ممبئی: ملزمان کا وکلاء پر عدم اعتماد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مکوکا عدالت کے پرنسپل جج اے پی بھنگالے کی عدالت میں گیارہ جولائی دو ہزار چھ بم دھماکوں کے تیرہ ملزمان نے اپیل کی ہے کہ ان کے وکلاء کو کیس سے ڈسچارج کر دیا جائے۔ اس سے قبل ملزمان نے جج مردلا بھاٹکر پر بھی عدم اعمتاد ظاہر کرتے ہوئے اپنا کیس دوسری عدالت میں منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا جس کے بعد کیس جج اے پی بھنگالے کی عدالت میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ پرنسپل جج بھنگالے کی عدالت میں ملزمین نے کیس منتقل کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں جج پر بھروسہ نہیں ہے کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ جج جانبداری کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ’دو ملزمان کے اے ٹی ایس (انسداد دہشت گرد عملہ) کے سامنے دیے گئے مبینہ اقبالیہ بیان کی سی ڈی کو چند ٹی وی وی چینلز نے نشر کیا ہے۔ ملزمان کا کہنا ہے کہ اس سی ڈی پر پابندی لگائی جائے کیوں کہ یہ بیان اے ٹی ایس نے ان سے جبراً لیا تھا‘۔ ملزمان نے عدالت کو بتایا کہ کل اگر وہ بے قصور ثابت ہو جاتے ہيں تو بھی سماج میں انہیں غلط نظروں سے دیکھا جائے گا۔ ملزمین نے شبہ ظاہر کیا کہ پولیس نے جلد بازی میں دس ہزار صفحات پر مشتمل فرد جرم عائد کر کے عدالت میں پیش کر دی، جبکہ ان کے وکلاء کو اسے پڑھنے کی مہلت نہیں دی گئی۔ ملزمان نے الزام عائد کیا کہ اس صورت حال میں لگتا ہے کہ جج مردلا جانبداری اور جلد بازی سے کام لے رہی ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ ایسے حالات میں ان کے ساتھ انصاف نہیں ہو سکتا اس لیے وہ اس مقدمے کو دوسری عدالت میں منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ پرنسپل جج کے سامنے ابھی سماعت مکمل نہیں ہوئی ہے۔ مدھوبنی بہار سے گرفتار ملزم کمال انصاری اور بیلگام سے گرفتار جلگاؤں کے ملزم آصف خان کے وکیل افروز صدیقی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہیں بھی یہ اطلاع عدالت سے ملی کہ ان کے موکلین نے انہیں کیس سے ڈسچارج کر دیا ہے۔ صدیقی کا ماننا ہے کہ ان کا یہ طریقہ غلط ہے اور انہیں پہلے عدالت کے سامنے اس کی وجہ بیان کرنی ہوگی۔ لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ شروع سے ہی ملزمین اے ٹی ایس کے رویے اور جج مردلا بھاٹکر کی مبینہ جلد بازی سے پریشان تھے اور شاید اسی لیے وہ مہلت طلب کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر تنویر انصاری، کمال انصاری، آصف خان، ضمیر شیخ، نوید الحسن، سہیل شیخ، فیصل شیخ، احتشام قطب الدین، محمد ماجد، محمد علی شیخ، محمد ساجد، عبدالوحید، اور مزمل شیخ کے لیے چار وکلاء ایڈوکیٹ افروز صدیقی،شاہد اعظمی، مبین سولکر، اور فرحانہ شاہ ان کا دفاع کر رہے تھے۔ فرحانہ شاہ نے بھی کیس سے الگ کیے جانے پر لاعلمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ مکمل طور پر اس سے لاعلم ہیں اور ان کے موکل سہیل شیخ سے اس سلسلے میں ان کی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔ گیارہ جولائی کے دھماکوں کے ملزمان نے شروع سے ہی اپنی گرفتاری کو چلینج کیا تھا۔ شروع میں وکیل شاہد اعظمی نے ضمیر شیخ اور دیگر ملزمان کی جانب سے عدالت میں مکوکا قانون کے تحت ان کی گرفتاری کو چیلنج کیا تھا لیکن عدالت نے اسے مسترد کر دیا۔ انسداد دہشت گردی عملہ (اے ٹی ایس ) کے ایڈیشنل پولیس کمشنر پرم بیر سنگھ نے ملزمان کے مبینہ عدم تعاون کے رویے اور ہنگامہ برپا کرنے کو دہشت گرد تنظیم کی پالیسیوں کا ایک حصہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’اے ٹی ایس کے پاس ملزمان کے خلاف پختہ ثبوت ہیں جو انہیں عدالت میں قصوروار قرار دینے کے لیے کافی ہیں‘۔ اے ٹی ایس نے پچیس افراد کے خلاف الزامات عائد کیے ہیں۔ جن میں تیرہ ہندوستانیوں کے علاوہ باقی غیر ملکی ہیں۔ ان میں اعظم چیما کو بم دھماکوں کا اہم ملزم اور بم دھماکہ سازش کا ماسٹر مائنڈ بتایا گیا ہے۔ مکوکا عدالت نے ملزمان کے خلاف گزشتہ برس تیس نومبر کو دس ہزار صفحات پر مشتمل فرد جرم داخل کی تھی اس کے بعد اس سال اپریل میں اضافی فرد جرم بھی شامل کی گئی ہے۔ ملزمان کے بار بار ہنگامہ اور اپیل کی وجہ سے ابھی تک اس مقدمے کی باقاعدہ سماعت شروع نہیں ہوئی ہے۔ |
اسی بارے میں ممبئی: پولیس افسر کی پراسرار موت 29 August, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکہ : عبدالغنی قصوروار 19 September, 2006 | انڈیا فرقہ وارانہ فسادات: متاثرین کو انصاف ملےگا؟ 21 September, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||