مسلمانوں کو فرقہ واریت کےخدشات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی بعض اسلامی تنظیمیں، مختلف مکاتب فکر کے لوگ، مختلف مسلک کے ماننے والے مسلمانوں کے نمائندوں کا ممبئی میں اٹھائیس نومبر کو ایک اجلاس ہوگا۔اس میں بریلوی مسلک، دیو بند، اہل حدیث، اہل تشیع جماعت اسلامی، مسلم پرسنل لاء بورڈ، شیعہ پرسنل لاء بورڈ، کے سو سے زائد نمائندے شریک ہوں گے۔ ملک میں گزشتہ ایک برس کے دوران مالیگاؤں قبرستان، حیدرآباد کی مکہ مسجد اور اجمیر میں خواجہ غریب نواز کے آستانے پر دھماکوں کے سلسلہ میں تفتیشی ایجنسیوں نے مسلمانوں کے مختلف مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد پر شبہ ظاہر کیا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ شیو راج پاٹل نے اجمیر میں ہونے والے بم دھماکہ کے بارے میں یہ شبہ ظاہر کیا تھا اس میں ان لوگوں کا ہاتھ ہو سکتا ہے جو جو تصوف میں یقین نہیں رکھتےاور مزاروں کے خلاف ہیں۔
پاٹل کے اس بیان پر بعض علماء کو تشویش ہے۔انہیں یہ خدشہ ہے کہ اس سے ملک کے مختلف مسلک کے ماننے والوں میں کہیں اختلافات نہ پیدا ہوجائیں۔ جمیعت علماء ہند کی مہاراشٹر شاخ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد مستقیم اعظمی دیو بند سے فارغ التحصیل ہیں۔ ان کے مطابق ’ یہ ہمیں لڑانے کی مذموم کوشش ہے۔ مالیگاؤں قبرستان میں دھماکہ ہوا تو اسے اہل حدیث مسلک سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ مکہ مسجد بم دھماکے کو دیو بندی مسلک اور اب اجمیر کے دھماکے کے لیے بھی دیو بندی مسلک، ( وہابی )کے سر الزام ڈالنے کی پوری تیاری کر لی گئی ہے۔‘ بریلوی مسلک کے مولانا محمد اطہر مانتے ہیں کہ چاہے جیسا بھی مسلمان ہو وہ قبرستان، مسجد یا غریب نواز کے آستانے پر بم دھماکہ نہیں کر سکتا۔ شیعہ رہنما مولانا سید ظہیر عباس رضوی اس بات سے فکر مند ہیں کہ مغربی طاقتیں ہندوستان کو عراق بنانے کی تیاری میں ہیں۔ ان کے مطابق ’ جس طرح عراق میں امریکہ نے شیعہ اور سنیوں کے درمیان اختلاف پیدا کر کے خانہ جنگی کو ہوا دی ہے اسی طرح کی مذموم کوشش انڈیا میں ہو رہی ہے جو ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔‘ مولانا اعظمی کے مطابق ممبئی میں مجوزہ اجلاس سے قبل تنظیمیں وزیر اعظم من موہن سنگھ، کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور وزیر داخلہ شیو راج پاٹل سے ملاقات کر کے ان تک یہ پیغام پہنچانے کی کوشش کریں گے کہ مسلمانوں میں بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔ ’مسلک کے نام پر مسلمانوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو ملک کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہے۔‘ مہاراشٹر میں محکمہ انسداد دہشت گردی کے سربراہ جوائنٹ پولیس کمشنر کے پی ایس رگھونشی کے مطابق تفتیشی ایجنسیوں کے پاس اس بات کے پختہ ثبوت موجود ہیں کہ مالیگاؤں بم دھماکوں میں مقامی مسلمانوں کا ہی ہاتھ تھا۔ مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ڈاکٹر پی ایس پسریچا نے اس بارے میں کچھ بھی کہنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مالیگاؤں کا معاملہ اس وقت سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن ( سی بی آئی) کے پاس ہے۔ اب تک تفتیشی اداروں کو جو بھی سراغ ملے ہیں ان سے مختلف بم دھماکوں میں مسلم شدت پسندوں اور ان کے مقامی حامیوں کا ہاتھ ہونے کا پتہ چلتا ہے۔ مالیگاوں، مکہ مسجد اور اجمیر کی درگاہ سے پہلے کئی ہندو مندروں میں بم دھماکے ہو چکے ہیں۔ سکیوریٹی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان تمام دھماکوں کا مقصد ملک میں فرقہ وارانہ فسادات برپا کرنا اور انتشار پیدا کرنا ہے۔ |
اسی بارے میں انڈیا میں حالیہ دھماکے اور حقیقت26 August, 2007 | انڈیا حیدرآباد، ایک شہر جو خاموش ہے۔۔۔26 August, 2007 | انڈیا ممبئی: ملزمان کا وکلاء پر عدم اعتماد06 September, 2007 | انڈیا اجمیر: مشتبہ افراد کے خاکے جاری23 October, 2007 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||