BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 12 November, 2006, 21:41 GMT 02:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بہار: بدھ مراکز کی اہمیت میں اضافہ

ہوان سانگ میموریل
ہوان سانگ کی یاد میں بنا ہے میمو ریل
ریاست بہار میں گوتم بدھ اور بدھ مت سے وابستہ ثقافتی مقام نالندہ، راجگیر اور بودھ گیا کا تذکرہ پہلے صرف سیاحوں کے آنےجانے تک محدود تھا۔ اب ان مقامات کی وجہ سے متعدد ملکوں کے سفیر، وزیر اور نمائندے بہار کا دورہ کر رہے ہیں۔

گذشتہ چند ماہ کے دوران سنگاپور کے بین الاقوامی امور کے جونیئر وزیر بالا جی سداشون اور جاپان کے ایک وفد نے بہار کا دورہ کیا ہے۔

آئندہ اتوار سے سنگاپور میں نالندہ کے بارے میں ایک بین الاقوامی نمائش لگائی جا رہی ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ یہاں سولہ ملکوں کے نمائندے نالندہ کی قدیم عظمت کی احیا بحال کرنے پر غور کریں گے۔

اب چین سے دو بدھ مذہبی پیشوا بہار کے دورے پرآنے والے ہیں۔ریاست کے محکمہ سیاحت کے ڈپٹی ڈائریکٹر اشوک کمار سنہا کے مطابق یہ دونوں مذہبی پیشوا زمینی راستے سے تین ماہ پہلے بہار کے لیے روانہ ہوئے ہیں اور بیس نومبر تک یہاں پہنچیں گے۔

ان تاریخی باقیات کو دیکھنے بڑی تعداد میں سیاح آتے ہیں

اسی ماہ چین کے صدر ہو جن تاؤ بھی ہندوستان کا دورہ کرنے والے ہیں۔توقع ہے کہ یہ دونوں مذہبی پیشوا ہو جن تاؤ سے ملاقات کے دوران نالندہ کے بارے میں تفصیلات فراہم کریں گے۔

نالندہ میں چین کےاشتراک سے مشہور چینی سیاح ہوان سانگ کے نام پر ایک میموریل ہال بنایا گیا ہے۔ فی الحال اس کی آرائش کا کام جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق چین نے اس کے لیے تین کروڑ روپۓ فراہم کیے ہیں۔مورخ بتاتے ہیں کہ ہوین سانگ نے نالندہ کی قدیم یونیورسٹی میں بطور طالب علم اور معلم بھی قیام کیا تھا۔

مسٹر سنہا کے مطابق دسمبر میں ہالینڈ سے بھی بدھ مت کے پیرو کاروں کا ایک وفد یہاں آنے والا ہے۔اس کے علاوہ تھائی لینڈ کے وزیر خارجہ جارج جیوس سے بھی حکومتی سطح پر بات چیت ہوئی ہے۔

وزیر اعلی نتیش کمار ان تمام نمائندوں سے بذات خود ملاقات کر رہے ہیں۔ نالندہ کے وفد نے نتیش کمار سے ملاقات کے دوران قدیم نالندہ یونی ورسٹی کی جگہ ایک جدید بین الاقوامی یونیورسٹی قائم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

وہ سنگاپور میں منعقد ہونے والی نمائش میں نالندہ سے متعلق تمام تصاویر اور دوسری معلومات لے جا رہے ریاستی پلاننگ بورڈ کے ڈپٹی چیرمین این کے سنگھ کہتے ہیں کہ نالندہ، راجگیر اور بودھ گیا کی ترقی کے لیے ایک ماسٹر پلان تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ ماسٹر پلان اقوام متحدہ کی ثقافتی تنظیم ورلڈ ٹورزم آرگنائزیشن کے سینیئر کنسلٹنٹ جیمز جیسمین کی مدد سے تیار کیا جا رہا ہے۔

مسٹر سنگھ کا خیال ہے کہ نالندہ کو دنیا کے امن مرکز کے طور پر ترقی دی جا سکتی ہے۔ اسکے علاوہ ریاستی حکومت کی کوشش ہے کہ نالندہ کو عالمی ثقافتی ورثے کا درجہ دلایا جائے۔

