BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 23 April, 2007, 18:12 GMT 23:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ریزرویشن :پابندی جاری رہےگي
مرکزی حکومت کی عرضی خارج
مرکزی حکومت نے اعلی تعلیمی اداروں میں پسماندہ طبقوں کے لیے ریزرویشرن پر پابندی ختم کرنے کی گزارش کی تھی۔
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے پسماندہ ذاتوں کے لیے اعلی تعلیمی اداروں میں نشستیں مخصوص کرنے پر پابندی کو ختم کرنے کی مرکزی حکومت کی درخواست خارج کر دی ہے۔

عدالت نے کہا ہے کہ پسماندہ ذاتوں کو رواں تعلیمی سال میں ریزرویشن سے فائدہ نہيں مل سکتا ہے۔

عدالت کا کہنا تھا ’ آپ لوگوں نے چھپّن سال تک ریزرویشن کے لیے انتظار کیا ہے تو ایک سال اور کیوں نہیں انتظار کر سکتے ہیں اتنی جلدی بازی کیوں ہے‘۔
پسماندہ طبقوں کے لیے ریزرویشن کے متعلق آئندہ سماعت اس سال اگست میں ہوگی۔

انتیس مارچ کو سپریم کورٹ کے ایک بینچ نے اعلی تعلیمی اداروں میں پسماندہ طبقوں کے لیے ستائیس فیصد نشستیں مخصوص کرنے کے حکومتی فیصلہ پر حکم امنتاعی جاری کر دیا تھا۔

عدالت کے اس فیصلہ کے بعد مرکزی حکومت نے گزشتہ پیر کے روز سپریم کورٹ میں درخواست داخل کر کے اعلی تعلمی اداروں میں پسماندہ طبقوں کے لیے ریزرویشرن پر پابندی ختم کرنے کی گزارش کی تھی۔

حکومت نے پانچ ججوں پر مشتمل آئینی بینچ کی تشکیل کے لیے بھی اپیل کی تھی۔حکومت کی دلیل تھی کہ اس سے قبل سپریم کورٹ کے نو اراکین پر مشتمل ججوں کے ایک آئینی بینچ نے پسماندہ طبقوں کے ریزوویشن پر مہر ثبت کی تھی اور کہا تھا کہ یہ معاملہ بھی سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کی بنیاد پر نافذ ہونا چاہیے۔

سپریم کورٹ:
چھپّن سال تک ریزرویشن کے لیے انتظار کیا ہے تو ایک سال اور کیوں نہیں انتظار کر سکتے ہیں اتنی جلدی بازی کیوں ہے

پیر کے روز عدالت نے کہا’ حکومت کی جانب سے دی جانے والی دلیل قابل قبول نہيں ہے اس لیے عدالت اپنے گزشتہ فیصلہ میں تبدیلی نہيں کرسکتی‘ ۔

عدالت کا کہنا ہے کہ پسماندہ ذاتوں کے لیے قابل اعتبار جائزے کی عدم موجودگی میں ریزرویشن نافذ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ حکومت نے پسماندہ ذاتوں کے لیے سیٹیں مخصوص کرنے کا جو پیمانہ متعین کیا ہے اس کی بنیاد 1931 کی مردم شماری ہے جوغیرمستند ہے۔

عدالت نے انتیس مارچ کے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ حکومت پہلے پسماندہ ذاتوں کے اعداد و شمار کا صحیح تعین کرے تاکہ پسماندہ ذاتوں کے زمرے میں آنے والی تمام ذاتوں کے بارے میں پوری اور مکمل معلومات حاصل کی جا سکے۔

سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اگرچہ رواں تعلیم سال تک کے لیے ہے لیکن آئندہ تعلیمی سال سے ریزرویشن کے نفاذ پر پابندی لگنے سے ریزروشن کے حامیوں کو زبردست دھچکا پہنچا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد