ایم ایس احمد پٹنہ |  |
 | | | منٹن کو جووینائل جسٹس بورڈ نے چھ ماہ تک مندر میں جوتے صاف کرنے اور کھچڑی بانٹنے کی سزا دی ہے |
بچوں کے جرائم کا فیصلہ سنانے والی ایک عدالت کے حکم پر بہار کے ایک نوجوان نے پٹنہ کے مشہور مہاویر مندر میں جوتے صاف کرنے اور کھچڑی تقسیم کرنے کی سزا کاٹنی شروع کی ہے۔ یہ ملک میں اپنی نوعیت کی منفرد سزا بتائی جا رہی ہے۔ بیس سالہ وشوجیت کمار عرف منٹن کو جووینائل جسٹس بورڈ نے ایک پانچ سالہ بچی کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کے جرم میں چھ ماہ تک مندر میں خدمت کرنے کی سزا دی ہے۔ مہاویر مندر کے منتظم کشور کنال کے مطابق پٹنہ کے قریب گوری چک تھانے کا رہنے والا منٹن اپنے جرم کی پاداش میں چار برس سے بھی زیادہ ریمانڈ ہوم میں کاٹ چکا ہے اور جووینائل ایکٹ کے تحت کسی بچے کو تین سال سے زائد تنہائی میں نہیں رکھا جا سکتا۔ مسٹر کنال خود ایک مشہور آئی پی ایس افسر رہ چکے ہیں اور فی الوقت بہار کے ایک مذہبی ادارے: ’ریلیجس ٹرسٹس بورڈ‘ کے منتظم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جووینائل جسٹس بورڈ نے ان کے پاس اس لڑکے کو ’کمیونٹی سروس‘ کرنے کے لیے بھیجا ہے۔ ان کے بقول کورٹ نے مندر کو ہر ماہ منٹن کے رویے کے بارے میں رپورٹ دینے کے لیے کہا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’کسی مذہبی جگہ پر بچے کا آنا اس کے ذہن کو بہتر کاموں کی طرف راغب کریگا۔ انہوں نے بتایاکہ جووینائل جسٹس سسٹم میں ملک بھر میں ایسی سزا پہلی بار دی گئی ہے۔
 | منٹن چار برس کاٹ چکا ہے  منٹن اپنے جرم کی پاداش میں چار برس سے بھی زیادہ ریمانڈ ہوم میں کاٹ چکا ہے اور جووینائل ایکٹ کے تحت کسی بچے کو تین سال سے زائد تنہائی میں نہیں رکھا جا سکتا  |
سزا دینے کے اس طریقے پر بعض حلقوں نے تنقید بھی کی ہے۔ پیپلس یونین فار سول لبرٹیز کے ریاستی اہلکار ونیئے کنٹھ نے کہا ہے کہ وہ پورے معاملے کی جانکاری حاصل کریں گے لیکن بقول مسٹر کنٹھ ’ بظاہر سزا دینے کا یہ طریقہ صحیح نہیں معلوم ہوتا‘۔پٹنہ ہائی کورٹ کے وکیل بھوپندر کمار کہتے ہیں کہ جووینائل جسٹس بورڈ ایک سرکاری ادارہ ہے اور وہ مذہب سے تعلق رکھنے والی کوئی سزا کیسے دے سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بورڈ کے اس فیصلہ کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔ مندر کے اہلکار کشور کنال نے تسلیم کیا کہ چار سال ریمانڈ میں رہنے کی وجہ سے لڑکے کے مزاج میں سختی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اس لڑکے نے سزا ختم ہونے کے بعد بھی مندر میں ہی رہنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ |