عمر خیام: شخصیت اور معاشرے کا تضاد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سات دسمبر 1981 میں ایک نسبتاً سیکولر مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے والا عمر خیام برطانیہ کے علاقے ویسٹ سسیکس کے علاقے کراؤلے میں پل بڑھ کر جوان ہوا۔ اس کے دادا، جنہوں نے برٹش آرمی میں خدمات سرانجام دی تھیں، تیس پینتیس برس قبل پاکستان سے برطانیہ ہجرت کر آئے تھے۔ لڑکپن میں عمر خیام فٹ بال کا شوقین اور اپنے سکول کی کرکٹ ٹیم کا کپتان تھا۔ جب وہ گیارہ سال کا تھا تو اس کے والد گھر چھوڑ کر چلے گئے اور نتیجتاً اس کم عمری میں اسے ’گھر کے مرد‘ کا کردار نبھانا پڑا۔ عمر خیام نے اے اور او لیول کے امتحانات اچھے نمبروں سے پاس کیے اور بعد میں یونیورسٹی آف نارتھ لندن میں داخلہ لے لیا۔ لیکن وہ ایک بے چین شخص کے طور پر جوان ہوا، جس کا اس معاشرے سے فکری تضاد تھا جس میں وہ رہ رہا تھا۔ وہ اپنے چھوٹے بھائی شجاع محمود کو پیراکی کرنے سے صرف اس لیے منع کرتا تھا کیونکہ اسے ڈر تھا کہ کہیں اس کا سامنا بکنی میں ملبوس خواتین سے نہ ہوجائے۔ شخصیت اور معاشرے میں اسی تضاد نے عمر خیام کو المہاجرون نامی عسکریت پسند تنظیم سے متعارف کرایا، جس کا نظریہ ہے کہ اسلام اور برطانوی زندگی کا آپس میں کوئی تال میل نہیں ہے۔ کراؤلے کے علاقے کو المہاجروں کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ جنوری سال دو ہزار میں عمر خیام نے خفیہ طور پر پاکستان گیا، جب کہ ان سے اپنی والدہ کو کہہ رکھا تھا کہ وہ فرانس جا رہا ہے۔ پاکستان میں قیام کے دوران اس نے ’مجاہدین‘ کے ایک تربیتی مرکز میں شمولیت اختیار کر لی۔
ادھر عمر کے گھر والوں نے فرانس سے واپسی نہ ہونے پر اس کی تلاش شروع کر دی۔ دو ماہ بعد مارچ میں پاکستان آرمی کے خفیہ ادارے کے ایک سابق رکن کی مدد سے تلاش کر کے اسے برطانیہ واپس بھیج دیا گیا۔ تاہم عمر خیام نے اپنے ’انتہا پسندانہ‘ عزائم جاری رکھے اور سال دوہزار ایک میں طالبان سے ملنے افغانستان پہنچ گئے۔ اس کے ان عزائم کو اس وقت اور تقویت ملی جب برطانیہ نے عراق پر امریکی حملے کی حمایت کی۔ اس نے بینک سے سولہ ہزار پاؤنڈ کا قرض لیا اور پاکستان پہنچ گیا، جہاں وہ عسکریت پسندوں کے ایک ایسے تربیتی کیمپ میں شامل ہوگیا جہاں برطانیہ سے آئے ہوئے کچھ اور نوجوان بھی زیر تربیت تھے۔ اسی دوران اس نے برطانیہ میں حملوں کی منصوبہ بندی کی۔ عمر خیام کو اولڈ بیلی کورٹ سے دہشت گردی کی منصوبہ سازی کے جرم میں سزا پانے والوں کا سرغنہ بتایا گیا ہے۔ اس کے بھائی شجاع کو عدالت نے اس مقدمہ میں بے گناہ قرار دیا ہے۔ | اسی بارے میں ’جذباتی تقریر سنی اور ان کی دنیا بدل گئی‘30 April, 2007 | آس پاس اینتھونی گارشیا، چالیس سال30 April, 2007 | آس پاس جاوید اکبر کی زندگی کا خاکہ30 April, 2007 | آس پاس وحید محمود: عمر قید 30 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||