ریزرویشن کا معاملہ بڑے بینچ کے حوالے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے پسماندہ ذاتوں (اوبی سی) کے لیے اعلیٰ تعلمی اداروں میں ریزرویشن کے معاملے کی سماعت ایک بڑے بینچ کے سپرد کرنے کا حکم دیا ہے۔ جمعرات کو جسٹس اریجیت پسایت اور پی کے جین پر مشتمل بینچ نے کہا کہ اب بڑا بینچ غور کرے گا کہ آیا حکومت سماجی طور پر پسماندہ طبقوں کے لیے ریزرویشن کی بلا رکاوٹ مزید توسیع کر سکتی ہے یا نہیں۔ ججوں کے مطابق عدالت اس معاملے میں ترانوے آئینی ترامیم پر نظر ثانی کرے گی جس کے تحت سماجی طور پر پسماندہ طبقوں کو ریزرویشن دی جاتی ہے۔ خیال رہے کہ حکومت نے عدالت سے یہ درخواست کی تھی کہ پسماندہ ذاتوں کے لیے اعلی تعلیمی اداروں میں ستائیس فیصد نشستیں مخصوص کرنے کے معاملے کی سماعت آئینی بینچ سے کرائی جائے۔ حکومت نے یہ درخواست اریجیت پسایت اور ایل ایس پنٹہ پر مشتمل ایک بینچ کے اس حکم کے بعد دی تھی جس میں کہا گيا تھا کہ رواں تعلیمی سال میں پسماندہ ذاتوں کو ریزرویشن سے فائدہ نہيں مل سکتا ہے اور معاملے کی سماعت اگست میں ہوگي۔ مذکورہ بینچ کے فیصلے کے خلاف حکومت نے چیف جسٹس کے جی بالا کرشنن کی سربراہی میں قائم ایک بینچ سے درخواست کی تھی کہ ’یہ معاملہ مفاد عامہ کا ہے اور اگر اس معاملے کی سماعت جلد نہ کی گئی تو بڑی تعداد میں طلبہ اس سال داخلے سے محروم ہو جائیں گے۔‘ دلچسپ بات ہے یہ کہ سارا معاملہ اس وقت شروع ہوا جب سپر یم کورٹ کے ایک بینچ نے انتیس مارچ کو اعلی تعلیمی اداروں میں پسماندہ طبقوں کے لیے ستائیس فیصد نشستیں مخصوص کرنے کے حکومتی فیصلے پر حکم امنتاعی جاری کر دیا تھا۔ خیال رہے کہ عدالت کا کہنا ہے کہ پسماندہ ذاتوں کے لیے قابل اعتبار جائزے کی عدم موجودگی میں ریزرویشن نافذ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ حکومت نے پسماندہ ذاتوں کے لیے سیٹیں مخصوص کرنے کا جو پیمانہ متعین کیا ہے اس کی بنیاد 1931 کی مردم شماری ہے جوغیرمستند ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ حکومت پہلے پسماندہ ذاتوں کے اعداد و شمار کا صحیح تعین کرے تاکہ پسماندہ ذاتوں کے زمرے میں آنے والی تمام ذاتوں کے بارے میں پوری اور مکمل معلومات حاصل کی جا سکے۔ |
اسی بارے میں ریزرویشن: آئندہ سماعت آٹھ مئی کو24 April, 2007 | انڈیا ریزرویشن :پابندی جاری رہےگي23 April, 2007 | انڈیا پسماندہ ذات، ریزرویشن پر روک29 March, 2007 | انڈیا ریزرویشن بِل لوک سبھا میں منظور14 December, 2006 | انڈیا سپریم کورٹ کے حکم پر ہڑتال ختم31 May, 2006 | انڈیا پسماندگی کوٹہ: حکومت سے جواب طلبی29 May, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||