BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 03 October, 2003, 16:26 GMT 20:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غلطی چھوٹی، بڑی سزا
خیر سگالی کے تحفے
آٹھ بچوں نے تین مہینے پاکستان میں گزارے ہیں

بھارت میں مہینوں قید میں رہنے کے بعد آٹھ پاکستانی بچوں کا گروہ بڑی بیتابی سے اپنی وطن واپسی کا انتظار کر رہا ہے۔

ان بچوں کی رہائی بھارتی حکومت کے اس فیصلے کے بعد ممکن ہو سکی جس میں کہا گیا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان خیر سگالی کے طور پر ان بچوں کو رہا کیا جا رہا ہے۔

یہ بچے غلطی سے پاک بھارت سرحد پار کر گئے تھے اور مہینوں سے بھارت میں قید ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار اسیت جولی لکھتے ہیں ایک چھوٹا بچہ آصف پچھلے چار ماہ سے پنجاب کی سابقہ جنوب مغربی ریاست کے دارالحکومت فرید کوٹ کے بچوں کی اصلاحی جیل میں بند ہے۔ اسے کچھ معلوم نہیں بھارت اور پاکستان کے درمیان کیا سیاسی اختلافات ہیں۔ وہ بس گھر جانا چاہتا ہے۔

’میں راستہ بھول گیا تھا۔ کیا یہ اتنا بڑا جرم ہے۔‘ پاکستان کے شہر قصور میں رہنے والے آصف کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔

اس کا باپ مجید ایک ان پڑھ اور غریب بھٹہ مزدور ہے۔ جس کے پاس نہ تو وسائل ہیں اور نہ ہی اثر ر رسوخ کہ اپنے گمشدہ بچے کو واپس لا سکے۔

قیدی بچے
کچھ سمجھتے تھے کہ وہ یہیں مر جائیں گے

آصف کہتا ہے کہ اسے بس اپنی ماں کے پاس واپس جانا ہے۔

انڈین پاسپیورٹ ایکٹ اور بھاتی علاقے میں گھسنے کے جرم میں سزا پانے والے لڑکوں کے گروپ میں سب سے بڑا پاکستانی لڑکا ناصر علی سترہ برس کا ہے جو بڑوں کی جیل جاتے جاتے بچا ہے۔

وہ لاہور میں ایک مزدور تھا جو جنوری کو اپنے ایک دوست کے ساتھ قصور گیا اور وہاں سرحد پار کر گیا۔

’میرا دوست اپنے رشتہ داروں سے ملنے گیا جو سرحد کے بلکل قریب رہتے تھے۔‘

ناصر کے مطابق اس کے پاس کرنے کو کچھ نہیں تھا اس لئے اس نے سوچا چلو دیکھیے ہیں کہ ’بھارت کیسا لگتا ہے‘۔

باپ کا ڈر

 میں دسویں جماعت کے امتحان میں فیل ہونے کے بعد جون کو اپنے باپ کے ڈر سے گھر سے بھاگ گیا

دنیش کمار

’مجھے بھارت کی بارڈر سیکیورٹی فوج نے گرفتار کر لیا۔‘

گروپ میں گرفتار کیے جانے والا ایک پاکستانی ہندو لڑکا بھی ہے۔

دنیش کمار اسلام آباد کا رہنے والا ہے اور فیڈرل گورنمنٹ بوائز سکول کا طالب علم تھا۔

اس نے بتایا کہ ’میں دسویں جماعت کے امتحان میں فیل ہونے کے بعد جون میں اپنے باپ کے ڈر سے گھر سے بھاگ گیا۔‘

دنیش کا خیال تھا کہ جب تک اس کے باپ کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہو جاتا وہ مغربی بھارتی ریاست راجستھان میں اپنے ماموں کے پاس رہے گا۔ وہ بھی سرحد پار کرتے ہوئے پکڑا گیا اور فرید کوٹ بھیج دیا گیا۔

ایک اور لڑکے امجد خان کا کہنا تھا کہ ’جب میں یہاں آیا تھا تو مجھے یقین تھا کہ میں مر جاؤں گا۔ اپنے خاندان کو دوبارہ دیکھنے کی کوئی امید نظر نہیں آتی تھی۔‘

کوئی امید نہیں تھی

 جب میں یہاں آیا تھا تو مجھے یقین تھا کہ میں مر جاؤں گا۔ اپنے خاندان کو دوبارہ دیکھنے کی کوئی امید نظر نہیں آتی تھی

امجد خان

شاید یہی ہوتا اگر چند مقامی اخبارات ان پاکستانی بچوں کی حالتِ زار کے متعلق نہ لکھتے۔

بھارتی وزارتِ داخلہ نے پنجاب میں حکام کو کہا ہے کہ جتنی جلد ممکمن ہو سکے ان بچوں کے ملک واپس جانے کا انتظام کرے۔

اگرچہ تکنیکی طور پر یہ بچے اب قید میں نہیں ہیں لیکن پھر بھی دونوں ملکوں میں ان کی واپسی کے لئے بہت سی کاغذی کارروائی باقی ہے۔

جمعہ کی صبح ان بچوں کو دہلی لے جایا گیا تاکہ ان کی رسائی پاکستان ہائی کمیشن تک ممکن ہو سکے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد