ہڑتال سےطبی خدمات متاثر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیامیں ریزرویشن کے خلاف ڈاکٹروں کی ہڑتال سے ملک کے کئی ہسپتالوں میں طبی خدمات متاثر ہوئی ہیں۔ زیادہ تر جونیئر ڈاکٹرز اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پسماندہ ذات کے لیئے پچاس فیصد سیٹیں مخصوص کرنے کے حکومت کے فیصلے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ دارالحکومت دلی سمیت ملک کے کئی سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی کے سبب مریضوں کو داخل کرنے کے بجائے انہیں واپس کردیا گیا ہے۔ بعض سینیئر ڈاکٹر چھوٹے موٹے علاج کے لیے اپنی خدمات مہیاکر رہے ہیں لیکن زیادہ تر لوگوں کو پرائیوٹ ہسپتالوں کا سہارا لینا پڑ رہا جہاں علاج مہنگا ہوتا ہے۔ ریزرویشن کے خلاف ہڑتال بھوپال، لکھنؤ اور رائے پور جیسے دیگر شہروں میں بھی ہے لیکن اس مہم کا سب سے زیادہ اثر دلی میں ہے جہاں گزشتہ پانچ روز سے ڈاکٹر ہڑتال پر ہیں۔ دلی میں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے باہر جونیئر ڈاکٹروں کی ایک بڑی تعداد بھوک ہڑتال پر ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت اپنے ریزرویشن کے فیصلے کو واپس نہیں لیتی وہ ہڑتال جاری رکھیں گے۔ جمعرات کو ہڑتال کا پانچواں دن ہے۔ گزشتہ روز مرکزی وزیر آسکر فرناڈیز نے ڈاکٹروں کے نمائندوں سے ہڑتال ختم کرنے کے لیئے بات چیت کی تھی۔ لیکن ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کی کارروائی سے مطمئن نہیں ہیں۔ وزیراعظم منموہن سنگھ نے ریزرویشن پر غور و فکر کے لیئے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جو اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ ریزرویشن کے نفاذ میں سبھی طبقوں کا خیال کیسے رکھا جائے۔ لیکن دلی میڈیکل اسٹو ڈینٹس ایسو سی ایشن کے ایک رکن جتن جے پوریہ کا کہنا ہے کہ اس پورے معاملے کا جائزہ لینے کے لیئے ایک عدالتی کمیٹی کی ضرورت ہے۔ ’سیاسی جماعتوں نے تو پہلے ہی پارلیمنٹ میں ریزرویشن بل کو منظوری دیدی ہے پھر سیاسی کمیٹی بنانے کی کیا ضرورت ہے؟‘ دوسری طرف کوٹہ کے حامیوں نے بھی اپنی آواز بلند کی ہے ۔ ریزرویشن کے حامیوں کا کہنا ہے کہ حکومت کسی کے دباؤ میں اپنا فیصلہ واپس نہ لے۔ حکومت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ وہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں سیٹوں کے اضافے جیسی تجاویز پر غور کر رہی تاکہ سب کے ساتھ انصاف ہوسکے لیکن حکومت اپنا فیصلہ واپس نہیں لےگی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||