BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 17 May, 2007, 09:54 GMT 14:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ریزرویشن کا معاملہ بڑے بینچ کے حوالے
سپر یم کورٹ نےستائیس فیصد نشستیں مخصوص کرنے کے فیصلے پر حکم امنتاعی جاری کیا تھا
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے پسماندہ ذاتوں (اوبی سی) کے لیے اعلیٰ تعلمی اداروں میں ریزرویشن کے معاملے کی سماعت ایک بڑے بینچ کے سپرد کرنے کا حکم دیا ہے۔

جمعرات کو جسٹس اریجیت پسایت اور پی کے جین پر مشتمل بینچ نے کہا کہ اب بڑا بینچ غور کرے گا کہ آیا حکومت سماجی طور پر پسماندہ طبقوں کے لیے ریزرویشن کی بلا رکاوٹ مزید توسیع کر سکتی ہے یا نہیں۔ ججوں کے مطابق عدالت اس معاملے میں ترانوے آئینی ترامیم پر نظر ثانی کرے گی جس کے تحت سماجی طور پر پسماندہ طبقوں کو ریزرویشن دی جاتی ہے۔

خیال رہے کہ حکومت نے عدالت سے یہ درخواست کی تھی کہ پسماندہ ذاتوں کے لیے اعلی تعلیمی اداروں میں ستائیس فیصد نشستیں مخصوص کرنے کے معاملے کی سماعت آئینی بینچ سے کرائی جائے۔

حکومت نے یہ درخواست اریجیت پسایت اور ایل ایس پنٹہ پر مشتمل ایک بینچ کے اس حکم کے بعد دی تھی جس میں کہا گيا تھا کہ رواں تعلیمی سال میں پسماندہ ذاتوں کو ریزرویشن سے فائدہ نہيں مل سکتا ہے اور معاملے کی سماعت اگست میں ہوگي۔

مذکورہ بینچ کے فیصلے کے خلاف حکومت نے چیف جسٹس کے جی بالا کرشنن کی سربراہی میں قائم ایک بینچ سے درخواست کی تھی کہ ’یہ معاملہ مفاد عامہ کا ہے اور اگر اس معاملے کی سماعت جلد نہ کی گئی تو بڑی تعداد میں طلبہ اس سال داخلے سے محروم ہو جائیں گے۔‘

دلچسپ بات ہے یہ کہ سارا معاملہ اس وقت شروع ہوا جب سپر یم کورٹ کے ایک بینچ نے انتیس مارچ کو اعلی تعلیمی اداروں میں پسماندہ طبقوں کے لیے ستائیس فیصد نشستیں مخصوص کرنے کے حکومتی فیصلے پر حکم امنتاعی جاری کر دیا تھا۔

خیال رہے کہ عدالت کا کہنا ہے کہ پسماندہ ذاتوں کے لیے قابل اعتبار جائزے کی عدم موجودگی میں ریزرویشن نافذ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ حکومت نے پسماندہ ذاتوں کے لیے سیٹیں مخصوص کرنے کا جو پیمانہ متعین کیا ہے اس کی بنیاد 1931 کی مردم شماری ہے جوغیرمستند ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ حکومت پہلے پسماندہ ذاتوں کے اعداد و شمار کا صحیح تعین کرے تاکہ پسماندہ ذاتوں کے زمرے میں آنے والی تمام ذاتوں کے بارے میں پوری اور مکمل معلومات حاصل کی جا سکے۔

پسماندہ طبقے کا کوٹے سپریم کورٹ کی تائید
’کوٹہ کے مطابق ترقیوں کی آئینی ترمیم صحیح‘
دلتکوٹے کی سیاست
پسماندہ افراد کے لیئے کوٹہ پر تنازعہ
بہار میں مظاہرے
’غریب خاندانوں کی فہرست میں گڑ بڑ‘
نتیش کی مشکل
کوٹہ پر بہار کے وزیراعلیٰ کی مشکل
دلت خواتینریزرویشن بِل
نچلی ذاتوں کے مخصوص کوٹے کی منظوری
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد