BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 30 April, 2007, 15:20 GMT 20:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جذباتی تقریر سنی اور ان کی دنیا بدل گئی‘
صلاح الدین امین نوجوانی میں اتنے مذہبی نہیں تھے
سزا پانے والوں میں صلاح الدین امین کے بارے میں پولیس کا خیال ہے کہ وہ برطانوی انتہا پسندوں اور القاعدہ نیٹ ورک کے درمیان مرکزی کردار کے حامل تھے۔

صلاح الدین امین برطانیہ میں پیدا ہوئے اور سولہ برس باہر رہنے کے بعد جب واپس برطانیہ پہنچے تو شاید یہاں کا ماحول ان کے لیے ایک دھچکے سے کم نہ تھا۔

انہوں نے چار برس کی عمر سے پاکستان کے سکولوں میں تعلیم حاصل کی اور وہ صرف اردو بولنا جانتے تھے۔ تاہم انہوں نے جلد ہی انگریزی بولنا سیکھا۔ یہاں پر انہیں ڈیٹنگ اور شراب نوشی جیسی عادتیں بھی پڑ گئیں جو اس معاشرے کے لیے اجنبی ہیں جہاں سے وہ آئے تھے۔

صلاح الدین امین نوجوانی میں اتنے مذہبی نہیں تھے۔ وہ کھبی کبھار ہی نماز پڑھتے اور مسجد میں مذہبی تہوار ہی کے موقع پر جاتے۔

تاہم وہ گرمیوں کے موسم میں پاکستان ضرور جاتے جہاں وہ چھٹیاں گزارتے۔

انیس سو ننانوے میں بھی وہ پاکستان چھٹیاں گزارنے کے لیے گئے لیکن اس موقع پر انہوں نے کچھ ایسی باتیں سنی اور ان کے علم میں ایسے مشاہدات آئے جنہوں نے ان کی زندگی بدل کر رکھ دی۔

راولپنڈی سے کچھ فاصلے پر واقع پہاڑی مقام مری میں انہوں نے ایک جذباتی تقریر سنی جس کا تعلق انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں صورتِ حال سے تھا۔

صلاح الدین امین کا کہنا ہے: ’مری میں مال روڈ پر بہت سے سٹال تھے۔ یہ سٹال ان مجاہدین نے لگائے تھے جو کشمیر میں مصروفِ پیکار ہیں۔ اسی مقام پر ایک موقع پر میں نے ایک عورت کو جذباتی انداز میں کشمیر میں ہونے والے مظالم کا تذکرہ کرتے سنا۔ وہ خاتون بتا رہی تھی کہ کیسے کشمیر میں ہر وقت عورتوں کو ریپ کیا جاتا ہے، انہیں اغواء کیا جاتا ہے اور اسی بنا پر انہیں پاکستانی کشمیر آنا پڑتا ہے۔ اسی تقریر نے مجھے متاثر کر دیا۔‘

یہ واقعات اور مسلمانوں کے ساتھ روا رکھی جانے والی مبینہ اذیتوں کے بارے میں سننے کے بعد، صلاح الدین امین کے بقول، انہوں نے برطانیہ میں لوٹن واپس آنے کا فیصلہ کیا اور سوچا کہ وہ اپنی اجرت کا ایک حصہ اس ’مقصد‘ کے لیے عطیہ کر دیں گے۔

عمر خیام اور اینتھونی گارسیا پاکستان میں کیمرے کے سامنے

انہوں نے لوٹن سے ذرا پرے ایک مسجد میں شدت پسندی پر مبنی سیاسی مجالس میں شرکت شروع کردی۔ ان میٹنگوں میں مذہب اور سیاست کو مدغم کر کے جہادیوں کے لیے مسلح جدوجہد کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی۔

تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ یہیں پر صلاح الدین امین کی ملاقات دو ایسے افراد سے ہوئی جنہوں نے برطانیہ میں آئندہ برسوں کی تاریخ لکھنی تھی۔یہ افراد برطانوی پاکستانیوں اور غیر ملکی مجاہدین گروپوں کے درمیان جہادی نیٹ ورک کو فروغ دے رہے تھے۔عمر خیام کے ساتھ صلاح الدین امین کی ملاقات کرالے میں اسی دوران میں ہوئی۔

جب القاعدہ نے گیارہ ستمبر کو امریکہ پر حملہ کیا تو صلاح الدین امین اپنی بہن کی شادی کے سلسلے میں پاکستان میں تھے۔ تفتیش کاروں کے مطابق اس وقت تک صلاح الدین امین کی جہادی سرگرمیوں میں ملوث ہونا کافی زیادہ ہو چکا تھا۔

انہوں نے بے ایمانی کے ساتھ بینکوں سے قرض لے کر اکیس ہزار پاونڈ اکٹھے کیے اور مستقل طور پر پاکستان چلے گئے۔

لیکن پولیس کے مطابق صلاح الدین امین صورتِ حال کو بھانپ کر موقع کی مناسبت سے عمل کرنے میں مشّاق تھے۔ انتہا پسندانہ مقاصد کے لیے افراد اور رقوم دونوں ان تک پہنچ سکتی تھیں اور پہنچیں۔ انہوں نے پاکستان میں لوگوں کو تربیت دلوائی اور برطانیہ اور پاکستان میں القاعدہ کے نیٹ ورک کے درمیان رابطے کا کام کیا۔

جب برطانیہ میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی ہوئی تو پولیس کے مطابق عمر خیام نے صلاح الدین امین سے مشاورت کی۔ خاص طور پر جب انہیں بم بنانے کے لیے کمیائی مواد میں تناسبی معلومات درکار تھیں۔

جب پولیس نے برطانیہ میں اس گروپ کو پکڑنے کے لیے کارروائی شروع کی تو صلاح الدین امین جو پاکستان میں تھے اپنے مقام سے فرار ہوگئے۔ تاہم بعد میں انہوں نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ دو ہزار چار میں ان پر تشدد کیا گیا اور ان سے اقبالی بیان دلوائے گئے۔

دو ہزار پانچ میں انہیں برطانیہ لایا گیا اور ہیتھرو ائرپورٹ پر گرفتار کیا گیا۔

اسی بارے میں
وحید محمود: عمر قید
30 April, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد