ممبئی دھماکے، چار کی عارضی ضمانت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈین سپریم کورٹ نے ممبئی میں انیس سو ترانوے کے بم دھماکوں کے چار ملزموں کو عارضی طور پر ضمانت دے دی ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ جب تک ٹاڈا کورٹ کے فیصلے کی کاپی انہیں نہیں سونپی جاتی اس وقت تک وہ جیل سے ضمانت پر رہا ہیں۔ سپریم کورٹ نے یوسف عبدالرزاق میمن، عیسی میمن، روبینہ سلیمان اور مبینہ ڈونڈی والا کو ضمانت دی ہے۔ ان لوگوں نے سپریم کورٹ میں ضمانت کی اپیل کی تھی۔ ٹاڈا کی خصوصی عدالت نے 1993 کے بم دھماکوں کے کیس میں ان افراد کو عمر قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ مبینہ ڈونڈی والا کو پانچ برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق عدالت کے فیصلے کی کاپی ناملنے تک قصوروار قید میں نہیں رکھے جا سکتے۔ سپریم کورٹ نے ان افراد کو حکم دیا ہے کہ ٹاڈا عدالت کے فیصلے کی کاپی ملتے ہی وہ اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کردیں اور سنیچر کو خصوصی پولیس کے دفتر میں حاضری دیا کریں۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے سنجے دت کو بھی اسی قانون کے تحت ضمانت دی ہے۔ انیس سو ترانوے بم دھماکوں کے کلیدی مفرور ملزم ٹائیگر میمن کے بھائی یعقوب میمن کو خصوصی ٹاڈا عدالت نے پھانسی کی سزا سنائی تھی اور ان کے خاندان کے دیگر تین مجرموں کو عمر قید اور ایک لاکھ روپیہ جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ یعقوب کو چونکہ موت کی سزا سنائی تھی اس لیے وہ ضمانت پر نہیں رہا کیے جاسکتے۔ |
اسی بارے میں 93 دھماکوں کے ملزمان رہا09 May, 2007 | انڈیا چوالیسواں ملزم بھی قصوروار27 September, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے، پانچ کو قید بامشقت 18 May, 2007 | انڈیا 93 ممبئی دھماکے: مزید چھ کو سزا22 May, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||