عرف گنپتی بھی آندھراپردیش سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اب پولیس اور ماؤسٹوں کی لڑائی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے جہاں پولیس اپنی کامیابیوں کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کرے گی جبکہ نکسل باغی پیچھے ہٹ کر دوبارہ صف بندی کی کوشش کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد