مقدس ترین مندر تنازعات کا شکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست بہار میں واقع دنیا بھر میں پھیلے بدھوں کا مقدس ترین مرکز ’بدھ گیا‘ تنازعات کا شکار ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ڈھائی ہزار سال پہلے گوتم سدھارتھ کو پیپل کے ایک درخت کے نیچے عبادت کے دوران روحانیت کا نزول ہوا تھا جس کے بعد وہ گوتم بدھ کے نام سے مشہور ہوئے۔ الزام لگانے والوں کا کہنا ہے کہ قدیم اور مقدس درخت کی شاخیں کاٹی گئي ہیں اور مہا بدھی مندر کا انتظام دیکھنے والی مہابدھی ٹیمپل منیجمنٹ کمیٹی بھی بدانتظامی اور بدعنوانیوں کا شکا ہے۔ بدھ گیا ریاستی دارالحکومت پٹنہ سے تقریبا پچھہتر کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ گزشتہ دنوں سوامی اروپ برہمچاری نامی ایک شخص نےگيا کے چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ کی عدالت میں اس متعلق ایک مقدمہ دائر کیا ہے۔ مندر کے مالی دیپک مالاکار نے بھی یہ بیان دے کر سنسنی پھیلا دی کہ انہوں نےگزشتہ سال جولائی میں مندر کے پجاری بدھی پال کی ہدایت پر مقدس درخت کی ایک شاخ کاٹ کر ان کے گھر پہنچائی تھی۔ مالاکار کے اس بیان سے گزشتہ سال حکومت کے ذریعہ کرائی گئی جانچ رپورٹ پر بھی سوالیہ نشان لگ گيا ہے جس میں دعویٰ کیا گيا تھا کہ کٹی ہوئي شاخ برسوں پرانی ہے۔فارسٹ لیباریٹری نے، جسے جانچ کا ذمہ دیا گيا تھا، ابھی تک کوئی رپورٹ نہيں دی ہے جس سے شک اور بھی گہرا ہوگیا ہے۔ برہمچاری کا الزام ہے کہ درخت کی شاخیں کاٹی گئی ہیں اور اس کے شواہد میں انہوں نے کچھ تصاویر بھی جاری کی ہیں۔انہوں نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ یہ معاملہ اٹھانےکے بعد ان پر اور مالاکار کی جان کو خطرہ ہے۔انہیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ آسٹریا کی ایک خاتون انا کونزیٹ نے بتایا کہ انہوں نے بدھ گیا میں اپنے چندماہ کے قیام میں متعدد بدعنوانیاں دیکھی ہیں۔ کونزٹ کا کہنا ہے کہ انہوں نےمندر میں بعض لوگوں کو درخت کی شاخیں کاٹتے ہوئے دیکھا ہے ۔ انہوں نے اس جانب یونیسکو کے ورلڈ ہریٹج کے پیرس مقیم ڈائریکٹر کی بھی توجہ مبذول کرائی ہے۔ واضح رہے کہ مہا بدھی مندر عالمی اثاثوں یا ورلڈ ہریٹیج میں شامل ہے۔ اسی دوران ایک اور الزام سر اٹھا رہا ہے کہ مندر کے وسیع احاطے میں جگہ جگہ نصب استوپا میں لگی بدھ کی مورتیاں یا تو غائب کر دی گئی ہيں یا ان کی جگہ نقلی مورتیاں لگا دی گئی ہیں۔ آل انڈیا مونک ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری بھنتے آنند نے تمام معاملات کی سی بی آئی سے انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان تمام امور کیے لیے ٹیمپل منیجمنٹ کمیٹی کو مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔ کمیٹی کے سیکرٹری کالی چرن یادو ان الزامات کو بے بنیاد بتاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کمیٹی حکومت کی تشکیل شدہ ہے اور سارے معاملات حکومت کے علم میں ہیں۔وہ تمام الزامات سے انکار کرتے ہیں ۔
گزشتہ کئی برسوں سے یہ کمیٹی ہمیشہ تنازعہ کا شکار رہی ہے۔ کمیٹی کی معیاد تین برس ہوتی ہے۔ اسے ریاستی حکومت کے ایک قانون کے تحت تشکیل دیا جاتا ہے جس میں آٹھ ممبران کی نامزدگی ہوتی ہے۔ ان میں سے چار ارکان بدھ اور چار ہندو ہوتے ہيں۔ عام طور پر سیکرٹری بھی کوئی ہندو ہوتا ہے۔ کمیٹی کی تاریخ میں صرف ایک بار ایک بدھ پرگیا شیل کو سکریٹری بنایا گيا تھا۔ قانون کے مطابق کمیٹی کا صدرگیا کا ضلع مجسٹریٹ ہوتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اسے ہندو ہونا چاہیے۔ اگر ضلع مجسٹریٹ غیر ہندو ہوگا تو اس حالت میں حکومت کسی دوسرے شخص کو صدر بناتی ہے۔ مہا بدھی مندر کو ہندؤں کے ’قبضہ‘ سے رہائی دلانے کے لیے گزشتہ پندرہ برسوں میں کئی بار پرتشدد مظاہرے اور تحریکیں بھی بدھ گيا میں چلائی گئی ہیں۔ بدھوں کا آج بھی مطالبہ ہے کہ متعلقہ قانون میں ترمیم کرتے ہوئے مندر کا پورا انتظام بدھوں کے سپرد کردیا جائے لیکن حکومت نے آج تک اس پو کوئی توجہ نہيں دی ہے۔ ادھر ہندوؤں کا کہنا ہے کہ ان کا بھی اس مندر پر اتنا ہی حق ہے جتنا کہ بدھوں کا ہے کیو ں کہ گوتم بدھ ہندو تھے اور وشنو کے اوتار تھے۔ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا کہنا ہے کہ اگر کوئی بدعنوانی ہوئی ہے تو اس کی تفتیش کرائی جائےگی اور جولوگ بھی ملوث ہیں ان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔ انہوں نے بدھ گیا کے دورے کے موقع پر بھی کہا کہ بدھی درخت کی دیکھ بھال کی ذمہ داری دہرادن میں واقع فارسٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کو دی جائے گي۔ بدھ گيا بدھوں کےلیے اتنا ہی مقدس مقام ہے جتنا مسلمانوں کے لیے مکہ اور عیسائیوں کے لیے ویٹیکن ۔ ہرسال لاکھوں بدھ مختلف ممالک سے یہاں زيارت کے لیے آتے ہیں۔ دلائی لاما تقریباً ہرسال یہاں آ کر کچھ دن گزارتے ہيں۔ کئی ممالک یہاں کی ترقی اور سڑک وغیرہ کی تعمیر کے لیے بھی فنڈ فراہم کرتے ہیں لیکن بدانتظامی، پسماندگی اور غریبی اس علاقہ کا ساتھ نہيں چھوڑ تی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||