اس ماسٹر پلان کے تحت راجگیر سے کچھ دور قدیم نالندہ یونیورسٹی کی مانند ایک جدید یونیورسٹی اسی نام سے قائم کرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے اور اس کے لیے پانچ سو ایکڑ زمین حاصل کی جا رہی ہے۔

محمکہ سیاحت کے ڈپٹی ڈائریکٹر اشوک کمار سنہا کہتے ہیں کہ اس یونیورسٹی میں مقامی طلبا کے علاوہ بین الاقوامی طلبا بھی تعلیم حاصل کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس کام میں جس ملک سے جو مدد ملے گی اسے قبول کیا جائے گا۔ بقول مسٹر سنہا امداد لینے کا کام مرکز کے زیر نگرانی ہے۔

مجوزہ ماسٹر پلان میں نالندہ یونیورسٹی کے علاوہ گولف کورس، گرین بیلٹ اور میڈیٹیشن سینٹر کا قیام بھی زیرغور ہے۔

ڈاکٹر ودیانند نالندہ ضلع کے ہیڈ کوارٹر بہار شریف میں واقع نالندہ کالج میں قدیم ہندوستانی اور ایشین سٹڈیز کے ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ ہیں۔وہ کہتے ہیں دنیا کی اس سب سے قدیم یونیورسٹی کی احیا کے روح رواں صدر جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام ہیں۔ صدر عبدالکلام جب بہار کے دورے پر آئے تھے تو انہوں نےاس یونیورسٹی کی احیا کے لیے پلان تیار کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ اس وقت صدر عبدالکلام سےڈاکٹر ودیانند نے بھی ملاقات کی تھی۔

ڈاکٹر ودیانند کہتے ہیں کہ صدر کی پیش قدمی سے نالندہ دوبارہ بین الاقوامی توجہ کامرکز بنا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے کی جانے والی کوششیس قابل ستائش ہیں لیکن اب بھی اچھی سڑک کا کی کمی ہے۔

ڈاکٹر ودیانند کہتے ہیں کہ نالندہ سے متصل ہونے کی وجہ سے راجگیر کا چرچہ نہیں ہوتا حالانکہ بدھ مذہب کے پیروؤں کے لی راجگیر کی بھی کافی اہمیت ہے۔ اسکے علاوہ بودھ گیامیں ہی گوتم بدھ کو گیان ملا تھا۔

بودھ کی تاریخی مورتیاں

وہ کہتے ہیں کہ اس پورے خطے میں جنوب مشرق اور مشرق بعید کے ملکوں کی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حال ہی میں بودھ گیا مندر کے ایڈوائزری بورڈ کی میٹنگ میں تھائی لینڈ، شری لنکا، بھوٹان، جاپان، میاں مار، کوریا، کمبوڈیا اور منگولیا کے مندوبین نے حصہ لیا۔ اس بورڈ کا چیئرمین تھائی لینڈ کے سفیر کو منتخب کیا گیا۔

اس خطے میں ہو رہی ان تمام پیش قدمیوں سے ریاست و ملک کے علاوہ مقامی باشندوں کو معاشی طور پر کافی فائدہ ہونے کی امید کی جا رہی ہے۔

محکمہ سیاحت کے ڈپٹی سکریٹری اشوک کمار سنہا کہتے ہیں کہ اب تک پانچ سو کروڑ روپے کے مختلف پروجیکٹس منظور ہو چکے ہیں۔

مسٹر سنہا نے بتایا کہ بودھ گیا سے ہفتے میں انڈین ایئر لائن کی دو، تھائی ایرویز کی چار اور

بھوٹان کی ایئر سروس کی دو پروازیں یا تو شروع ہیں یا ہونے والی ہیں۔انہوں توقع ظاہر کی کہ جب بڑے پیمانے پر غیر ملکی آئیں گے تو بزنس کو بھی وسعت ملے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد