BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 10 July, 2004, 13:33 GMT 18:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میں ڈاکٹر بنوں گی۔۔۔

ویشالی کو اپنی کامیابی پر فخر ہے
ویشالی کو اپنی کامیابی پر فخر ہے
یہ ایک غریب لڑکی کی کہانی ہے جو زندگی میں کچھ حاصل کرنے کے لیے غربت اور معاشرتی تعصب جیسی مشکلات کا سامنا کرتی ہے۔

اس کی یہ کامیابی ناگپور میں رکشہ چلانے والے رمیش وانکھڑے اور اس کی بیوی کی روز مرہ زندگی میں مددگار ثابت ہونے کے علاوہ ان کی زندگیوں میں مسرت بھر دیتی ہے۔

رمیش وانکھڑے کی بیٹی ویشالی کو اس کی انتھک محنت اور لگن کے بل بوتے پر، اس برس مہاراشٹر میں ڈاکٹری کی تربیت حاصل کرنے والوں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے۔

ناگ پور شہر میں آباد مانگ برادری میں زیادہ تر لڑکیوں کی شادی سترہ برس کی عمر میں ہی کر دی جاتی ہے۔ مانگ برادری کے لوگ بھارتی ذاتی برادری کی درجہ بندی میں نچلی ذات کے دلت ہندوؤں میں بھی محروم تر طبقہ گردانے جاتے ہیں۔

اسی غربت اور محرومی کے سبب مانگ برادری سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے سفید پوشی کی زندگی بسر کرنا بعید از قیاس ہے۔

کچی پورہ نامی علاقہ ملک میں متعارف کرائی جانے والی اقتصادی اصلاحات سے اب تک محروم ہے۔ لیکن ویشالی کچی پورہ کے غریب طلباء کے لیے ایک رول ماڈل بن گئی ہے۔

ویشالی اس ماہ کے آخر میں مہاراشٹر کے میڈیکل کالج میں اپنا اندراج کرانے کے بعد بچپن سے ڈاکٹر بننے کا خواب پورا کرے گی۔

ویشالی نے بھارت میں ملک گیر سطح پر ہونے والے پری میڈیکل ٹیسٹ میں شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ ’میں نے میڈیکل کا انتخاب اس لیے کیا کیونکہ مجھے حساب سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔‘

News image
ویشالی اور اس کے والدین کو مالی مشکلات کا ہمیشہ سامنا رہا

ویشالی کے والدین غیر تعلیم یافتہ ہیں لیکن انہوں نے اپنی بیٹی کو کام کرنے اور روزگار کمانے پر کبھی مجبور نہیں کیا۔ ویشالی نے بتایا کہ ’میرے والد مجھے پڑھا نہیں سکتے تھے لیکن وہ اپنے رکشہ پر روزانہ مجھے سکول لے جاتے۔ میں آج بہت خوش ہوں۔‘

بھارت میں میڈیکل کی تعلیم کے لیے 4360 ڈالر سالانہ خرچہ اٹھتا ہے لیکن ویشالی کو اس لیے مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کہ مہاراشٹر کی حکومت نے نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے طلبا کی فیسیں معاف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ بھارت کے یونین بینک نے بھی ویشالی کو سپانسر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ویشالی کے والدین کی ماہانہ آمدن تیس ڈالر کے برابر تھی اور ان نامساعد حالات کے سبب اس کے دو بڑے بھائیوں کو سکول سے نکال دیا گیا تھا۔

ویشگالی کے بھائی اپنی بہن کو تعلیم دلوانا چاہتے تھے۔ ویشالی کی ماں کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی بعض اوقات بھوکی پیاسی سکول جاتی۔

تاہم اب اس کی کامیابی کے باعث محلے کے دیگر طلباء ویشالی کی مدد حاصل کرتے ہیں۔ وہ کہتی ہے ’ہم ایک دوسرے کے ساتھ مِل کر ایک رو دنیا کی شکل بدل دیں گے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد