نکسلی باغیوں کے لیے رعایتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہار میں ماؤ نواز انتہا پسندوں سے نمٹنے کے لیے حکومت ٹکراؤ کے راستے کے بجائے اب ان کے لیے ایک امدادی پیکیج کے ساتھ ساتھ ہتھیار ڈالنے کی شرائط کو بھی آسان بنانے پر غور کر رہی ہے تاکہ وہ قومی دھارے میں شامل ہو کر معمول کی زندگی گزار سکیں۔ حکومت بہار نے ماؤ نواز باغیوں کے لیے امدادی پیکیج پر گزشتہ برس عمل کرنا شروع کیا تھا لیکن ذرائع کے مطابق سرکاری سہولتیں اتنی کم اور شرائط اتی سخت تھیں کہ اب تک باغی ہتھیار ڈالنے سے گریز کرتے رہے ہیں۔ حالانکہ پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک درجنوں انتہا پسندوں نے خود سپردگی کی ہے جن میں کچھ سرکردہ انتہا پسند بھی شامل ہیں۔ بہار کے آئی جی پولیس (آپریشنس) اے کے بھاردواج نے بی بی سی کو بتایا کہ’ ہم سے کئی سرکردہ ماؤ نواز باغیوں نے رابطہ کیا ہے اور ہتھیار ڈالنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ اور ہم یہ محسوس کر رہے ہیں کہ اگر حکومت اپنی شرطوں کو اور آسان بنادے تو متعدد انتہا پسند اپنے ہتھیار ڈالنے کو تیار ہو جائیں گے۔‘ ہتھیار ڈالنے والے ماؤ نوازوں کو حکومت ان پر رکھے گئے انعام کی رقم ہٹانے کے علاوہ دو لاکھ روپے، ان کے بچوں کی تعلیم کا انتظام، رہائش و تحفظ، اور برسر روزگار ہونے تک ماہانہ تین ہزار روپے دینے کے ساتھ ساتھ اب دیگر کئی شرطوں کو آسان بنانے کو تیار ہے۔ اس کے علاوہ ان کے مقدمات کی سماعت کے لیے حکومت سرکاری خرچ پر وکیل تک دینے کوتیار ہے۔ پولیس کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ ماؤ نواز انتہا پسندوں کے ہتھیار ان کی تنظیم کے پاس ہوتے ہیں اور کسی ایک انتہا پسند کے پاس اسلحہ جمع نہیں ہوتا۔ ایسی صورت میں وہ چاہ کر بھی ہتھیار کے ساتھ خود سپردگی نہیں کر سکتے۔
اس لیے اب حکومت اسلحے کے ساتھ خود سپردگی کی شرط کو ختم کرنے پر غور کر رہی ہے۔ متعدد انتہا پسند میڈیا کے لوگوں سے رابطہ کر کے حکومت کے سامنے خود سپردگی کی شرطوں کو اور آسان بنانے کی بات کرتے رہے ہیں۔ ایس کے بھاردواج کا کہنا ہےکہ متعدد انتہا پسندوں نے ان سے رابطہ کر کے کہا ہے کہ اگر اسلحہ جمع کرنے کی شرطوں کے تحت وہ خود سپردگی کرتے ہیں تو اس سے پہلے ہی ان کی جان لی جا سکتی ہے۔ مدھیہ پردیش، آندھرپردیش، چھتیس گڑھ اور جھارکھنڈ کے ساتھ ساتھ بہار ماؤ نواز باغیوں کی مسلح تحریک سے بری طرح متاثرہ ریاست ہے۔ گزشتہ تین دہائی کی مسلح شورش میں اب تک ہزاروں لوگوں کی جانیں جا چکی ہیں۔ ان ریاستوں میں ماؤ نواز مسلح تحریک کی شدت اتنی بڑھ گئی ہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم منموہن سنگھ کو کہنا پڑا تھا کہ ہندوستان کے لیے ماؤنوازانتہا پسندی سب بڑا چیلینج ہے۔ بہار کے ایک اعلی اہلکار نے گزشتہ دنوں یہاں تک کہا تھا کہ ماؤنواز باغی تکنیک اور اسلحہ کے لحاظ سے بہار پولیس پر بھاری ہیں اور ایسی حالت میں ان سے نمٹنا کافی مشکل ہے۔ ماؤ نوام باغیوں کا دعویٰ ہے کہ ان کی تحریک غریبوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہے۔ |
اسی بارے میں ماؤنوازوں کا حملہ، پولیس اہلکار لاپتہ02 November, 2007 | انڈیا چھیتس گڑھ: 24 پولیس اہلکار ہلاک10 July, 2007 | انڈیا ماؤ نواز باغیوں کے اہم رہنما ہلاک23 June, 2007 | انڈیا ماؤ باغیوں کا حملہ، نو اہلکار ہلاک29 May, 2007 | انڈیا چھتیس گڑھ: 50 پولیس اہلکار ہلاک15 March, 2007 | انڈیا ’حکومت کسی دباؤ میں آنے والی نہیں‘07 January, 2007 | انڈیا بہار کے لوگ ریاست چھوڑنے پر کیوں مجبور؟07 January, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||