نیو یارک لائبریری کا غریب شہزادہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک امریکی طالب علم نیو یارک میں رہائش کے لئے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے آٹھ ماہ تک اپنی یونیورسٹی کی لائبریری میں سوتا رہا۔ سٹیون سینزیک نامی یہ طالب علم گزشتہ سال ستمبر سے رہائشی اخرجات پورے نہ کر پانے کی وجہ سے نیو یارک یونیورسٹی کی لائبریری میں سو رہے تھے۔ وہ ’کری ایٹو رائٹنگ‘ کا مضمون پڑھتے ہیں۔ سینزیک کا کہنا ہے کہ سالانہ پندرہ ہزار ڈالر وظیفہ حاصل کرنے اور ہفتے میں تیس گھنٹے کام کرنے کے باوجود ان کے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے کہ وہ کالج کی فیس ادا کرنے کے بعد وہ ایک کمرے کا کرایہ بھی ادا کر سکیں۔ سینزیک یونیورسٹی کے غسل خانے اور بیت الخلاء استعمال کرتا تھا اور اپنے کپڑے اور سامان رکھنے کے لئے لاکر استعمال کرتا رہا۔ اب یونیورسٹی کے منتظمین نے سینزیک کو موسم گرما کے لئے ایک کمرہ دے دیا ہے۔ حکام کو سنزیک کے بارے میں اُس کی اپنی ویب سائٹ پڑھ کر پتہ چلا۔ یونیورسٹی کی لائبریری چوبیس گھنٹے کھلی رہتی ہے اور وہاں تعینات سیکیورٹی گارڈوں نے سینزیک کی طرف بالکل دھیان نہیں دیا جو چھ چھ گھنٹے تک کرسی پر سوتا رہتا تھا۔ اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا گیا ہے کہ لائبریری میں کسی نے سینزیک کے سونے اور خراٹے لینے پر بھی اعتراض نہیں کیا۔ اپنے تجربات ویب سائٹ پر شائع کرنے کی وجہ سے سینزیک یونیورسٹی کے دیگر طالب علموں میں مقبولیت حاصل کر لی تھی۔ گزشتہ سال نیویارک یونیورسٹی کو امریکہ کی گیارہویں مہنگی ترین یونیورسٹی قرار دیا گیا تھا۔ نیو یارک یونیورسٹی ایک سو اٹھاون طالب علموں کے ساتھ سن اٹھارہ سو اکتیس میں قائم ہوئی تھی۔ اب وہاں اڑتالیس ہزار طالب علم پڑھتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||