BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 21 May, 2006, 12:49 GMT 17:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ

میڈیکل طلباء کئی ہفتوں سے احتجاج کررہے ہیں
ہندوستان کے دارالحکومت دلی میں میڈیکل طلباء نے ہڑتال ختم کرنے کی وزیراعظم منموہن سنگھ کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے ہڑتال جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سنیچر کو وزیراعظم نے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں رزرویشن کے خلاف احتجاج کرنے والے میڈیکل اسٹوڈنٹس سے خوشگوار ماحول میں اس مسئلہ کا حل نکالنے کی صلاح دیتے ہوئے ڈاکٹروں سے ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی تھی۔

اس درمیان حکومت نے ہڑتال کرنے والوں کے خلاف سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے ریزیڈنٹ ڈاکٹروں سے 24 گھنٹوں ميں ہاسٹل خالی کرنے کا نوٹس جاری کیا ہے۔

نوٹس ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز یعنی ایمز میں ڈاکٹروں کے نمائندے ونود پاترا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ایمز کے اڈمنسٹریٹو یونٹ کی طرف سے نوٹس حاصل ہوا ہے جس میں لکھا ہے کہ اگر آپ ہڑتال میں شامل ہیں تو چوبیس گھنٹوں کے اندر ہاسٹل خالی کر دیں۔‘

وزیراعظم کی اپیل کے بارے میں ڈاکٹر پاترا نے کہا کہ منموہن سنگھ دو رخی بات چیت کر رہے ہیں۔ ’ایک طرف وہ بات چیت کے ذریعے اس مسئلہ کا حل نکانلے کی بات کرتے ہیں اور دوسری جانب انہوں نے ڈاکٹروں کی نوکری ختم کرنے کے بعد رام منہور لوہیا، لیڈی ہارڈنگز اور صفدر جنگ جیسے ہسپتالوں میں نئے ڈاکٹروں کی بھرتی کے لیئے اخبارات میں اشتہار بھی دے دیے ہیں۔‘

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ حکومت جب تک ان کی مانگیں پوری نہیں کرتی ان کا احتجاج جاری رہے گا۔ ڈاکٹرز کا مطالبہ ہے کہ حکومت رزرویشن سے متعلق اپنی موجودہ تجویز کو فورا واپس لے اور رزرویشن کی موجودہ پالیسی پر نظرثانی کے لیئے ایک غیرسیاسی کمیٹی تشکیل دے۔

حکومت کی تعلیمی اداروں میں موجودہ سیٹوں میں اضافے کی تجویز کی پیش کش کو بھی ان ڈاکٹرز نے مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اس مسئلہ کا عبوری حل ہے۔ مرکزی حکومت تعلیمی اداروں میں سیٹیں مخصوص کرنے کے ساتھ ساتھ داخلوں میں اضافے پر بھی غور کررہی ہے۔

حکومت نے اس مسئلے کے حل کے لیے وزیر دفاع پرنب مکھرجی کی سربراہی میں وزراء کے ایک گرپ نے رزرویشن کے خلاف تنظیموں کے نمائندوں سے بات چیت کرنے کے بعد ایک رپورٹ تیار کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس رپورٹ پر وزيراعظم مختلف سیاسی جماعتوں سے پیر کے روز سے صلاح و مشورے کا سلسلہ شروع کريں گے۔

دلتکوٹے کی سیاست
پسماندہ افراد کے لیئے کوٹہ پر تنازعہ
نتیش کی مشکل
کوٹہ پر بہار کے وزیراعلیٰ کی مشکل
ویشالیمیں ڈاکٹر بنوں گی
رکشہ چلانے والے کی بیٹی جو کامیابی رہی
اسی بارے میں
ریزرویشن کی سیاست
16 May, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد