BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 25 February, 2008, 13:23 GMT 18:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دہشت گردی اسلام کے منافی‘

مسلمان، فائل فوٹو
ملک میں ہونے والی کسی بھی دہشت گردی کے واقعہ سے مسلمانوں کو جوڑا جاتا ہے
’اسلام دہشت گردی کی ہر شکل میں مذمت کرتا ہے اور وہ اسلام اور امن کے تصور کے خلاف ہے۔‘

یہ اعلان ملک کے سرکردہ مذہبی ادارے دارالعلوم دیوبند میں دہشت گردی کے خلاف ایک قومی کنونشن میں کیا گيا ہے۔ کنونشن میں ملک کے مسلمانوں کے سبھی مکاتب فکر کے علما اور دانشوروں نے شرکت کی۔

اس اجلاس میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ ’ اسلام تمام انسانیت کے لیے رحیم کا مذہب ہے۔ اسلام ہر قسم کے جبر، تشدد اور دہشت گردی کی سختی سے مذمت کرتا ہے، یہ جبر و ظلم، دھوکہ دہی، فتنہ و فساد اور قتل و غارت گری کو بدترین گناہوں اور جرائم میں شمار کرتا ہے۔ اسلام بے گناہوں کے قتل کے خلاف ہے۔‘

قابل افسوس
یہ قابل افسوس ہے کہ ملک میں کہیں بھی ہونے والے دہشت گردی کے ہر واقعے کو بغیر تفتیش اور تحقیق کے فورا مسلمانوں سے جوڑ دیاجاتا ہے۔
کنونشن کے شرکاء

اترپردیش کے سہارن پور ضلع میں واقع دارالعلوم دیوبند کے اس کنونشن میں شرکا نے اس بات پر افسوس اور تشویش کا اظہار کیا کہ ملک میں کہیں بھی ہونے والے دہشت گردی کے ہر واقعے کو بغیر تفتیش اور تحقیق کے فورا مسلمانوں سے جوڑ دیاجاتا ہے۔

یہ کنونشن دہشت گردی کے واقعات میں مسلمانوں کے ملوث ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات اور دینی مدارس پر دہشت گردی کے لیے نظریاتی اساس فراہم کرنے کے الزامات کے پس منظر میں منعقد کیا گیا تھا۔

مذہبی رہنماؤں اور دانشوروں کا کہنا تھا ’ اگر دہشت گردی کے بارے میں اسلام کا صحیح موقف نہيں پیش کیا گيا تو اس سے ہندوستان اور یوروپ و امریکہ میں اسلام مخالف جذبات میں مزید شدت آئے گی۔‘

یہ دوسرا موقع ہے جب مسلمان کے مذہبی رہنماؤں نے دہشت گردی کے خلاف ایک صحیح اور قطعی موقف اختیار کیا ہے۔

نتیجے کی امید
یہ بات دیکھنے کی ہوگی کہ اس اجتماعی بیان سے دہشت گردی کے واقعات میں واقع کو‏ئی کمی آتی ہے۔

اس سے قبل پارلیمنٹ کی انیکسی میں تقریبا دو برس قبل اس طرح کے ایک کنونشن میں وزیر اعظم منموہن سنگھ کی صدارت میں علما نے دہشت گردی کی ہر شکل میں مذمت کی تھی اور کہا تھا ’اسلام بے گناہوں کے خلاف تشدد کو کسی بھی شکل میں قبول نہيں کرتا۔‘

یہ بات اہم ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کنونشن کے لیے دارالعلوم دیوبند کا انتخاب کیا گيا۔ حالیہ برسون میں ملک کے خفیہ ادارے دہشت گردی کے واقعات میں دیوبندی نظریات کو بھی مورد الزام ٹھہراتے رہے ہیں۔

دارالعلوم دیوبند سے ہرمکتب فکر کے مذہبی رہنماؤں کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف پاس کی گئی قرارد کو یقینا ملک میں مثبت نظر سے دیکھا جائے گا۔

مسلمان (فائل فوٹو)
ملک میں مسلمان سیاسی، تعلیمی، معاشی اور سماجی اعتبار سے پسماندہ ہیں

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ان علما نے غیر مذاہب کے رہنماؤں سے بھی مکالمے شروع کرنے کی تجویز رکھی ہے۔

لیکن یہ بات دیکھنے کی ہوگی کہ اس اجتماعی بیان سے دہشت گردی کے واقعات میں واقع کو‏ئی کمی آتی ہے۔

اجلاس میں پانچ ہزار مدارس کے نمائندوں کے علاوہ جمعیتہ العلما ہند، جماعت اسلامی، جمعیتہ الحدیث، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور قومی شیعہ تنظیموں کے رہنماؤن نے شرکت کی۔

بھارتی مسلمان (فائل فوٹو)بھارت کے نئے دلت
’پسماندگی کے بڑے ذمہ دار خود مسلمان‘
ہندوستانی مسلمانہندوستانی مسلمان
ریزرویشن کے معاملے پرمل کر کام کریں گے
انڈین مسلماناردو نہیں ترقی چاہیے
’انڈین مسلمانوں کو اردو نہیں سماجی ترقی چاہیے‘
بھارتی مسلمانبھارتی مسلمان کتنے؟
یو پی میں مسلم ’اقلیت‘ نہیں: ہائی کورٹ
کشمیری مسلمان مسلم پرسنل لا بل
انڈیا کے زیر انتظام میں مسلمانوں کا الگ قانون
ریزرویشن کی بحث
’ہندوستان میں 70 فیصد مسلمان پسماندہ‘
ہندوستان کے نئے دلت
مسلمان تعلیم، تجارت اور ملازمت میں پیچھے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد