باغیوں کا حملہ: تین پولیس اہلکار ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آندھراپردیش کے ماؤ نواز باغیوں نے جمعہ کی رات نلگنڈہ ضلع کے آتماکور پولیس سٹیشن پر منظم حملہ کرکے تین پولیس اہلکاروں کو ہلاک جبکہ ایک کانسٹبل کو شدید زخمی کردیا ہے۔ بعدازاں پولیس سٹیشن کو دھماکہ سے اڑانے کے بعد باغی وہاں سے فرار ہوگئے۔ اس حملے میں دس سے تیس تک مسلح ماؤ نواز باغیوں نے حصہ لیا۔گزشتہ چند ہفتوں میں ممنوعہ تنظیم سی پی آئی ماوسٹ کے کئی چوٹی کے لیڈروں کی ہلاکت کے بعد انتقامی کارروائی کی قسم کھانے والے باغیوں نے آخر وہی کیا جس کا خدشہ گزشتہ کئی دنوں سے ظاہر کیا جارہا تھا۔ پولیس کے مطابق پہلے ان چاروں پولیس والوں کو پکڑ کر ان کے ہاتھ پاوں باندھ دیئے گئے پھر انہیں زدوکوب کیا گیا اور آخر میں قریب سے گولی ماردی گئی- ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں میں سب انسپکٹر محمد چاند پاشاہ، سسٹنٹ سب انسپکٹر سلطان محی الدین اور ہوم گارڈ لنگیا جبکہ ایک کانسٹیبل کریم کو نازک حالت میں حیدرآباد کے ہسپتال میں منتقل کیا گیا ہے۔ جمعہ کی شب یہ پوری کارروائی بڑے منظم انداز میں کی گئی۔باغیوں کا ایک گروپ عام لوگوں کی طرح پولیس سٹیشن میں داخل ہوگیا جبکہ دوسرے گروپ نے پولیس سٹیشن کو چاروں طرف سے گھیرے میں لے لیا- ایک اور گروپ نے گاوں میں بجلی کی سپلائی منقطع کردی اور اپنی کارروائی سے ایسی دہشت پیدا کردی کہ قریب ہی واقع پولیس کوارٹر سے بھی کوئی باہر نکلنے کی جرات نہیں کرسکا- اس حملے کے لیئے نلگنڈہ ضلع اور آتماکور پولیس اسٹیشن کا انتخاب بلا وجہ نہیں تھا- ایسا لگتا ہے کہ نلگنڈہ کو اس لیئے نشانہ بنایا گیا کیونکہ ریاست کے وزیر داخلہ کے جانا ریڈی اسی ضلع سے تعلق رکھتے ہیں اور آتماکور پولیس سٹیشن میں کوئی ہتھیار نہ ہونے کی وجہ سے باغیوں کو وہاں پر کسی مدافعت کا خطرہ بھی نہیں تھا- واقعے میں نشانہ بننے والا آتماکور ریاست کے پانچ سو کے قریب ان پولیس سٹیشنوں میں سے ایک ہے جہاں باغیوں کے لوٹنے کے ڈر سے کوئی ہتھیار نہیں رکھے جاتے۔ بنیادی طور پر اس حملے کا مقصد یہ نظر آتا ہے کہ اس برس اپنے 75 ساتھیوں کو گنوانے کے بعد جن میں کئی بڑے لیڈر بھی شامل ہیں، سی پی آئی ماؤسٹ یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ ابھی بھی طاقتور ہیں اور کہیں بھی حملہ کرسکتے ہیں۔ یوں تو پولیس سٹیشن ہمیشہ ہی ماؤ نواز باغیوں کا نشانہ رہے ہیں لیکن حالیہ عرصے میں اس میں کافی کمی آئی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ حملہ اور پولیس والوں کی ہلاکت حکومت اور اعلیٰ عہدیداروں کے لیئے شرمندگی کا باعث ہے کیونکہ کافی عرصے سے انٹلیجنس ایجنسیاں یہ وارننگ دے رہی تھیں کہ باغی اپنے لیڈروں خاص طور پر ریاستی کمیٹی کے سربراہ مادھو کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیئے بڑی کارروائی کرسکتے ہیں۔ اس سال باغیوں کے تشدد اور پولیس کی جوابی کارروائیوں میں 100 سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں دس پولیس اہلکار اور 75 ماؤ باغی شامل ہیں۔ حکومت پولیس کے حوصلے بنائے رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ راج شیکھر ریڈی ہلاک ہونے والے پولیس والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد اعلان کیا کہ حکومت ان کے خاندانوں کی بھر پور مدد کرے گی اور ان کے خاندانوں کو ان پولیس کی مکمل تنخواہ اس وقت تک ملتی رہے گی جب تک کہ وہ سبکدوشی کی عمر کو نہیں پہنچ جاتے۔ اس کے علاوہ وزیراعلیٰ ان تینوں خاندانوں کے ایک ایک فرد کو سرکاری ملازمت اور ایک گھر بھی دینے کا اعلان کیا۔ سب انسپکٹر اور سسٹنٹ سب انسپکٹر کے خاندان کو نو، نو لاکھ روپے اور ہوم گارڈ کے خاندان کو 5 لاکھ روپے کا معاوضہ بھی دیا جائے گا۔ | اسی بارے میں ماؤ رہنما ہلاک، کشیدگی عروج پر24 July, 2006 | انڈیا ماؤ نواز باغیوں کا حملہ، 26 ہلاک17 July, 2006 | انڈیا پولیس جھڑپ میں ماؤ نواز لیڈر ہلاک17 June, 2006 | انڈیا بہار: ماؤ باغیوں نے ساتھی چھڑا لیے 13 November, 2005 | انڈیا ماؤ نواز باغیوں کے حملے،آٹھ ہلاک10 February, 2006 | انڈیا ماؤ باغیوں کا حملہ،چھ ہلاک25 April, 2006 | انڈیا انڈیا: ’تیرہ ماؤ نواز باغی ہلاک‘09 June, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||