ماؤ نواز باغیوں کا بھارت کو ’لال سلام‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حال ہی میں بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ماؤ نواز باغیوں کی جانب سے بغاوت کو ملک کی سلامتی کے لیئے سب سے بڑا اندرونی خطرہ قرار دیا ہے۔ بی بی سی کی نمائندہ جِل مک گیورنگ نے یہ جاننے کے لیئے کہ ماؤ نواز باغیوں نے ہتھیار کیوں اٹھائے وسطی ریاست چھتیس گڑھ کے جنگلات میں ماؤ نواز باغیوں کے ساتھ تین دن گزارے اور اپنی تین رپورٹوں کے سلسلے کی پہلی قسط تیار کی۔ ان کی رپورٹ کچھ اس طرح ہے: ہم نے جنگل کے گھپ اندھیرے میں دس گھنٹے تک جیپ کا سفر کیا جس کے دوران ہماری رہنمائی کرنے والے بدلتے رہے۔ آخر کار ہم رکے اور ہمیں ایک نسبتاً کھلی جگہ پر پہنچایا گیا۔ ٹارچ کی روشنی میں دیکھا تو تیس سے چالیس نوجوان جنگجو کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے تھے۔ وہ سب فوجی وردیوں میں ملبوس تھے اور ان کے ہاتھوں میں بندوقیں تھیں۔ ان میں سے زیادہ تر بالکل نوجوان تھے۔ کچھ نے فوجی جوتے پہن رکھے تھے، کچھ کے پاؤں میں چپلیں تھیں جبکہ باقی ننگے پاؤں تھے۔ سب نے فرداً فرداً میرے ساتھ ہاتھ ملایا اور اس کے بعد ہوا میں مکا لہراتے ہوئے کہا ’لال سلام‘۔ اس رات مون سون کی بارش شروع ہو گئی۔ ہم جنگل میں زمین پر لیٹے تھے اور ہمارے نیچے صرف پلاسٹک کی چادریں تھیں۔ بارش کے بڑھ جانے پر ماؤ نواز ہمیں تیزی سے ایک قریبی گھر میں لے گئے جہاں کئی کچے کمرے بنے ہوئے تھے۔ ہم ان میں سے ایک کے فرش پر مرغیوں کے درمیان لیٹ گئے۔ اگلا دن صبح پانچ بجے حاضری کے ساتھ شروع ہوا۔ اس کے بعد بیس جوانوں کی ایک پلٹن نے ورزش اور پھر فوجی ڈرِل کا مظاہرہ کیا۔ اس کے بعد انہوں نے کھڑے ہو کر، بیٹھ کر اور پیٹ کے بل رینگتے ہوئے فائرنگ کی مشق کی۔ ان کی بندوقیں کئی قسم کی تھیں۔ ان میں لکڑی کے دستے والی ایک نالی بندوقیں بھی شامل تھیں۔ ان میں سے کچھ انہوں نے خود ہی بنائی تھیں۔ اس کے علاوہ ان کے پاس پرانی قسم کی رائفلیں بھی تھیں جو بھارتی پولیس کے پاس بھی ہیں۔ شاید یہ حملوں کے دوران پولیس والوں سے چھینی گئی تھیں۔
ماؤ نواز جنگجو جنہیں یہاں نکسلی کہا جاتا ہے انیس سو ساٹھ کے عشرے سے لڑائی میں مصروف ہیں۔ اور کچھ عرصہ پہلے تک وہ بھارت کی غریب ریاستوں کے جنگلوں میں مختلف مقامات اور گروہوں میں رہتے رہے ہیں۔ لیکن حال ہی میں ان کے مختلف گروہوں کے درمیان اتحاد اور اتفاق میں اضافہ ہوا ہے۔ تجزیہ نگار اب ماؤ نوازوں کے ٹھکانوں کے مقامات کے حوالے سے ’ریڈ کوریڈور‘ یا سرخ پٹی کی بات کرتے ہیں جو نیپال کی سرحد سے شروع ہو کر جنوب میں سمندر تک چلتی ہے۔ اس کے بعد مجھے ان کے سینیئر کمانڈر گوپنہ مرکم سے متعارف کروایا گیا جنہیں گوریلا فورس کے ساتھ پچیس سال ہو گئے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ وہ اپنی اس کاوش کی وجہ کو کس طرح واضح کریں گے تو انہوں نے کہا کہ ’ہم اس ملک میں ایک نئے جمہوری انقلاب کے لیئے لڑ رہے ہیں‘۔ انہوں نہ مزید کہا کہ ’لوگ بھوکے ہیں۔ ان کے پاس کھانے کے لیئے کچھ نہیں ہے، کپڑے نہیں ہیں، ملازمتیں نہیں ہیں۔ ہم لوگوں کے لیئے ترقی چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اس لڑائی میں شامل ہونے کے لیئے آ رہے ہیں‘۔ میں نے ان سے نیپال کے ماؤ گروپوں کے متعلق پوچھا جن کے بارے میں امکان ہے کہ وہ ہتھیار چھوڑ کر جمہوری عمل میں شامل ہو جائیں۔ اس کے جواب میں شروع میں وہ محتاط تھے کیونکہ با ضابطہ طور پر ان کے بڑے رہنما اس کے متعلق بیان دیں گے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ نیپال کے حالات کا قریب سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ بعد میں انہوں نے کہا کہ وہاں پر ہونے والی تبدیلیاں انہیں اچھی امید دلا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم امید کرتے ہیں کہ انقلاب کامیاب ہو رہا ہے۔ اس لیئے یہ ساری دنیا میں ایک مثال ہو گی کیونکہ سوشلزم کے ختم ہو جانے کا بہت پراپیگنڈا ہو رہا ہے۔ لیکن ہمیں امید ہے کہ نیپال سب کو دوبارہ راستہ دکھائے گا‘۔
اپنے مقصد اور نظریے کے بارے میں کمانڈر کی جانب سے استعمال کی جانے والی زبان میں چالیس سال پرانے ماؤ کے الفاظ بدرجہ اتم موجود تھے۔ کمانڈر نے کہا کہ ان کے خیالات کو ختم کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں لیکن چین کا انقلاب کامیاب ہوا۔ اس کے بعد میں ایک نسبتاً جونیئر کارکن کے پاس بیٹھی جو جے متی نامی ایک چھبیس سالہ خاتون تھیں۔ وہ آٹھ سال قبل ماؤ نواز باغیوں میں شامل ہوئی تھیں۔ ان کا چہرہ سخت تھا اور انہوں نے بتایا کہ وہ کیوں اپنے خاندان کو چھوڑ کر یہ زندگی اپنانے آ گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے اردگرد غریبوں کے لیئے کی جانے والی لڑائی دیکھی اور سوچا کہ انہیں بھی اس میں شامل ہونا چاہیے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ اس مقصد کو حاصل کرنے کا پرامن طریقہ بھی تو اختیار کیا جا سکتا ہے جس پر وہ غیر متاثر نظر آئیں اور انہوں نے کہا کہ ’غریبوں کا بہت استحصال کیا جاتا ہے اور اس کا ایک ہی حل ہے کہ انہیں طاقتور بنایا جائے اور انہیں حکمران بنایا جائے۔ جو افراد لوگوں کے لیئے مشکلات پیدا کرتے ہیں ان کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔ انہیں ختم کر دینا چاہیے‘۔ چھتیس گڑھ میں لڑائی میں یقیناً اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چند سالوں کے دوران ہر سال مرنے والوں کی تعداد دوگنی ہوتی رہی ہے۔ مرنے والے زیادہ تر افراد سویلین ہیں۔ | اسی بارے میں پولیس جھڑپ میں ماؤ نواز لیڈر ہلاک17 June, 2006 | انڈیا انڈیا: ’تیرہ ماؤ نواز باغی ہلاک‘09 June, 2006 | انڈیا جھارکھنڈ: پولیس کے بارہ اہلکار ہلاک01 June, 2006 | انڈیا نکسلی حملے میں بارہ افراد ہلاک 16 May, 2006 | انڈیا آندھرا میں ’نو ماؤ نواز ہلاک‘28 April, 2006 | انڈیا ماؤ باغیوں کا حملہ،چھ ہلاک25 April, 2006 | انڈیا چھتیس گڑھ: نکسل حملہ، 10 ہلاک16 April, 2006 | انڈیا ماؤ باغیوں نے سٹیشن اڑا دیا09 April, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||