چھتیس گڑھ: نکسل حملہ، 10 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مرکزی ریاست چھتیس گڑھ میں ماؤنواز باغیوں نے چار پولیس والوں سمیت دس افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے چھ اسپیشل پولیس آفیسرز اور چار عام پولیس والے شامل تھے۔ اسپیشل پولیس آفیسرز وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں پولیس ماؤنواز تحریک سے متاثرہ مقامات میں عام لوگوں کو تربیت دینے کے بعد تیار کرتی ہے۔ یہ واقعہ اتوار کو اس وقت پیش آیا جب ماؤنواز باغیوں نے ایک پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا اور گولیا ں چلانی شروع کر دیں۔ اطلاعات کے مطابق ماؤنواز پولیس اسٹیشن سے کافی تعداد میں ہتھیار بھی لوٹ کر لے گئے۔ اس حملے میں دو کانسٹیبل بری طرح زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ایک اور واقعہ میں اسی ضلع کے دبئی گندا علاقے ميں ایک دھماکے میں تین فوجی جوان زخمی ہو گئے ہیں۔ چھتیس گڑھ کا شمار ان ریاستوں میں ہوتا ہے جو ماؤنواز تحریک سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ ریاست کے سولہ ضلوں میں سے آٹھ ماؤنواز تحریک کی زد میں ہیں۔ گزشتہ چند مہینوں میں ریاست میں ماؤنواز باغیوں کے حملوں میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ ہندوستان میں آندھرا پردیش، اڑیسہ، جھارکھنڈ ، مدھیہ پردیش، چیھتیس گڑھ ، اور بہار جیسی ریاستوں میں ماؤنواز تحریک کافی شدت اختیار کر رہی ہے۔ ہندوستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں دس ہزار مسلح ماؤنواز باغی سرگرم موجود ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اسی ہفتے وزيراعظم نے ماؤ نواز تحریک سے متاثرہ ریاستوں کے وزرائے اعلٰی اور پولیس کے سربراہوں کا ایک اجلاس طلب کیا تھا۔ میٹنگ میں ماؤنواز تحریک کے بڑھتے ہوئے اثرات پر قابو پانے کے لیے ایک طویل المیعاد حکمت عملی پر غور کیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں بھارت: نکسل حملے میں 13ہلاک12 September, 2005 | انڈیا بہار انتخابات اور نکسلی تحریک24 January, 2005 | انڈیا نکسلی تشدد اور بھارتی الیکشن19 April, 2004 | انڈیا ماؤ باغیوں نے سٹیشن اڑا دیا09 April, 2006 | انڈیا بہار: ماؤ باغیوں نے ساتھی چھڑا لیے 14 November, 2005 | انڈیا بہار: ماؤ باغیوں نے ساتھی چھڑا لیے 13 November, 2005 | انڈیا ماؤ باغی: جنگ بندی کی پیشکش16 June, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||