BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 July, 2006, 21:34 GMT 02:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آندھرا پردیش – نائیڈو کی واپسی؟

ٹی ڈی پی کے رہنما چندرا بابو نائیڈو
آندھرا پردیش میں ضلع پنچایتی انتخابی نتائج نے ریاست کی سیاست کو پوری طرح ہلاکر رکھ دیا ہے اور یہ واضح پیام دیا ہے کہ ریاست میں سیاسی ہوا کا رخ اب تبدیل ہونے لگا ہے- سن 2004 کے اسمبلی انتخابات میں بری طرح شکست کھانے والی تلگو دیشم پارٹی نے اپنے مظاہرہ سے سب کو چونکا دیا ہے-

طاقت کے نشے میں چور کانگریس اس دعوے کے ساتھ میدان میں اتری تھی کہ وہ تلگو دیشم کا نام و نشان مٹادے گی لیکن ٹی ڈی پی نے مارکسسی کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ مل کر 22 ضلعوں میں سے چار ضلعوں پر اپنا کنٹرول قائم کرلیا ہے اور یہ واضح کردیا ہے کہ اسے معمولی سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا-

حکمراں کانگریس پارٹی نے 16 ضلع پریشدوں میں واضح اکثریت حاصل کی ہے جبکہ دو ضلعوں میں اسے اپنی حلیف جماعتوں کی تائید کی ضرورت پڑے گی- عام حالات میں یہ کارکردگی کافی شاندار کہی جاسکتی تھی لیکن کانگریس کی ریاستی قیادت نے خود اپنے ہی بیانات سے ایسا ماحول پیدا کردیا تھا جس میں پارٹی صد فیصد نشستوں پر قبضے کی امید کرنے لگی تھی-

اگر اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو ریاست کی تمام 1097 ضلع پریشد نشستوں میں سے 65 فیصد پر کانگریس کو کامیابی ملی ہے- لیکن اسے اس بات سے مایوسی ہوئی ہے کہ تلگو دیشم نے تقریبا ایک تہائی سے زیادہ نشستوں پر قبضہ کرکے اپنی واپسی کا اعلان کردیا ہے-

 اب کی بار تلگودیشم کی کامیابی کا ایک بڑا سبب مارکسسی کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ اس کا اتحاد تھا- اسمبلی انتخابات میں سی پی آئی ایم کانگریس کے ساتھ تھی لیکن اب اس نے تلگودیشم کا ہاتھ تھام لیا-
یہ انتخابات اس لیے اہمیت اختیار کر گئے تھے کہ انہیں کانگریس کی 26 مہینے پرانی حکومت پر ایک ریفرنڈم کی حیثیت سے دیکھا جارہا تھا لیکن جہاں کانگریس کے خلاف ووٹ پڑے ہیں وہاں اب پارٹی کو اپنی کارکردگی اور امیج کا دوبارہ جائزہ لینا پڑے گا- وزیر اعلیٰ وائی ایس راج شیکھر ریڈی پر خود پارٹی کے اندر یہ دباؤ بڑھے گا کہ وہ اپنے طریقۂ کار کو تبدیل کریں اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی اختیار کریں-

جہاں تک تلگو دیشم کی کامیابی کا سوال ہے اس کے کئی اہم پہلو ہیں- اسے سب سے زیادہ کامیابی تلنگانہ علاقہ میں ملی ہے جہاں گزشتہ انتخابات میں اس کا صفایا ہوگیا تھا- اس نے علاقے کی تین ضلع پریشدوں پر قبضہ کیا ہے- یہ اس لیے حیرت ناک ہے کہ تلگودیشم تلنگانہ ریاست کے قیام کے مطالبے کی کھلی مخالف ہے- اس کے مقابلے میں تلنگانہ ریاست کے لیے مہم چلانے والی تلنگانہ راشٹر سمیتی کا ان انتخابات میں مکمل طور پر صفایا ہوگیا ہے-

اسی طرح تلنگانہ کی تائید میں آواز اٹھانے والی بی جے پی کو بھی عوام نے مسترد کردیا ہے۔ چنانچہ اب سبھی سیاسی جماعتوں کو یہ سوچنے پر مجبور ہونا پڑے گا کہ کیا تلنگانہ کے عوام اب اپنی الگ ریاست نہیں چاہتے یا پھر جو جماعتیں اس کا وعدہ کرتی رہی ہیں ان پر عوام کا اعتماد اٹھ چکا ہے-

گزشتہ اسمبلی اور لوک سبھا (مرکزی ایوان زیریں) انتخابات میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے اور کانگریس کے ساتھ اقتدار میں شامل ہونے والی ٹی آر ایس کے کیمپ میں اس وقت سناٹا چھایا ہوا ہے- پارٹی کو کل ملاکر ضلع پریشدوں میں صرف 20 نشستیں حاصل ہوئی ہیں- جس جماعت نے 2001 کے ضلع پریشد انتخابات میں 86 نشستیں جیتی تھی اور دو ضلع پریشدوں پرقبضہ کیا تھا اس کی یہ حالت صاف ظاہر کرتی ہے کہ وہ تلنگانہ کے عوام کے اعتماد سے محروم ہوگئی ہے-

ٹی ڈی پی اور مارکسی کمیونسٹ پارٹی کا اتحاد کانگریس کے لیے ایک چیلنج ثابت ہوسکتا ہے
کانگریس کی کامیابی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس نے سریکا کلم سے لے کر نیلور تک تمام نو ساحلی ضلعوں پر قبضہ کرلیا ہے- یہ تلگودیشم کے لیے بری خبر ہے کیونکہ یہ علاقہ کبھی اس کا گڑھ تھا- خود تلگو دیشم کے سربراہ چندرا بابو نائیڈو کے اپنے ضلع چتور میں بھی کانگریس کو کامیابی حاصل ہوئی ہے- صاف ظاہر ہے کہ اقتدار میں لوٹنے کے لیے تلگودیشم کو ابھی کافی سخت محنت کرنی پڑے گی-

دوسری طرف کانگریس کو سب سے بڑا صدمہ اپنے محفوظ قلعہ اننت پور ضلع میں ہوا ہے جہاں تلگودیشم کو کامیابی ملی ہے- گزشتہ دو برسوں سے یہ ضلع تلگودیشم کے کئی بڑے لیڈروں کے قتل کے واقعات کی وجہ سے خبروں میں چھایا ہوا تھا- تلگودیشم کے رکن اسمبلی پریتالہ روی اور ایک سابق رکن اسمبلی سوریہ نارائن ریڈی کو کانگریس کے حامیوں نے قتل کردیا تھا اور یہ سمجھا جارہا تھا کہ اس ضلع میں تلگودیشم ختم ہوگئی ہے-

سب سے برا حال بھارتیہ جنتا پارٹی کا ہوا ہے جسے 1000 سے زیادہ ضلع پریشد نشستوں میں سے صرف دو نشستیں حاصل ہوئی ہیں- حالانکہ پارٹی نے حال ہی میں اپنے موقف میں ایک بڑی تبدیلی کرتے ہوئے تلنگانہ ریاست کے حق میں مہم چلانے کا اعلان کیا تھا- ظاہر ہے کہ یہ بات عوام کو متاثر نہیں کرسکی-

اب کی بار تلگودیشم کی کامیابی کا ایک بڑا سبب مارکسسی کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ اس کا اتحاد تھا- اسمبلی انتخابات میں سی پی آئی ایم کانگریس کے ساتھ تھی لیکن اب اس نے تلگودیشم کا ہاتھ تھام لیا- اس کامیابی کے بعد دونوں جماعتیں پرامید ہیں کہ وہ آئندہ اسمبلی انتخابات تک فیصلہ کن طاقت بن کرابھریں گی- امکان ہے کہ کانگریسی حکومت کی مبینہ بدعنوانیوں مہنگائی اور آبپاشی پراجکٹوں میں بے قاعدگیوں جیسے مسائل پر یہ دونوں جماعتیں کانگریس کے خلاف جارحانہ موقف اختیار کریں گی-

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد