یہودی تہوار پر ویاگرا حلال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کے ایک سرکردہ مذہبی رہنما نے فیصلہ دیا ہے کہ یہودیوں کا تہوار ’پاس اوور‘ کے دوران ویاگرا کا استعمال جائز ہے۔ سن انیس سو اٹھانوے میں یہودیوں کے سخت غذائی اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے موسم بہار کے ایک ہفتہ جاری رہنے والے اس تہوار میں ویاگرا کے استعمال کو کوشر یا یہودی عقیدے کے مطابق حلال قرار دیا گیا تھا۔ یروشلم کے ایک اخبار میں شائع خبر کے مطابق ربی موردے چائی الیاہو کا کہنا ہے کہ اگر ویاگرا کی گولی کو تہوار سے قبل ایک خاص کوشر کیپسول میں بند کر کے لیا جائے تو جائز ہوگا۔ اس سے قبل مذہبی رہنماؤں نے پاس اوور کے موقع پر اس دوا کے استعمال پر اس لیے پابندی لگائی تھی کہ اس کے اوپر کی تہہ میں استعمال شدہ اجزا کوشر نہیں۔ یہودی اصول کہ مطابق اس تہوا کے دوران صرف زندگی بچانے کی ادویات ہی استعمال کی جا سکتی ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اسرائیل میں اوسطاً ہر منٹ میں ویاگرا کے استعمال کے لیے ایک نسخہ جاری ہوتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||