BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 30 April, 2007, 15:17 GMT 20:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جاوید اکبر کی زندگی کا خاکہ
جاوید اکبر کی عمر تیئس سال ہے
جاوید اکبر بظاہر پاکستانی نژاد ایک عام سا نوجوان ہے۔ وہ پوری لگن اورمحنت سے اپنی تعلیم اور نوکری کرتے رہے اور انہیں کھیلوں میں بھی دلچسپی ہے۔ وہ بیس جون انیس سو تراسی میں پاکستان میں پیدا ہوئے۔

لیکن اس عام سے نوجوان کے دل میں اس معاشرے کے خلاف شدید غصہ اور نفرت بھری ہوئی تھی۔


جاوید اکبر کےدل میں برطانوی معاشرے کے خلاف نفرت اور غصے کو نکالنے کا موقع اس وقت ملا جب ان کی ملاقات اپنے رشتے کے بھائی نبیل حسین کے ذریعے ویسٹ سسکس کے علاقے کرالی میں رہنے والے عمر خیام سے ہوئی۔

حسین نے تمام سماعت کے دوران اس بات پر اصرار کیا کہ انہیں خیام نے ورغلایا تھا۔ اکبر برونل یونیورسٹی میں شدت پسند اسلامی سیاسی گروپ کےاجلاسوں میں شریک ہوتے رہے ہیں۔

ان کا یہ سیاسی سفر جاری رہا اور اپنے گروپ کے دوسرے لوگوں کے ساتھ وہ سن دو ہزار تین میں پاکستان کے علاقے ملاکنڈ میں قائم ایک کیمپ میں عسکری تربیت حاصل کرنے کے لیے روانہ ہو گئے۔

اسی دوران انہوں نے اتفاق کیا کہ افغانستان میں جاری لڑائی میں حصہ لینے سے بہتر ہے کہ وہ واپس برطانیہ جا کر دہشت گردی کی کارروائیاں کریں۔

اکبر نے بم بنانےکی تمام معلومات اپنے لیپ ٹاپ کمپیوٹر میں رکھی ہوئی تھی جو انہوں نےانٹر نیٹ کے ذریعے ہی حاصل کی تھی۔

اس کا لیپ ٹاپ کے ذریعے ان سی ڈیز کا مشاہدہ بھی کیا گیا جن میں بنیادی سہولیات فراہم کرنے والی برطانوی کمپنیوں کے بارے میں معلومات میسر تھیں۔

لیکن جیسے جیسے ان کا منصوبہ بنتا گیا برطانوی حفیہ ادارہ ایم آئی فائیو بھی ان کے پیچھے لگا رہا۔

خفیہ ادارے ایم آئی فائیو نے اوکس برج میں ان کے اپارٹمنٹ میں بھی ان کی بات چیت سننے کے لیے آلات نصب کیئے۔ یہیں پر حفیہ اداروں کوپتہ چلا کہ وہ لندن کے نائٹ کلب میں آنے والے لوگوں کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔

اکبر نے ایک مرتبہ خیام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی لندن میں کسی نائٹ کلب کو نشانہ بنانا چاہیے جہاں کوئی یہ نہیں کہ سکتا کہ وہ بے گناہ ہے۔

خیام نے کہا کہ اگر تم کسی کلب یا بار کے بارے میں بات کر رہے ہو مثلاً منسٹری آف ساونڈ نائٹ کلب تو پھر کیا کرنا چاہتے ہو۔

اکبر نے جواب دیا کہ پوری کلب کواڑا دیا جائے۔

اکبر غیر مسلموں کے لیے شدیدنفرت رکھتا تھا اور انہیں نفرت سے کفار کہا کرتا تھا۔

وہ اپنی بیوی سے کہتا تھا کہ جب ’ہم کفار کو ہلاک کریں گے کیونکہ اللہ تعالی ان کفار کوپسند نہیں فرماتے۔‘

اکبر جس نے سماعت کے دوران ایک مرتبہ کہاکہ اس بساط پھر ان کی حیثیت ایک پیادے کی سی تھی کہا کہ وہ امونیم نائٹریٹ کی خریداری اور اس کو ایکسس سیلف اسٹورج میں ذخیرہ کرنے میں ملوث نہیں تھے۔

اسی بارے میں
وحید محمود: عمر قید
30 April, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد