BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مذہبی مقامات پر حملوں کا خطرہ ہے
وزیر داخلہ
لشکر طیبہ اور جیش محمد کے ’سلیپر سیل‘ موجود ہيں: وزیر داخلہ
ہندوستان کے وزیر داخلہ شیو راج پاٹل نے متنبہ کیا ہے کہ شدت پسند جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لے رہے ہيں اور وہ ممکنہ حملوں میں مذہبی مقامات اور اہم شخصیات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

بدھ کو ڈائریکٹرز اینڈ انسپکٹرز جنرل آف پولیس کی ایک کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر پاٹل نے کہا ’ یہ واضح ہو گیا ہے کہ شدت پسند جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں اور وہ اپنے حملوں میں اس ٹیکنالوجی کی مدد لے سکتے ہيں۔‘

ان کہنا تھا کہ ’شدت پسند مذہبی مقامات کو نشانہ بنا سکتے ہیں، پولیس ان کے نشانے پر ہو سکتی ہے اورسیاست دان اور دوسری اہم شخصیات پر بھی حملے ہو سکتے ہیں۔‘

وزیر داخلہ نے پولیس کے اعلی اہلکاروں کو تنبیہہ کرتے ہوئے کہا کہ ’شدت پسند ممکنہ طور پر عوامی تشہیر کا طریقہ بھی استعمال کر سکتے ہیں تا کہ عوام کو گمراہ کیا جا سکے۔ اور اپنے حملے کےلیے وہ پرہجوم والے مقامات کا انتخاب کریں گے جہاں معصوم عوام جمع ہوتے ہیں۔‘

خفیہ اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا ’پاکستانی شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ اور جیش محمد کے ’سلیپر سیل‘ ملک میں موجود ہیں اور شدت پسند تنظیمیں جب بھی چاہیں گی ان کو متحرک کر سکتی ہيں۔‘

حملہ آور بھیڑ والے مقامات کا انتخاب کریں گے جہاں معصوم عوام جمع ہوتے ہیں

اس کانفرنس کے موقع پر انہوں نے خفیہ معلومات کو زیادہ فعال بنانے پر زور دیا اور کہا کہ ’ پولیس اور خفیہ ایجنسیاں ایسی معلومات حاصل کریں جن کی بنیاد پر بر وقت، بہتر اور قابل اعتبار کاروائی کی جا سکے اور پولس نظام کو بہتر کیا جا سکے۔

انہوں نے سیکورٹی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب عدم تحفظ ہوگا تو سرمایہ کاری میں کمی آئے گی اوراس وجہ سے ترقی میں رخنہ پیدا ہوگا۔

مسٹر پاٹل نے ریاستوں میں آبادی کے تناسب میں پولیس کی کم ہوتی تعداد پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا ہے کہ خالی پڑی اسامیوں پر نئی بھرتی میں تاخیر کرنا ٹھیک نہیں ہوگا۔

وزیر داخلہ نے کسی ریاست کا نام لیے بغیر کہا کہ پولیس نظام میں بہتری کےلیے مرکزي حکومت کی جانب سے جو رقوم ریاستی حکومتوں کو مہیا کی جاتی ہیں ان کا صحیح استعمال نہیں کیا جا رہا۔

وزیر داخلہ کا بیان اس لیے اہم ہے کہ ہندوستان میں ہونے والے حالیہ شدت پسند حملے زیادہ تر مذہبی مقامات یا پر ہجوم بازاروں میں ہوئے ہیں اور چند دنوں بعد ملک میں تہواروں کا دور شروع ہونے والا ہے جن میں عید، دیوالی اور درگا پوجا کے تہوار شامل ہیں۔

مالیگاؤںمالیگاؤں دھماکے
دھماکوں کی برسی:لوگ یومِ سیاہ منا رہے ہیں
حیدر آباد دھماکوں کے بعد’امن و امان کو خطرہ‘
حیدرآباد میں دھماکوں کے بعد تناؤ میں اضافہ ہوا ہے
بنارس دھماکے (فائل فوٹو)انڈیا میں دھماکے
انڈیا میں ہونے والے حالیہ دھماکے اور زمینی حقائق
شعیب’مکہ مسجد دھماکہ‘
شعیب قصوروار یا نعیم شیخ سے تعلق کی سزا
یاسمینہ کی والدہ حلیمہآخری سفر
یاسمینہ 7 سال بعد بچوں سے ملنے جارہی تھیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد