سزائیں پانے والوں کے خاکے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں انسداد دہشت گردی کے مقدمے میں مجرم قرار دیئے جانے والے پانچ افراد میں سے چار پاکستانی نژاد ہیں جنہیں القاعدہ کا حامی بتایا گیا ہے۔ ان کے نام جاوید اکبر، عمر خیام، صلاح الدین امین، وحید محمود اور اینتھونی گارسیا ہیں۔ ان میں سب سے کم عمر تئیس سالہ اکبر ہیں اور سب سے بڑے وحید محمود کی عمر پینتیس سال ہے۔
ان کے نام جاوید اکبر، عمر خیام، صلاح الدین امین، وحید محمود اور اینتھونی گارسیا ہیں۔ ان میں سب سے کم عمر تئیس سالہ اکبر ہیں اور سب سے بڑے وحید محمود کی عمر پینتیس سال ہے۔ عمر خیام کو چالیس سال قید سنائی گئی ہے جبکہ باقی سب کو عمر قید کی سزا ملی ہے۔
ان پانچوں افراد پر الزام تھا کہ یہ برطانیہ میں ایک کاروباری مرکز، نائٹ کلب اور گیس کے نظام کو بموں سے نشانہ بنانا چاہتے تھے۔ ان میں سے تین افراد کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان کا برطانوی معاشرے سے فکری تضاد تھا جو یا تو شروع ہی سے ان کی شخصیت کا حصہ بنا یا بعد میں ان کے اندر آنے والی تبدیلیوں کا نتیجہ تھا۔
مثال کے طور صلاح الدین امین کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انیس سو ننانوے میں بھی وہ پاکستان چھٹیاں گزارنے کے لیے گئے لیکن اس موقع پر انہوں نے کچھ ایسی باتیں سنی اور ان کے علم میں ایسے مشاہدات آئے جنہوں نے ان کی زندگی بدل کر رکھ دی۔
بتایا گیا ہے کہ ان لوگوں نے 600 کلوگرام امونیم نائٹریٹ حاصل کر لی تھی جسے ہینویل کے ایک گودام میں رکھا گیا تھا۔ ان لوگوں کو احساس نہیں ہوا کہ ان میں سے کچھ پر پہلے ہی ایم آئی فائیو کی نظر تھی اور گودام کے عملے نے بھی پولیس کو مطلع کر دیا تھا۔ | اسی بارے میں ’بمبار‘ کی غلط تصویر جاری ہوئی 21 July, 2005 | آس پاس ’دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہوگا‘19 July, 2005 | آس پاس لیڈز میں چھ افراد گرفتار18 July, 2005 | آس پاس بمبار کے ساتھیوں کی تلاش شروع15 July, 2005 | آس پاس ’انتہا پسندی سے نمٹیں گے‘14 July, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||