دہشتگردی کے خلاف فتویٰ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’ہم عہد کرتے ہیں کہ اسلام کے پیغام امن کو عام کریں گے اور ہم دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔‘ یہ عہد نامہ جمعیت علماء ہند اور دیگر مذہبی تنظیموں کی جانب سے دہشتگردی مخالف امن کی عالمی کانفرنس میں جاری کیا گیا ہے۔ اس کانفرنس میں جعمیت علماء ہند کے علاوہ دارالعلوم دیو بند ، ندوۃ العلماء لکھنؤ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور دیگر تنظیموں نے دہشتگردی کے خلاف فتویٰ جاری کیا گیا۔
اس کانفرنس میں دلی کے علاوہ اس کے آس پاس کے علاقوں اور ریاستوں کے افراد شرکت کرنے آئے تھے۔ زیور محمد کا تعلق ریاست اتر پردیش سے ہے، ان کا کہنا تھا کہ یہاں آنے پر ان کا حوصلہ بلند ہوا ہے اور ہم اپنی آواز اٹھا رہے ہیں۔ عبد الماجد پیشے سے کسان ہیں ان کا کہنا تھا کہ جہاں بم دھماکہ ہوتا ہے اس کے بعد اگر کوئی داڑھی والا نظر آتا ہے تو اسے گرفتار کر لیا جاتا ہے، ان سب کے خلاف لڑائی تو لڑنا ہوگی۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ فروری میں ملک کے سرکردہ مذہبی ادارے دارالعلوم دیوبند میں دہشت گردی کے خلاف ایک قومی کنونشن میں بھی ایسا ایک فتویٰ جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اسلام دہشت گردی کی ہر شکل میں مذمت کرتا ہے اور یہ اسلام اور امن کے تصور کے خلاف ہے۔ | اسی بارے میں ’مسلمانوں کوہراساں ہونےسے بچائیں‘17 April, 2008 | انڈیا ’ دہشت گردی برداشت نہیں‘25 November, 2006 | انڈیا ’دہشت گردی اسلام کے منافی‘25 February, 2008 | انڈیا ’شیئر بازار میں، دہشتگردی کا پیسہ‘04 December, 2007 | انڈیا لکھنؤ میں مبینہ شدت پسندگرفتار16 November, 2007 | انڈیا ’دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں ‘04 July, 2007 | انڈیا مذہبی مقامات پر حملوں کا خطرہ ہے04 October, 2007 | انڈیا اترپردیش:دومشتبہ شدت پسندگرفتار22 December, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||