BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 November, 2007, 11:31 GMT 16:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بہار: مسلم طلبا کو وظائف پر برہمی

فائل
مسلم وظائف کی مخالفت کرنی والی بی جے پی عموما ایک مسلم مخالف سیاسی جماعت کے طور پر جانی جاتی ہے
بہار میں جنتا دل یونائٹیڈ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مخلوط حکومت مسلم طلبا کو وظیفوں کے سوال پرخود بی جے پی کی سخت تنقید کا نشانہ بن گئی ہے۔

حکمراں اتحاد میں شامل جماعت بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی نے حکومت کےاس فیصلے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے جس کے تحت مسلم طلباء کو مفت کتابیں اور وظیفے فراہم کرنے لیے کروڑوں روپے مختص کیے گیے ہیں۔

گزشتہ دنوں حکومت نے اپنے اقتدار کے دو برس پورے ہونے کے موقع پر مسلم طلباء کے لیے مفت کتابیں فراہم کرنے کے لیے تقریبا نو کروڑ روپے مختص کیے۔ اس کے علاوہ میٹرک امتحان میں اول درجہ حاصل کرنے والے تمام مسلم طلبا کو دس دس ہزار روپے کے وظیفے کا اعلان بھی کیا ہے۔ یہ فیصلے رواں تعلیمی سال سے نافذ کیے جا رہے ہیں۔

حکومت کی حلیف بی جے پی کے رکن اسمبلی رامیشور چورسیا نے وزیر اعلیٰ کو خط لکھ کر کہا ہے کہ اس فیصلے سے مذہب اور ذات کی بنیاد پر تفریق نمایاں ہوگئی ہے اور ووٹ بینک کی سیاست کو تقویت ملے گی جو مخلوط حکومت کے اصولوں کے خلاف ہے۔

اس کے علاوہ ایک آزاد رکن اسمبلی نریندر کمار عرف بوگو سنگھ کا کہنا ہے کہ مفت کتابیں اور وظیفے دینے کی بنیاد مذہب نہیں بلکہ غربت ہونی چاہیئے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ نتیش کمار حکومت اقتدار میں آنے کے بعد مسلمانوں کو اپنےقریب لانے کے لیے ایسے متعدد اقدام اٹھائے ہیں جو اس کی حلیف جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی سیاسی نظریے کے خلاف رہی ہے۔

آٹھ لاکھ مسلم طلباء کو فائدہ
 مسلم طلباء کو وظائف کے حکومتی فیصلے سے ریاست کے تقریبا آٹھ لاکھ مسلم طلباء کو فائدہ پہنچے گا

بی جے پی کو عموما ایک مسلم مخالف سیاسی جماعت کے طور پر جانی جاتی ہے۔ دو برس کے دور اقتدار میں یہ پہلا موقع ہے جب حکومت کی حلیف جماعت کے کسی رکن اسمبلی نے اپنی ہی حکومت کے فیصلے کے خلاف اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔

مسلم طلباء کو وظائف کے حکومتی فیصلے سے ریاست کے تقریبا آٹھ لاکھ مسلم طلبا کو فائدہ پہنچے گا۔

ادھر حزب اختلاف کی جماعت راشٹریہ جنتا دل نےاس معاملے پر وزیر اعلیٰ نستیش کمار سے کہا ہے کہ وہ حکومت کے نظریہ کی وضاحت کریں۔

پارٹی کے ترجمان شکیل احمد خان نے کہا کہ ’الگ الگ نظریات رکھنے والی پارٹیوں کی مخلوط حکومت میں تو یہ ہونا ہی تھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ یہ بتائیں کہ وہ سکیولرزم کے حامی ہیں یا اپنی حلیف پارٹی کے دباؤ کے سامنے جھکنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اس معاملے پر وزیراعلیٰ نیتیش کمار نے گزشتہ دنوں بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’مسلمان کافی پسماندہ ہیں۔ اس لیے اگر ان کی تعلیم پر حکومت خاص توجہ دیتی ہے تو اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیئے۔

فائلبہار میں نکسلی تحریک
باغیوں کے لیے حوالگی کی شرائط آسان
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد