’بہار میں ہنی مون کڈنیپنگ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہار میں ’اغواء کی صنعت‘ کا ایک نیا برانڈ سامنے آیا ہے جسے پولیس کے حلقوں میں ’ہنی مون کڈنیپنگ‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں ’لالو کے بہار‘ کی بدنامی کا ایک بڑا سبب اغواء کی وارداتیں تھیں۔ جن کی وجہ تاوان تنازعات بتائے جاتے ہیں۔ نتیش کمار کی حکومت کے دور میں جب کئی حلقوں سے اغواء کے واقعات کی شکایتیں آئیں تو ریاستی انتظامیہ نے اعداد و شمار سے یہ بتانے کی کوشش شروع کر دی کہ جس واقعہ کو ’اغواء‘ بتایا جا رہا ہے وہ دراصل ’عشق میں فرار‘ ہونے کا معاملہ ہے۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے گزشتہ بدھ کو اسی معاملے میں ایک بحث کے دوران بتایا کہ اس سال جون کے مہینے تک اغواء کے تقریباًً چار سو ایسے واقعات ہوئے جو حقیقتاً ’لو میرج‘ کے معاملات تھے۔ بقول نتیش کمار ’اغواء کی دو سو شکایتوں کی تفتیش سے پتہ چلا کہ لڑکے اور لڑکیاں عشق میں گھر سے فرار ہوئے ہیں‘۔
ایسے معاملات پر گہری نظر رکھنے والے بہار پولیس کے ایک ڈی آئی جی گپتیشور پانڈے کہتے ہیں کہ ’ہنی مون کڈنیپنگ‘ کے اکثر معاملوں میں لڑکی کے اہل خانہ لڑکے کے گھر والوں پر اغواء کا مقدمہ درج کرا دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پولیس بڑی مشکل سے لڑکے اور لڑکی کو ڈھونڈ کر نکالتی ہے تو لڑکی عدالت میں یہ بیان دے دیتی ہے کہ وہ گھر والوں سے بچنے کے لیے اپنی مرضی سے لڑکے کے ساتھ رہ رہی ہے۔ پٹنہ یونیورسٹی میں سماجیات کے شعبہ کے ہیڈ پروفیسر سرفراز احمد کہتے ہیں کہ ’معاشرے میں کھلےپن اور قانونی حمایت کی وجہ سے بچے شادی میں والدین کی پسند پر اپنی پسند کو کہیں زیادہ ترجیح دینے لگے ہیں لیکن گھر والے اب تک اسے تسلیم کرنے کو تیار نہیں‘۔ ان کے مطابق گھر والوں کی دقت یہ ہے کہ بچے شادی کے لیے اپنی پسند میں ذات اور سماجی حیثیت کو نظر انداز کر دیتےہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مقدمے اکثر اس حالت میں ہوتے ہیں جب لڑکا اور لڑکی الگ الگ ذات یا مذہب کے ہوں۔ ان کے مطابق لڑکا لڑکی اگر اپنی ہی ذات میں ’لو میرج’ کی ضد کریں تو خود والدین اسے ’ارینج میریج‘ میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ اسی شعبہ کے پروفیسر وجے کمار لال کہتے ہیں کہ لڑکی کا کسی لڑکے کے ساتھ فرار ہو جانا گھر والوں کے لیے عزت کا مسئلہ بن جاتا ہے اسی لیے انہیں اغواء کا مقدمہ کرنا پڑتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اغواء کے واقعات کی یہ خانہ بندی سابقہ حکومت کے دور میں سامنے کیوں نہیں آئی؟ بہار پولیس میں ڈی آئی جی گپتیشور پانڈے نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ پٹنہ ہائی کورٹ ریاست میں اغواء کے واقعات کو خود مانیٹر کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہائی کورٹ ہر ضلع سے اغواء کے واقعات کے اعداد و شمار عدالتی ذرائع سے حاصل کرتی ہے۔ اس سلسلے میں پولیس پر جب اغواء کے واقعات روکنے کے لیے دباؤ بڑھا تو اس نے اغواء کے وجوہات جاننے کی کوشش کی۔ بقول مسٹر پانڈے: ’اب تاوان یا قتل کے لیے اغواء کے واقعات کم کم ہو رہے ہیں لیکن مجموعی طور پر یہ تعداد محبت میں فرار ہونے کی وجہ سے زیادہ ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ ’ہنی مون کڈنیپنگ‘ کے جتنے معاملے پولیس درج کرتی ہے اس سے کئی گنا زیادہ معاملے پیش آتے ہیں لیکن گھر والے بدنامی کے ڈر سے اس کی شکایت پولیس کے پاس نہیں کرتے۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق گزشتہ چھ ماہ میں تقریباً ڈیڑھ سو لوگوں کا اغواء قتل کے لیے اور پچاس لوگوں کا اغواء تاوان کے لیے کیا گیا ہے۔’اس کے علاوہ اغواء کے تقریباً ڈھائی سو مقدموں میں پتہ چلا کہ گھریلو جھگڑے میں گھر سے بھاگنے کے معاملات تھے‘۔
شادی کے لیے اغواء کے اکثر مقدمے پولیس اس لیے بند کر دیتی ہے کہ لڑکی کورٹ میں یہ بیان دے دیتی ہے کہ اس کا اغواء نہیں ہوا بلکہ اس نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے۔ پولیس بھی لڑکی کے اغواء کے مقدموں کو ابتدائی طور پر پیار کا معاملہ سمجھ کر ہی تفتیش شروع کرتی ہے۔ ڈی آئی جی گپتیشور پانڈے کہتےہیں کہ انہوں نے تمام اضلاع کے ایس پی کو ہدایت جاری کہ ہے کہ لڑکی اگر بالغ ہو اور شادی مرضی سے ہوئی تو لڑکے کے گھر والے پر کسی سختی سے پرہیز کریں۔ بہار میں کچھ برس پہلے تک شادی کے لیے اغواء کے واقعات کی ایک مختلف نوعیت تھی۔ ایک طبقہ ایسا تھا جو جہیز سے بچنے کے لیے لڑکے کو اغواء کر لیتا تھا اور لڑکے سے لڑکی کے مانگ میں سیندور ڈلوا کر شادی کا اعلان کر دیتا تھا۔ اب ایسے واقعات پیش نہیں آتے۔ گپتیشور پانڈے بتاتے ہیں کہ ایسی شادیوں کی ناکامی کے بعد یہ طریقہ بند ہوا ہے۔ ان کے مطابق ایسی شادیوں میں لڑکا کبھی سسروال والوں کو عزت نہیں دیتا تھا اور اب لڑکیاں بھی اس کے خلاف اپنی آواز بلند کر دیتی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||