BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 18 May, 2004, 13:13 GMT 18:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیمونسٹوں کو صورتحال کا ادراک ہے؟

مارکس وادی
دنیا چاہے اِدھر سے اُدھر ہو جائے ہندوستان کے کیمونسٹوں پر اس کا کوئی اثر نہیں۔

وہ تو آج بھی ہندوستان میں مارکسزم لیننزم کو لاگو کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اُن کا دعویٰ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام بنی نو انسان کو درپیش بنیادی مسائل کو حل کرنے کے قابل نہیں ہے۔

صرف یہی نہیں کیمونسٹ پارٹی آف انڈیا نے اپنے چالیس سال پرانے پروگرام میں صرف ایک بار ترمیم کی ہے اور وہ بھی صرف چار سال قبل۔

پروگرام میں متعارف کرائی گئی ترمیم کے ذریعے اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا کہ عالمی سرمایہ دار طبقہ بے پناہ منافعے کی تلاش میں قوموں کے اقتدار اعلیٰ کے لئے مستقل خطرہ بنا ہوا ہے کیونکہ یہ صرف ایسی صورت میں ممکن ہے جب انہیں ان ملکوں کی معیشتوں تک بلا روک ٹوک رسائی حاصل ہو جائے۔

مبصرین کے لئے پیر کے روز سٹاک مارکیٹ میں کمی کسی طرح سے بھی حیران کن نہیں ہے کیونکہ اس کا بنیادی سبب کیمونسٹوں کی طرف سے نئی کانگریس حکومت کی حمایت کا اعلان ہے۔

ہندوستان کے کیونسٹوں نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ منافع بخش سرکاری اداروں کی نج کاری رکوائیں گے اور آجروں کے حقوق کو فروغ دینے کے لئے کئے جانے والے تمام اقدامات کو مسترد کر دیں گے۔

کیمونسٹ رہنماؤں کے مطابق وہ ہندوستان کے زرعی شعبے کے تحفظ کے لئے زرعی مصنوعات کے لئے زیادہ درآمدی ڈیوٹی کی حمایت کریں گے۔ کیموٹسٹ پارٹیوں سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر بھی نظرثانی کا مطالبہ کر رہی ہیں جس میں ہڑتالوں پر پابندی عائد کی گئی ہیں۔

وہ مغربی بنگال کو معاشی ترقی کے سلسلے میں ایک آئیڈیل ماڈل قرار دے رہے ہیں جہاں گزشتہ چھبیس سال سے کیمونسٹوں کی حکومت ہے۔

کیمونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) مغربی بنگال میں ابھی تک مقبول ہیں اس کے باوجود کہ انہوں نے زرعی اصلاحات کے تحت بڑے بڑے جاگیرداروں سے زمینیں لے کے ہاریوں میں تقسیم کردی تھیں۔

مغربی بنگال میں کامیابیوں کے باوجود کیمونسٹ ہمیشہ مرکز میں حکومت سازی کے عمل سے دور رہے ہیں۔

سن انیس سو چھیالیس میں سی پی ایم نے لیفٹ فرنٹ کی حکومت میں شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا۔ مغربی بنگال کے سابق وزیر اعلیٰ اور معروف کیمونسٹ رہنما جیوتی باسو آج بھی اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور اسے ایک تاریخی غلطی قرار دیتے ہیں۔

آج کل جب ہندوستان میں حکومت سازی کا عمل جاری ہے کیمونسٹ پارٹیوں نے ایک بار پھر مرکز میں حکومت میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ بعض مبصرین کے خیال میں انہوں نے ایک بار پھر قومی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کا ایک اور موقع ضائع کر دیا ہے۔

موجودہ انتخابات میں سی پی ایم نے تینتالیس نشستیں حاصل کی ہیں اور تیسری سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے۔

اس کارکردگی کے باوجود یہ بات قابل ذکر ہے کہ کوئی بھی کیمونسٹ جماعت سیاست کے قومی دھارے میں آنے اور ایک قومی جماعت کے طور پر ابھرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

کیمونسٹ جماعتیں اب تک صرف مغربی بنگال، تریپورہ اور کیرالہ تک محدود ہیں۔ موجودہ انتخابات میں سی پی ایم اور سی پی آئی نے کل ملا کر ایک سو تین نشستوں پر الیکشن لڑا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ اب صرف علاقائی گروپ بن کر رہ گئی ہیں۔

سی پی ایم کے سینیئر رہنما سیتارام یچوری نے حکومت میں شامل نہ ہونے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت اس لئے حکومت میں شامل نہیں ہوئی کیونکہ اسے اس کا مینڈیٹ نہیں ملا۔

’اگر ایسا ہوتا تو ہمارے پاس دو سو بہتر نشستیں ہوتی۔‘

کیمونسٹوں کے مطابق ان کے حکومت سازی کے عمل سے دور رہنے کی دوسری بڑی وجہ کانگریس کے ساتھ ان کے مفادات کا ٹکراؤ ہے۔

کیمونسٹ پارٹیاں اس لئے کانگریس کی اتحادی نہیں بننا چاہتیں کیونکہ تین ریاستوں میں کانگریسی امیدواروں کے مدمقابل الیکشن لڑ رہی ہیں۔

مثال کے طور پر مغربی بنگال میں سن دو ہزار چھ میں ہونے والی ریاستی انتخابات میں کیمونسٹ امیدواروں کا مقابلہ براہ راست کانگریس سے ہو گا۔

کئی مبصرین کا خیال ہے کہ مرکزی حکومت میں شامل ہونے سے انکار کر کے ایک ماڈرن سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے طور پر ابھرنے کا ایک نادر موقع گنوا رہی ہے۔

مبصر باسو رائے چودھری کے خیال میں نوآبادیاتی سوچ اب بھی کیمونسٹ قیادت کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

’ماضی میں پارٹی کی سمت کے تعین کے لئے کیمونسٹ رہنما بڑی حد تک سویت اور چینی قیادت پر انحصار کیا کرتے تھے لیکن اب ایسا کوئی موقع میسر نہیں ہے۔‘

’ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ہندوستانی کیمونسٹ خود صورت حال کا صحیح تجزیہ کرنے کی صلاحیت سے عاری ہیں۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد