ہلاکت خیز دوا کروڑوں ڈالر سزا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی ریاست ٹیکساس کی ایک عدالت نے ایک دوا ساز کمپنی میرک کو دوسو تریپن اعشاریہ چار ملین ڈالر کی رقم ایک شخص کی بیوہ کو معاوضے کے طور پر ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اننچاس سالہ رابرٹ ارنسٹ کی موت اس کمپنی کی بنائی ایک معروف درد کی دوا وی اوکس کے استعمال سے ہوئی تھی۔ عدالت نے رابرٹ ارنسٹ کی موت کا ذمہ دار میرک کی اس دوا کو ٹھہرایا۔ یہ فیصلہ اس کمپنی پر قائم چار ہزار مقدمات میں سے پہلے کیس کا فیصلہ ہے۔ وی اوکس نامی اس دوائی کے بارے میں گزشتہ سال ایک تحقیق منظر عام پر آئی تھی کہ یہ دوائی دل اور فالج کے حملوں کے خطرے کو دوگنا کرسکتی ہے۔ کمپنی نے رابرٹ کی موت کا ذمہ دار اس دوائی کو ماننے سے انکار کردیا ہے اور اس کے وکیل نے کہا کہ کمپنی اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرے گی۔ اس دوا پر پابندی سے پہلے اسے دنیا بھر میں بیس ملین سے زائد افراد نے استعمال کیا۔ یہ دوا زیادہ تر گینٹھیا کے مریض استعمال کرتے تھے۔ جمعہ کو میرک نامی اس دوا ساز کمپنی کے حصص دو اعشاریہ پینتیس ڈالر گرے یعنی اس میں سات فیصد کمی واقع ہوئی۔ میرک نے وی اوکس نامی یہ دوا گزشتہ سال ستمبر میں بازار سے اٹھوالی تھی۔ اس دوا کے بارے میں یہ اندازہ ہے کہ انیس سو ننانوے میں اس دوا کی منظوری کے بعد سے اس کے استعمال سے ستائیس ہزار سات سو پچیاسی افراد دل کے حملوں کے سبب ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس کمپنی کے خلاف اب تک قائم ہونے والے مقدموں کی تعداد تین ہزار آٹھ سو ہے۔ مسٹر رابرٹ کی بیوہ اس مقدمے کا فیصلہ سننے کے بعد رونے لگیں۔ اس فیصلے کو انہوں نےاس قسم کی دوا ساز کمپنیوں کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار دیا۔ کمپنی نےاس فیصلے کو بڑا مایوس کن قرار دیا اور کہا کہ اس کے پاس بڑے مضبوط نکات ہیں جن کی بنیاد پر وہ اس فیصلے کےخلاف اپیل دائر کرے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||