BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 24 July, 2007, 12:59 GMT 17:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسلمانوں کیلیےچار فیصد ریزرویشن
 آندھرا پردیش کے مسلمان
آندھرا پردیش میں مسلمان آبادی کا دس فیصد ہیں
آندھرا پردیش کی اسمبلی نے سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ مسلمانوں کو ملازمت اور تعلیمی اداروں میں چار فیصد ریزرویشن دینے کے بل کی منظوری دے دی ہے۔

اس بل کی منظوری سے مسلمانوں کی پندرہ پسماندہ برادریوں کو فائدہ ملےگا جس کی نشاندہی ریاست کے’بیک ورڈ کمیشن‘نے کی تھی۔

چھ جولائی کو حکومت نے مسلم ریزرویشن کے سلسلے میں ایک آرڈیننس بھی جاری کیا تھا جس سے پسماندہ برادریوں کے مسلم طلبہ کو رواں تعلیمی سال سے ہی میڈیکل، ڈینٹل، انجینئیرنگ اور دیگر پروفیشنل کورسز میں داخلے کے حوالے سے ریزرویشن کا فائدہ مل رہا ہے۔

تین برس کے دورِ اقتدار میں کانگریس کے اپنے انتخابی وعدے کی تکمیل کے لیے مسلمانون کو ریزرویشن دینے کی یہ تیسری کوشش ہے۔

چار جولائی کو وزیرِاعلی راج شیکھر ریڈی کے سربراہی میں ریاستی کابینہ نے بیک ورڈ کمیشن کی سفارشات تسلیم کرتے ہوئے تعلیمی اور سماجی طور پر پسماندہ مسلم طبقہ کے لیے ایک نیا ’ای‘ گروپ بنانے کا فیصلہ کیاتھا۔

ریاست میں مسلمانوں کے درمیان پہلے ہی سے نداف، نوربس، مہتر اور پنجری نامی چار گروپ ہيں جنہیں بیک ورڈ کے اے ، بی ، سی، ڈی فہرست کے تحت ریزرویشن دستیاب ہے۔

 ریاستی حکومت نے دو ہزار پانچ اور چھ میں بھی مسلمانوں کو پانچ فیصد ریزرویشن دیا تھا جس سے سات سو مسلم طلبا ء کو فائدہ پہنچا تھا لیکن بعد میں حیدرآباد ہائیکورٹ نے اس ریزرویشن کو بعض قانونی وجوہات کے سبب کالعدم قرار دے دیا تھا۔

ریزرویشن کے اس مسودے میں مسلمانوں کے امیر اور سماجی طور پر باوقار ایسے طبقے کو شامل نہيں کیا گیا جن کی سالانہ آمدنی ڈھائی لاکھ سے زیادہ ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق یہ کوٹہ مذہب کی بنیاد پر مسلمانوں کو نہيں دیا جا رہا بلکہ یہ صرف تعلیمی اور سماجی طور پر پسماندہ مسلمانوں کے لیے مخصوص ہے اور ریزرویشن کی حد پچاس فیصد سے زیادہ نہيں ہے۔

اس سے قبل ریاستی حکومت نے دو ہزار پانچ اور چھ میں بھی مسلمانوں کو پانچ فیصد ریزرویشن دیا تھا جس سے سات سو مسلم طلبا ء کو فائدہ پہنچا تھا لیکن بعد میں حیدرآباد ہائیکورٹ نے اس ریزرویشن کو بعض قانونی وجوہات کے سبب کالعدم قرار دے دیا تھا۔

حکومتی دعوے کے تحت اس مرتبہ ریزرویشن سے ریاست کے پچاسی فیصد مسلمانوں کو فائدہ پہنچے گا۔ آندھرا پردیش میں مسلمانوں کی آبادی دس فیصد ہے۔

ریزرویشن کے لیے جن پندرہ برادریوں کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں تعلیمی اور سماجی پسماندگی کے ساتھ ساتھ خاندانی پیشے کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔ جن طبقات کو ریزرویشن سے فائدہ ہوگا ان میں ماہی گیر، دھوبی، حجام، قصائی، عطرفروش، چمڑے کے کاروباری اور فقیروں جیسی برادریاں شامل ہیں۔

مسلمانوں کی سب سے بڑی جماعت ’شیخ‘ بھی اس فہرست میں شامل ہے۔ جن برادریوں کو ریزرویشن سے الگ رکھا گیا ہے ان میں سید، مغل، پٹھان، ایرانی، بوہری،اسماعیلی شیعہ، خوجہ، کوچی اور مینن شامل ہیں۔

خیال رہے کہ بعض مسلم تنظیمیں ذات کی بنیاد پر مسلمانوں کے درمیان ریزرویشن کی مخالف ہیں اور ان کے نزدیک یہ اسلام کے منافی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد