BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 27 October, 2003, 19:56 GMT 00:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
1947 کے فسادات پر کامیاب فلم

pinjar film poster
انیس سو سینتالیس کےفسادات پر ایک نئی فلم

کچھ عرصہ قبل امرتسر میں اور اس کے بعد واہگہ کی سرحد پر زیرِ تکمیل فلم ’پنجر‘ کا میوزک ریلیز کیا گیا تو اسکی بھرپور پذیرائی ہوئی اور دونوں ملکوں کے ذرائعِ ابلاغ نے تقسیمِ ہند کے موضوع پر بننے والی اس فلم پر تفصیلی معلومات فراہم کیں۔

تکمیل اور سینسر کے تمام مراحل عبور کرنے کے بعد اب یہ فلم دنیا بھر میں نمائش کے لئے پیش کر دی گئی ہے۔

اس فلم کی کہانی اگرچہ امرتا پریتم کے ناول سے ماخوذ ہے لیکن حقیقتاً یہ ہدائتکار اور آرٹ ڈائریکٹر کی فلم ہے۔

ڈاکٹر چندر پرکاش دریویدی (ہدائتکار) اور منیش سیپل (آرٹ ڈائریکٹر) کی جوڑی اس سے پہلے ٹی وی سیریل ’چانکیہ‘ میں اپنے کام کا لوہا منوا چکی ہے۔

آرٹ ڈائریکٹر منیش سیپل فلمی کام کا خاصا تجربہ رکھتے ہیں اور پنِجر سے پہلے جانور، دامن اور ’شہید ادھم سنگھ‘ جیسی فلموں کے سیٹ لگا چکے ہیں لیکن ڈاکٹر دریویدی کی بطور ہدائتکار یہ پہلی فلم ہے۔

عام مشاہدے کی بات ہے کہ فلمی دنیا سے جوہدایتکار چھوٹی سکرین کی طرف گئے ہیں انھوں نے وہاں جاکر کامیاب ٹی وی سیریل تیار کئے ہیں لیکن جو ڈائریکٹر ٹیلیویژن سے بڑی سکرین کی طرف گئے ہیں ان میں سے بیشتر بری طرح ناکام ہوئے ہیں لیکن چندر پرکاش دریویدی نے اس روایت کے برعکس اپنی پہلی ہی فلم میں ثابت کر دیا ہے کہ وہ بڑی سکرین کا مسالہ بھی پوری مہارت سے استعمال کر سکتے ہیں۔

’پنجر‘ کی کہانی تقسیمِ ہند اور فسادات کے جس خاص پہلو کا احاطہ کرتی ہے وہ ہے : سرحد کے دونوں جانب عورتوں کا اغواء اور ان کی بازیابی پر پیش آنے والے معاشرتی مسائل۔

امرتسر کے ایک کھاتے پیتے ہندو گھرانے کی بیٹی ( اُرملا مٹونڈکر) اپنے گاؤں میں قیام کے دوران رشید نامی ایک مسلمان لڑکے (منوج واجپئی) کی ہوس اور جذبہءانتقام کا شکار ہو کر آخرِ کار اسکے نکاح میں آ جاتی ہے اور اپنے اصل محبوب ( سنجے سوری) سے ہمیشہ کے لئے بچھڑ جاتی ہے۔

واقعات کے ایک متوازی سلسلے میں سنجے سوری کی بہن (سندالی سنہا) تقسیم کے ہنگاموں میں اغواء ہو جاتی ہے۔

انیس سو چھیالیس میں شروع ہونے والی یہ کہانی انیس سو اڑتالیس کے ایک سرحدی مہاجر کیمپ میں ختم ہوتی ہے جہاں دونوں جانب کی باز یافتہ عورتیں اپنے اپنے ناکردہ گناہوں کی گٹھریاں سروں پہ اٹھائے کھڑی ہیں اور ان فوجی ٹرکّوں کو پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہی ہیں جو انھیں وطن لے جانے کے لئے اپنے انجن سٹارٹ کر چکے ہیں۔

بھارت میں فلمی مبصّرین نے ’پنجر‘ کو دل کھول کے داد دی ہے اور موضوع کے اچھوتے پن کو خاص طور پہ سراہا ہے لیکن حیرت انگیز طور پر کسی مبصّر نے بھی پینتالیس برس پہلے پاکستان میں بننے والی فلم ’ کرتار سنگھ‘ کا حوالہ نہیں دیا جس میں باز یافتہ عورتوں کا مسئلہ پہلی بار پیش کیا گیا تھا۔

امرتا پریتم کی معروف نظم ’اج آکھاں وارث شاہ نوں‘ بھی پہلی مرتبہ فلم کرتار سنگھ میں پس منظر موسیقی کے طور پر استعمال ہوئی تھی اور اس نظم کو عوامی مقبولیّت اور شہرت کرتار سنگھ ہی کی بدولت حاصل ہوئی تھی۔

فلم ’پنجر‘ میں ہدائتکار کی مضبوط گرفت کے بعد اگر کوئی چیز متّاثر کرتی ہے تووہ منیش سیپل کے تیار کردہ سیٹ ہیں جنہوں نے انیس سو سینتالیس کا پنجاب جیتی جاگتی شکل میں ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔

اس زمانے کے امرتسر کی دیواروں پر چسپاں اردو اشتہار اور دکانوں کے اردو بورڈ ضمنی طور پر ایک اور کہانی بھی سناتے ہیں: ہندوستان سے اردو کے دیس نکالے کی کہانی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد