’مجھے یہیں مرنے کی اجازت دے دو‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی تقسیم اور قیام پاکستان کو ساٹھ برس ہو چکے ہیں لیکن ماضي کی تلخ سچائیاں بٹوارے میں تقسیم ہو جانے والے خاندانوں کا پیچھا نہیں چھوڑ رہی ہیں۔ حاجی شیخ منظور کی عمر نوے برس ہے۔ وہ پاکستانی شہری ہیں اور وہ لمبے عرصے کے بعد، ہندوستان کی ریاست بہار میں رہنے والے اپنے بیٹے اور پوتے پوتیوں سے ملے ہیں۔ شیخ منظور بہار کے سمستی پور ضلع کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ وہ محکمہ ڈاک اور ٹیلی گراف میں کام کرتے تھے اور مسلسل تبادلوں کے سبب تقسیم کے بعد پاکستان رہ گئے تھے۔ اب وہ اپنی باقی زندگی بہار میں ہي گزارنا چاہتے ہیں اور یہیں کی مٹی میں دفن ہونا چاہتے ہیں لیکن قانونی پیچیدگیاں ان کی آخری تمنا کے پورا ہونے میں پریشانی بنی ہوئی ہیں۔ ریاستی محکمہ داخلہ نے انہیں ایک نوٹس بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان کے ویزا کی معیاد ختم ہوچکی ہے اور وہ جلد سے جلد واپس پاکستان چلے جائیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اگر شیخ منظور جلد پاکستان واپس نہیں جاتے ہیں تو قانون کے تحت انہیں جبراً ملک سے بھیج دیا جائے گا۔ مسٹر شیخ گزشتہ برس جولائی میں دو مہینے کے ویزا پر سمستی پور میں اپنے آبائی گاؤں بھیروکھارا آئے تھے لیکن بعد میں طبی وجوہ کی بنیاد پر ان کے ویزا کی مدت میں توسیع کردی جو اس برس تیس اپریل کو ختم ہو چکی ہے۔ شیخ منظور واپس پاکستان نہیں جانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑھتی عمر کے سبب وہ پوری طرح سے لاچار ہیں۔ ان کی ریڑھ کی ہڈي ٹوٹی ہوئی ہے اور انہیں سننے اور دیکھنے میں بھی دقت کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میں کسی مدد بغیر چل پھر نہیں سکتا۔ کھانا بھی مجھے دوسرے لوگ کھلاتے ہیں۔ پاکستان میں میری دیکھ بھال کے لیے کوئی نہیں ہے۔ میں ہندوستان کی حکومت سے گزارش کرتا ہوں وہ کہ مجھے یہیں مرنے کی اجازت دیدے‘۔
ان کے گھر والوں نے ریاستی حکومت سے درخواست کی ہے مسٹر شیخ کو تب تک ہندوستان میں رہنے کی اجازت دی جائے جب تک وہ جسمانی طور پر صحت مند نہ ہوجائیں لیکن ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں کچھ نہیں کر سکتی۔ بہار کے داخلہ سکریٹری افضل امان اللہ کا کہنا ہے کے ’یہ معاملہ وزاراتِ داخلہ اور وزارات خارجہ کا ہے اور یہی وزارات مسٹر شیخ کو ہندوستان میں رہنے کی اجازت دے سکتی ہے۔ اس معاملے میں ہمارا کوئی عمل دخل نہیں ہے‘۔ شیخ منظور کے بیٹے حیات محمد کا کہنا ہے کہ سنہ 1969تک ان کے والد سے ان کا باقاعدہ رابطہ تھا لیکن 1971میں بنگلہ دیش جنگ کے دوران انکا رابط ختم ہوگیا۔ انہوں اپنے والد کا پتہ لگانے کے لیے ریڈ کراس اور ایمنیسٹی انٹرنیشنل سے رابطہ قائم کیا لیکن کوئی مدد حاصل نہیں ہوئی۔
مسٹر شیخ کے چھوٹے بیٹے امین محمد کا کہنا کہ تمام کوششوں کے باوجود جب ان کے والد کا پتہ نہیں چلا تو، ان کے الفاظ میں ’ہم نے سوچ لیا کہ شاید اب ہمارے والد اس دنیا میں نہیں رہے ہیں اور ہم نے انکی آخری رسومات بھی ادا کر لیں‘۔ 1980کے عشرے میں مسٹر شیخ نے اپنے گھروالوں کو ایک خط بھیجا جس میں انہوں نے لکھا کہ وہ کراچی میں رہ رہے ہيں اور اس کے بعد سے ان کے خاندان کا ان سے رابطہ ممکن ہوا۔ سنہ دوہزار چھ میں مسٹر شیخ نے اپنے بیٹوں سے انہیں واپس ہندوستان لے جانے کو کہا کیونکہ اس وقت تک وہ بوڑھے ہو چکے تھے اور پاکستان میں ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ دو ہزار چھ میں امین محمد پاکستان گئے اور اپنے والد کو ہندوستان واپس لے آئے اور اب عمر رسیدہ شیخ منظور اپنا آخری وقت ہندوستان میں اپنے بچوں کے ساتھ گزارنہ چاہتے ہیں۔ |
اسی بارے میں 1947 کے فسادات پر کامیاب فلم27 October, 2003 | صفحۂ اول ’طلوع صبح آزادی‘ 14.08.2002 | صفحۂ اول ’ تحریک آزادی کا زور ٹوٹ گیا ہے‘19 December, 2006 | پاکستان ’آزاد‘ کشمیر میں آزادی پر سوالات21 September, 2006 | پاکستان 1857 کی جنگ، جہاد یا جنگ آزادی07 September, 2006 | صفحۂ اول بھگت سنگھ: تاریخی فلموں کی لہر07.06.2002 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||