دہشتگردی منصوبہ: پانچ کو عمر قید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں انسداد دہشت گردی کے ایک مقدمے میں پانچ افراد کو بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔ ان برطانوی شہریوں میں زیادہ لوگ پاکستانی نژاد ہیں جنہیں القاعدہ کا حامی بتایا گیا ہے۔ ان کے بارے میں یہ بھی شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ پاکستان میں تربیتی کیمپوں میں بھی گئے تھے۔ ان کے نام جاوید اکبر، عمر خیام، صلاح الدین امین، وحید محمود اور اینتھونی گارسیا ہیں۔ ان میں سب سے کم عمر تئیس سالہ اکبر ہیں اور سب سے بڑے وحید محمود کی عمر پینتیس سال ہے۔ عمر خیام کو چالیس سال قید سنائی گئی ہے جبکہ باقی سب کو عمر قید کی سزا ملی ہے۔ گارسیا کو عمر قید کے تحت کم سے کم چالیس اور امین کو پینتیس سال جیل کاٹنی پڑے گی۔ لندن کی عدالت اولڈ بیلی میں ایک جیوری نے برطانیہ میں انسداد دہشت گردی کے مقدمے کی سب سے طویل کارروائی کے بعد ان لوگوں کومجرم قرار دیا ہے۔ جیوری نے ستائیس روز تک مقدمے پر غورکیا جو برطانوی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔ مقدمے کی کارروائی تیرہ ماہ تک چلی۔ اس دوران ایک سو پانچ سرکاری گوہ پیش کیے گئے اور تین ہزار چھ سو چوالیس بیان قلمبند ہوئے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ملزموں کے دو ساتھی اور بھی تھے جن میں سے ایک امریکی محمد جنید بابر نے ایف بی آئی کے ہاتھوں گرفتار ہونے کے بعد منصوبہ بندی میں اپنے کردار کا اعتراف کیا تھا اور سرکاری گواہ بننے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ کراؤن پراسیکوشن سروس کے ترجمان نے بتایا کہ بابرکو ملنے والی رعایت کی برطانوی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ مجرمان کےدوسرے ساتھی محمد امین خواجہ کینیڈا میں زیر حراست ہیں جن کے خلاف ابھی مقدمے کی سماعت شروع نہیں ہوئی۔ برطانیہ میں سزا پانے والے پانچوں افراد پر الزام تھا کہ یہ برطانیہ میں ایک کاروباری مرکز، نائٹ کلب اور گیس کے نظام کو بموں سے نشانہ بنانا چاہتے تھے۔ پولیس نے سن دو ہزار چار میں اس منصوبےکا پتہ چلایا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان میں سے دو افراد کی لندن میں جولائی سات کے حملوں میں ملوث افراد سے بھی ملاقات ہوئی تھی۔ مقدمے میں دو ملزمان، نبیل حسین اور شجاع قریشی، کو بیگناہ قرار دیا گیا۔ کنزرویٹوو اور لبرل ڈیموکریٹک پارٹی نے ان مجرمان کے سات جولائی کے دھماکوں کے ساتھ تعلق کے بارے میں آزادانہ انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔
سات جولائی کے حملوں میں ہلاک ہونے والے ایک شخص ڈیوڈ کے والد نے بھی ایسی ہی انکوائری کا مطالبہ کیا تھا۔ وزیر داخلہ جان ریڈ نے کہا کہ ’پولیس اور دیگر سکیورٹی اہلکاروں کی محنت کے نتیجے میں پانچ خطرناک دہشت گرد اب سلاخوں کے پیچھے ہیں۔۔۔یہ مقدمہ ہم پر واضح کرتا ہے کہ دہشت گردی کا خطرہ کتنا شدید اور حقیقی ہے‘۔ تفصیلات کے مطابق مجرمان نے کئی منصوبے بنائے جن میں کینٹ کے کاروباری مرکز ’بلو واٹر‘ میں کسی اختتامِ ہفتہ یا مرکزی لندن میں ’منسٹری آف ساؤنڈ‘ نامی نائٹ کلب کو تباہ کرنا شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ان لوگوں نے 600 کلوگرام امونیم نائٹریٹ حاصل کر لی تھی جسے ہینویل کے ایک گودام میں رکھا گیا تھا۔ ان لوگوں کو احساس نہیں ہوا کہ ان میں سے کچھ پر پہلے ہی ایم آئی فائیو کی نظر تھی اور گودام کے عملے نے بھی پولیس کو مطلع کر دیا تھا۔ | اسی بارے میں ’بمبار‘ کی غلط تصویر جاری ہوئی 21 July, 2005 | آس پاس ’دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہوگا‘19 July, 2005 | آس پاس لیڈز میں چھ افراد گرفتار18 July, 2005 | آس پاس بمبار کے ساتھیوں کی تلاش شروع15 July, 2005 | آس پاس ’انتہا پسندی سے نمٹیں گے‘14 July, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||